• دیوار پہ دستک

    شیزوفرینک بوڑھا

    شیزوفرینک بوڑھا منصورآفاق ’’او پگلے! کوئی طوفان، کوئی خوفناک حادثہ، کوئی ہولناک واقعہ، کوئی کرب کے دوزخ سے نکلی ہوئی تاریخ بدلنے کی ساعت، کوئی ٹوٹتی زمین کی دہشت خیز آواز، کوئی ساکت ہوتی زندگی، کوئی پاکستان ٹیلی وژن کی اسکرین پر چہرے بدلتی ہوئی رات، کوئی اجتماعی سماعت شکن دھماکہ۔ کچھ بھی نہیں۔ کوئی تیز رفتار ریل گاڑی کسی ایسی سرنگ سے نہیں گزر رہی جِس کا دوسرا دہانا بند ہو۔ وسوسے نکال دو دماغ سے‘‘۔ میں نے ایک واہموں بھرے یعنی شیزو فرینک بوڑھے شاعر کو سمجھاتے ہوئے کہا مگر وہ میری بات سننے پرتیار ہی نہیں تھا۔ اس نے عنکبوت کی طرح اپنے گرد جو جالا بُن…