• صاحبِ عزت کون . mansoor afaq
    دیوار پہ دستک

    صاحبِ عزت کون

    صاحبِ عزت کون ’’خانۂ لاشعور میں کھڑکیاں بج رہی تھیں۔ چمکتی بجلیوں میں پنجابی فلموں کے ہیرو صور پھونک رہے تھے ۔بادلوں میں روشنیوں کی رقاصہ آخری کتھک ناچ رہی تھی۔ بھادوں بھری شام کے سرمئی سیال میں زمین ڈوبتی چلی جا رہی تھی ۔پگھلا ہوا سیسہ سماعت کا حصہ بن گیا تھا ۔مرتے ہوئے سورج کی چتا میں ڈوبتے ہوئے درخت چیخ رہے تھے۔پرندوں کے پروں سے آگ نکل رہی تھی ۔ ٹوٹتے تاروں کے مشکی گھوڑوں کی ایڑیوں سے اٹھتی ہوئی کالک زدہ دھول میں کائنات اور میں گم ہو چکے تھے۔ اسٹریٹ لائٹ کی آخری لو بھاپ بنتی ہوئی تارکول میں ضم ہوچکی تھی۔ سائے دیواروں کو…