• دیہاڑی دار
    دیوار پہ دستک

    دیہاڑی دار

    دیہاڑی دار کا نام علاءالدین تھا، مگر گاؤں والے اسے صرف ‘علو’ کہتے تھے، اسی ایک لفظ میں اس کی پوری زندگی کا وزن رکھے ہوئے۔ صبح جب سورج ابھی آنکھیں مچلتا تھا تو علّو اپنے پاؤں پتھروں پر گھسیٹتا ہوا سڑک کی طرف نکل جاتا — وہی سِیڑھی جس کے نیچے چائے کا چھوٹا سا ڈکان تھا، جہاں سے وہ دن کی پہلی چائے کا دو گھونٹ لیتا، صبح کی پہلی ہنسی سن لیتا اور پھر مزدوری کے سلسلے کی تلاش میں کھنڈراتی دنیا کی طرف نکل پڑتا۔ اس کی کمر پر سالوں کی لوٹ سیٹ چمٹی رہتی، ہاتھوں پر وہ نقوش جو پتھر، سیمینٹ اور لوہے کی روز…