ہاں یہ اقبال کا پاکستان نہیں
ہاں یہ اقبال کا پاکستان نہیں میں ہولی ووڈ کی اذان پر جاگاتو کنارِچشمہ ء ارمغانِ حجاز دیرتک علامہ اقبال سے گفتگو کرتا رہاجب اقبال نےکہاکہ’’فلسفی کوسچائی جاننے کی کوئی ضرورت نہیں اسے ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے جو انسانی زندگی کو درپیش ہیں‘‘تومیں اٹھ کھڑا ہوااورفلسفہ ء اقبال پر لکھی ہوئی تمام کتابیں میانوالی کی مونسپل کمیٹی کی لائبریری میں دے آیا۔جہاں اسسے پہلے بھی انقلاب کے کئی فلسفے منشی سیف اللہ نے بھاری بھرکم تالوں میں رکھے ہوئے تھے میں ان الماریوں کےعقوبت خانوں میں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا۔مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ فلسفی سچائی کی تلاش میں نکلا ہوا سائنس دان نہیں ہوتا۔میں…
امید ، صبر اور اعتماد
امید ، صبر اور اعتماد میں اوجڑی کیمپ کا سانحہ ہوا اسلام آباد اور راولپنڈی میں میزائلوں کی برسات ہوئی اس حادثہ میں تیرہ سو افراد جاں بحق ہوئے ۔ان دنوں محمد خان جونیجو پاکستان کے وزیر اعظم تھے انہوں نے اس حادثہ کی تحقیقات کےلئے ایک کمیشن بنایاجس کے نتیجے میں صرف ایک ماہ کے بعد جنرل ضیا الحق نے قومی اسمبلی سمیت محمد خان جونیجو کوسندھڑی بھیج دیا ۔کارگل کی جنگ کے خاتمے کے بعد میاں نواز شریف نے جنگ کی تحقیقات کےلئے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تو انہیںجنرل پرویز مشرف نے کال کوٹھڑی میں پہنچا دیا۔اس وقت پھر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے احتجاجی…
انٹرویو کے مقاصد
انٹرویو کے مقاصد منصور آفاق وہ جن کے کاندھوں پر ستارے چمکتے ہیں ان کی بے کراں حکمرانی کواکثر سیاست دان ظلمتِ شب سے تعبیر کرتے ہیں۔چونکہ انہی کے سبب پیپلز پارٹی کو تین مرتبہ اور نون لیگ کو دو مرتبہ اقتدار سے علیحدہونا پڑا ہے اس لئے وہ عسکری قیادت سے لاشعوری اورشعوری دونوں سطحوں پرمخاصمت رکھتی ہیں۔ان کے خیال میں لا محدود طاقت کے اِس وجود بوتل میں بند کئے بغیراصلی حکمرانی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔اپنی مرضی کے چراغ نہیں چل سکتے ۔نسل در نسل چلنے والی سلطنت قائم نہیں ہوسکتی۔ان کے سینوں میں افواجِ پاکستان کا بجٹ تیر کی طرح پیوست رکھتا ہے ۔انہیں کیوں…
اسد عمر سے جنرل عمر تک
اسد عمر سے جنرل عمر تک منصور آفاق انیس سو کہتر کی پاک بھارت جنگ میں روشنی ہار گئی تھی ۔ ظلمتِ شب کو فتح نصیب ہوئی تھی۔بین الاقوامی تاریکیوں نے مملکتِ خداداد کے سیاہ دھبوں سے مل کرایسی خوفناک سازش کی تھی جس کا تدارک روشنیوں کے رکھوالے نہیں کر سکے تھے ۔انہوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں ۔جرات و شجاعت کی لازوال داستانیں رقم کیں مگرسفاک نتائج سے اپنی دھرتی کو محفوظ نہ رکھ سکے۔درد کے موسموں میں بہادری کے ماتھوں پرسجے ہوئے نشان حیدرآج بھی عظیم قربانیوں کے تابناک گواہ ہیں ۔میجر شبیر شریف جیسے شہیدوں کو قوم کیسے بھلا سکتی ہے ۔راشد منہاس کا نام…
موازنہ فیض و فراز
موازنہ فیض و فراز مجھے ادب کے بڑوں نے کہا کہ غالب اور اقبال کے بعد تیسرے بڑے شاعر فیض احمد فیض ہیں حتیٰ کہخوداحمد فراز نے بھی میرے کان میں یہی سرگوشی کی۔ میں کسی کوکچھ نہ کہہ سکا مگر میں نے احتجاجاًاپنے قلم پر ایک سیاہ رنگ کی پٹی باندھ لی ۔ممکن ہے میرا احتجاج کچھ روشن دماغوں کوملگجا لگے۔ بہتر ہے کچھ دیرکیلئے کھڑکیوں سے پردے اٹھا دیجئے ۔میں دن کی روشنی میں بات کرنا چاہتا ہوں ۔میرے پاس دکھائی دینے والے دلائل ہیں اور نظر کی عینکیں بھی۔ان عینکوں کے فریموں میں وہی عدسے ہیں جنہوں نے کتنےہی مسلمات کو پر کھا تو ان کی کرچیاں…
بھینسوں کا سوئمنگ پول
بھینسوں کا سوئمنگ پول سپریم کورٹ میں بتایا گیاکہ فوزیہ بہرام کو بھینسوں کا سوئمنگ پول بنانے کیلئے حکومت کی طرف سے کروڑوں روپے دیئے گئے جس پر عدالت عالیہ نے حیرت سے پوچھا کہ کیااب بھینسیں بھی سوئمنگ کیا کریں گی۔ یہ خبر سننے میں آئی ہے کہ لاہور میں بھینسوں نے ایک احتجاجی جلوس نکالا کہ قدرت نے ہمیں سوئمنگ کا فن سکھایا ہے۔تیرنا ہماری جبلت میں موجود ہے ۔کسی کو ہماری سوئمنگ پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ بھینسوں کی لیڈر نے باڑے میں جلوس کے اختتام پر تقریر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گرمی کی شدت بہت زیادہ ہے سو فوری طور پر…
ایک دن سہیل وڑائچ کے ساتھ
ایک دن سہیل وڑائچ کے ساتھ مجھے یہ سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ سہیل وڑائچ کون ہیں ۔وہ کہاں پیدا ہوا تھے کب پیداہواتھے میرے لئے یہی کافی ہے کہ سہیل وڑائچ ایک سچے انسان ہیں اور انسانوں کے اس عالمگیر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جن کے دل دھڑکتے ہیں ۔جن کی آنکھیں دوسروں کے درد پر نم ہوتی ہیں ۔جو ہمیشہ صبحوں کے خواب دیکھتے ہیں ۔جن کے قلم سے روشنی نکلتی ہے ۔ سہیل وڑائچ کے متعلق کچھ لکھتے ہوئے مجھے ایک چھوٹا سا بچہ گالف ریڈ مائر یاد آگیا ۔بہت سال پہلے بنجمن فرینکلن پر مختصر سے مختصر مضمون لکھنے کاعالمی مقابلہ فرینکلن لائبریری والوں…
اگست آنے والا ہے
اگست آنے والا ہے دو دنوں کے بعداگست کا مہینہ شروع ہونے والا ہے ۔علم اعداد اور علم نجوم کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کےلئے سعد مہینہ ہے۔یعنی بہتری کا مہینہ ہے ۔نئی اور اچھی اچھی تبدیلیوں کا مہینہ ہے ۔بے شک یہ وہی مہینہ ہے جس میں ایک نئی قوم کی تحلیق ہوئی تھی۔اِسی مہینے اُس ساعتِ پُرنور و ضیا بخش نمودار ہوئی تھی جس کےلئے وقت نے کئی صدیاں کرب کے دوزخ میں تڑپ تڑپ گزاری تھیں۔اسی مہینے ہم ایک نئے عہد کی تمہید بنے تھے۔ گذشتہ اگست میں انہی ستارہ شناسوں کے عمران خان کو کہا تھا کہ فتح تیرے پاﺅں میں ہے اور نواز…
فيلم قصير
تلقّى العرب الكتابة وهي على حالة من البداوة الشديدة، ولم يكن لديهم من أسباب الاستقرار ما يدعو إلى الابتكار في الخط الذي وصل إليهم، ولم يبلغ الخط عندهم مبلغ الفن إلا عندما أصبحت للعرب دولة تعددت فيها مراكز الثقافة ونافست هذه المراكز بعضها بعضاً على نحو ما حدث في الكوفة والبصرة والشام ومصر؛ فاتجه الفنان المسلم للخط يحسّنه ويجوّده ويبتكر أنواعاً جديدة منه. وقد كان العرب يميلون إلى تسمية الخطوط بأسماء إقليمية لأنهم استجلبوها من عدة أقاليم فنسبوها إليها مثلما تنسب السلع إلى أماكنها؛ لذلك عُرف الخط العربي قبل عصر النبوة بالنبطي والحيري والأنباري، لأنه جاء إلى بلاد العرب مع التجارة من هذه الأقاليم. وعندما استقرّ الخط العربي في مكة…
شاعری کیا ہے
شاعری کیا ہے ’’ کیاشاعری آہنگ کانام ہے؟‘‘ ’’نہیں ہر گز نہیں ‘‘ ’’کیوں؟ کیسے؟ کیا آپ کسی باوزن جملے کو شاعری نہیں کہیں گے‘‘ ’’نہیں ۔کیونکہ اگر چار یا پانچ ایک وزن کے لفظ ایک لائن میں لکھ دئیے جائیں تو وہ جملہ وزن میں آجاتا ہے جیسے (مظہر ، اکرم ، امجد بھائی ہیں )اب یہ جملہ وزن میں توہے اگر اسے شاعری تسلیم کر لیا جائے توہر وہ شخصجو لفظ کا جوڑنکالنا جانتا ہے اس کے لئے شعر کہنا کوئی مشکل بات نہیں۔ مثال کے طور پر ’’بادل ‘‘کے لفظ میںدو رکن ہیں ایک ’’با‘‘ اور ایک ’’دل ‘‘با میں ’’ب ‘‘ پر زبر ہے یعنی متحرک…