• نازکا کی پُر اسرار لکیریں . منصور آفاق
    دیوار پہ دستک

    نازکا کی پُر اسرار لکیریں

    نازکا لائنز افسانوی لگتی ہیں مگر کیا کیا جائے وہ موجود ہیں اور چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ہمارے اسرار کو کھول کر دکھائو مگر ماہرین خاموش ہیں ۔ تقریبا 200 مربع میل لکیروں کی مدد بنائی یہ تصویریں حیرت انگیز ہیں ۔ایک ایک تصویر ایک ایک فرلانگ پر پھیلی ہوئی ہے وسیع پیمانے پر بندروں کی تصویریں ،مکھیوں کی تصویریں مچھلیوں کی تصویریں ۔ چھتریوں کی تصویریں ، لینڈنگ زون ، یہ سب کچھ ہزاروں سال پہلے بنایا گیا ۔ انہیں دیکھنے کےلئے ضروری ہے کہ آدمی انہیں ہیلی کاپٹر یا جہاز میں بیٹھ کر دیکھے کیونکہ زمین سے تو کچھ اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ…

  • دیوار پہ دستک

    آخری رسومات

    آخری رسومات یہ اگست دوہزار سولہ کے آخری ہفتے کا ایک سرد ترین دن تھا ۔میں نے مانچسٹر میں کاشف سجاد کی کتاب ’’پاکستان میری پہچان ‘‘ کی تقریب رونمائی کی صدارت کرنا تھی ۔بابر اعوان اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے ۔یہ ان کے ساتھ میری پہلی ملاقات تھی ۔ان دنوں میں بھی نون لیگ کی حکومت کے خاتمے کی پیشن گوئیاں عروج پر تھیں ۔ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے جلسے جاری تھے۔میں نےبابر اعوان سے اس سلسلے میں سوال کیا کہنے لگے ’’ابھی نہیں ، شاید اگلے سال اسی مہینے میں نون لیگ کی ختم ہوجائے ‘‘سہیل ورائچ نے ابھی دو دن پہلے اپنے کالم میں…

  • دیوار پہ دستک

    جولائی اِن ٹارگٹ ۔ جے آئی ٹی

    جولائی اِن ٹارگٹ ۔ جے آئی ٹی بارہ جون کے کسی اخبار میں یہ خبر نہیں تھی کہ آج وزیر اعظم محمد نواز شریف سعودی عرب روانہ ہونگے ۔یہ خبر ضرورتھی کہ آج عرب بحران کے حل کےلئے وزیر اعظم نے عرب سفیروں کی ایک کانفرنس بلائی ہے ۔جس میں امور خارجہ کے کچھ ماہرین شریک ہونگے اس کے علاوہ عرب دنیا متعین پاکستانی شرکت کریں گے ۔بارہ تاریخ کو یہ کانفرنس ہوئی ۔کانفرنس کے اختتام پروزیر اعظم نے فوری طور پرسعودی عرب جانے کا اعلان کردیا ۔اور پھرتھوڑی دیر کے بعد ان کا جہاز ہوا میں تھا ۔جہاز نے بارہ تاریخ ہی کے دن جدہ ایئرپورٹ پرلینڈ کیا۔وزیر اعظم…

  • دیوار پہ دستک

    گارڈ فادر کے بعد سسیلیئن مافیا

    گارڈ فادر کے بعد سسیلیئن مافیا تلخی ، تنائو ،بدمزگی جھگڑے تک پہنچتی ہوئی لگ رہی ہے ۔جب سے پانامہ لیکس کا کیس عدالت عظمی کی عمارت میں داخل ہوا ہے پوری قوم کی آنکھیں اُسی کے دروازہ پر لگی ہیں اور حکومت کو بھی لگ رہا ہےکہ فیصلہ اُس کے حق میں نہیں آرہا۔سو حکومت پریشان ہے اور پریشانی سے نہال ہو کرایسے کام کرتی چلی جارہی ہے جس کی وجہ سے تلخی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ایک طرف سفید کا غذ پرحکومت جج صاحبان کے ریمارکس کوافسوسناک قرار دے رہی ہے تودوسرے طرف سپریم کورٹ یہی کہہ رہا ہے کہ ہم دھمکیوں سے مرغوب…

  • دیوار پہ دستک

    توہینِ اقبال

     توہینِ اقبال میں جاگاتو کنارِچشمہ ء ارمغانِ حجاز دیرتک علامہ اقبال سے گفتگو کرتا رہاجب اقبال نےکہاکہ’’فلسفی کو سچائی جاننے کی کوئی ضرورت نہیں اسے ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے جو انسانی زندگی کو درپیش ہیں‘‘تومیں اٹھ کھڑا ہوااورفلسفہ ء اقبال پر لکھی ہوئی تمام کتابیں میانوالی کی مونسپل کمیٹی کی لائبریری میں دے آیا۔جہاں اس سے پہلے بھی انقلاب کے کئی فلسفے منشی سیف اللہ نے بھاری بھرکم تالوں میں رکھے ہوئے تھے میں ان الماریوں کےعقوبت خانوں میں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا۔ مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ فلسفی سچائی کی تلاش میں نکلا ہوا سائنس دان نہیں ہوتا۔میں نے اقبال سے پوچھ لیا تھا…

  • پاکستانی مجاہد صرف پاکستانی فوجی ہیں. منصورآفاق
    دیوار پہ دستک

    پاکستانی مجاہد صرف پاکستانی فوجی ہیں

    پاکستانی مجاہد صرف پاکستانی فوجی ہیں میں نے ایک بار احمد فراز سے پوچھا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کیا ہے تو انہوں نے کہا تھا۔”بھارت کے ساتھ ہر سطح پر جنگ ۔ کشمیر کی جنگ ، آزادی کی جنگ ہے حق ِ خود ارادیت کی جنگ ہے اور ہر آزاد ضمیر کو اس کا ساتھ دینا چاہئے ۔میں نے زندگی بھرقلم کے ساتھ کشمیر کی جنگ جاری رکھی ہے مگراس کا آغاز بندوق اٹھا کر کیا تھا” اور پھر احمد فراز اپنے یادوں میں کھو گئے ”کالج کے دنوں میں ہم پچیس چھبیس جوان اس مقصد کے لئے چن لئے گئے گرمیوں کی چھٹیاں ہونے والی تھیں ہمیں…

  • دیوار پہ دستک

    قانون سے لمبے ہاتھ

    قانون سے لمبے ہاتھ میں ابھی تھوڑی دیر پہلے نماز تراویح کے بعد کچھ نمازیوں کے ساتھ گپ شپ کیلئے مسجد میں کھڑا ہوگیا تھا۔یہ برطانیہ کی ایک مسجد تھی مگر ہر شخص کی گفتگو کا موضوع پاکستان تھا ۔اور سب کا روئے سخن میری طرف تھا ۔چھ آدمیوں کی بارہ آنکھیں میرے چہرے پر اپنے دل کا احوال لکھ رہی تھیں ۔مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ میں مرکزِ نگاہ روزنامہ جنگ کے کالم کی وجہ سے بنا ہوا ہوں ۔پہلا آدمی گویا ہوا ”منصور بھائی !پاکستان میں قانون شکنوں کے ہاتھ قانون سے زیادہ لمبے ہوگئے ہیں ۔ کبھی کسی ملک میں چیف جسٹس کا بیٹا بھی اغواہوا۔پتہ ہے…

  • کہانی ختم سمجھو . منصور آفاق
    دیوار پہ دستک

    کہانی ختم سمجھو

    کہانی ختم سمجھو کسی حجرہ کے چراغ کی لو ہوا سے کہہ رہی ہے ۔ کہانی ختم سمجھو۔بے شک ہربل کھاتی ہوئی کہانی کو کسی نہ کسی موڑ پر تمام ہونا ہی ہوتاہے ۔یہ کہانی بھی اُن سطور سے ہم آغوش ہونے والی ہے جن کے بعد”ختم شد ” کا بورڈ آویزاںکردیا جاتا ہے یا اختتامی لکیر کھینچ دی جاتی ہے۔کچھ کرداراِس کہانی سے نکل کر ایک کہانی بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔دوسروں کی طرح میں بھی ان کی کامیابی کیلئے دعاگو ہوں مگرالطاف حسین کی کہانی کے اختتامیہ سے اِس بات کا کوئی تعلق نہیں کہ کچھ کردارایک کہانی چھوڑ کرکسی دوسری کہانی میں داخل ہو گئے ہیں…

  • دیوار پہ دستک

    دیبل پورکے درد میں

    دیبل پورکے درد میں پھر یوں ہوا کہ باطن کے گلاس میں سمندر پڑے پڑے صحرا بن گیا۔مچھلیاں سن باتھ کرنے لگیں۔ایک ایک کیکرکے درخت سے سوسو کچھوے لٹک گئے۔صدیوں کے پیٹ سے ٹائی ٹینک نے نکل کرموٹیل کا روپ دھار لیا۔موٹیل کے ڈانسنگ روم میںڈالروں بھری چڑیلوں کے ساتھ آژدھوں کا رقص جا ری ہے۔ڈائننگ ٹیبل پر بھیڑیے بیٹھے ہوئے خون اور شراب کی کاک ٹیل پی رہے ہیں ۔میک اپ زدہ روباہیںانسانی گوشت سرو کر رہی ہیں۔ بار روم میںتیل بیچ کراونٹ اونگھ رہے ہیں ۔جم میں غزال اپنی ٹانگوں کے مسل مضبوط کرنے میں لگے ہیں۔مساج ہاﺅس گھوڑوں سے بھرا ہوا ہے ۔ہیر ڈریسر بلیاں کتوں کے…

  • دیوار پہ دستک

    ریل گاڑی کیسے چلتی ہے

    ریل گاڑی کیسے چلتی ہے اس نے کہا ”میں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کانام ہے ”گھوڑا کیسے بھاگتا ہے“میں نے پوچھا ”کیا سیاسی گھوڑوںکی سرگزشت ہے“ ´کہنے لگا ”ہر شعبے کے گھوڑے اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔میری کتاب یک بھرپور علامت ہے۔اس کے ہر صفحے پر زندگی رواں دواں ہے اور پھر بزم میں موجود اہل دانش و بینش نے کتاب کے نام کا سہارا لے کر ایک پارٹی سے دوسری پارٹی جانے والے سیاست دانوں کے خوب لتے لئے ۔اپنی سیاسی وابستگیاں بدلنے والے میڈیا کے گھوڑوں کا ذکر بھی آیا۔وہ اسلامی گھوڑے بھی زیر ِ موضوع آئے ۔ جو کسی زمانے میں واشگٹن کے…