• محبت کےلئے تین نظمیں
    دیوار پہ دستک

    محبت کےلئے تین نظمیں

    محبت کےلئے تین نظمیں نئی سوچ کتابوں میں رکھے ہوئے خواب دیمک زدہ ہو گئے ہیں زندگی کمپیوٹر کی چِپ میں کہیں کھو گئی ہے اڑانوں کے نوچے ہوئے آسماں سے چرائے ہوئے چاند تارے مری خاک کی تجربہ گاہ میں اب پڑے۔۔ ڈر رہے ہیں زمیں اپنے جوتوں کی ایڑھی کے نیچے انہیں نہ لگادے کہیں اجالوں کی رحمت بھری دھوپ چمگادڑوں کی نظر میں ملا دی گئی ہے عجائب گھروں میں پرانے زمانے کی مضبوط انگیا اور ماضی سے وابستہ شہوت کی کھالیں سجادی گئی ہیں اک امرد پرستی کے بازار کے بدعمل پادری کے گلے کی صلیبیں مسیحا کی چھاتی کی زینت بنا دی گئی ہیں ازل…