اسلام اور جاگیر داری
اسلام اور جاگیر داری بات دراصل یہ ہے کہ حیوان بھی مفادِ خویش سوچتا ہے اور سب سے چھین کر خود کھالینا چاہتا ہے مگر اس کی ہوس کی جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے اس کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے وہ سب کچھ چھوڑ دیتا ہے اسے یہ ہوس نہیں ہوتی کہ کل کے لیے بھی اور پر سوں کے لیے بھی سمیٹ کر رکھ لوں ۔ مگر انسان کا جب اپنا پیٹ بھر جاتا ہے تو اسے کل کی فکر لا حق ہو جاتی ہے وہ سوچتا ہے کہ کل اگر حالات مختلف ہوئے اور وہ کما کر نہ لا سکا تو کیا ہوگا ۔ پھر اس…
محبت کےلئے تین نظمیں
محبت کےلئے تین نظمیں نئی سوچ کتابوں میں رکھے ہوئے خواب دیمک زدہ ہو گئے ہیں زندگی کمپیوٹر کی چِپ میں کہیں کھو گئی ہے اڑانوں کے نوچے ہوئے آسماں سے چرائے ہوئے چاند تارے مری خاک کی تجربہ گاہ میں اب پڑے۔۔ ڈر رہے ہیں زمیں اپنے جوتوں کی ایڑھی کے نیچے انہیں نہ لگادے کہیں اجالوں کی رحمت بھری دھوپ چمگادڑوں کی نظر میں ملا دی گئی ہے عجائب گھروں میں پرانے زمانے کی مضبوط انگیا اور ماضی سے وابستہ شہوت کی کھالیں سجادی گئی ہیں اک امرد پرستی کے بازار کے بدعمل پادری کے گلے کی صلیبیں مسیحا کی چھاتی کی زینت بنا دی گئی ہیں ازل…
عشق مجاز کے چند لمحے
عشق مجاز کے چند لمحے اب اس سولہ سالے۔۔ دلکش بھولے بھالے۔۔ نیلے نینوں والے لڑکے سے درخواست کرو ’’شرنا‘کی آواز پہ ناچے ۔۔ جیسے کتھک ناچ کیا تھا کل اس نے نازک قوس کلائی کی۔۔قوسِ قزح کے رنگ بکھیرے نرم تھراہٹ پائوں کی۔۔جیسے پارہ ٹوٹتا جائے تھر کاتا جائے اپنے بم گھومے اپنی ایڑھی پر اور تناسب نرم بدن کا تھال کے تیز کناروں پر دکھلائے او رومی کے نغمے گانے والی۔۔۔سرخ سفید رقاصہ آج تمہاری محفل میں میرے ہمرہ آئے ہوئے ہیں حافظ ، خسرو، بلھے شاہ اور مادھولال حسین. منصور آفاق
منصور آفاق کا چراغ کدہ
منصور آفاق کا چراغ کدہ دوستو یہ تحریر منصور آفاق کے متعلق ہر گز نہیں ۔ممکن ہے آپ اسے ان کی شخصیت اور فن کا تنقیدی مطالعہ سمجھیں مگر آپ کے سمجھنے تحریر کی حیثیت تو نہیں بدل سکتی۔آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہ تحریر جو اس وقت پڑھنے جا رہا ہوں یہ کیا ہے ۔یہ تحریر میرے اپنے متعلق ہے ۔ویسے دوست سے دوست کی خوشبو آئے تو قوتِ شامہ کی حاسیت ہوتی ہے ۔یقینا آپ میری بات سمجھے ہونگے ۔میرا خیال ہے مجھے اپنی بات سمجھانے کی کچھ زیادہ ضرورت بھی نہیں ۔ میں یہ بات پہلے کہہ چکا ہوں کہ اللہ تعالی ظفر اقبال کی عمر دراز…
کہانی ختم سمجھو
کہانی ختم سمجھو کسی حجرہ کے چراغ کی لو ہوا سے کہہ رہی ہے ۔ کہانی ختم سمجھو۔بے شک ہربل کھاتی ہوئی کہانی کو کسی نہ کسی موڑ پر تمام ہونا ہی ہوتاہے ۔یہ کہانی بھی اُن سطور سے ہم آغوش ہونے والی ہے جن کے بعد”ختم شد ” کا بورڈ آویزاںکردیا جاتا ہے یا اختتامی لکیر کھینچ دی جاتی ہے۔کچھ کرداراِس کہانی سے نکل کر ایک کہانی بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔دوسروں کی طرح میں بھی ان کی کامیابی کیلئے دعاگو ہوں مگرالطاف حسین کی کہانی کے اختتامیہ سے اِس بات کا کوئی تعلق نہیں کہ کچھ کردارایک کہانی چھوڑ کرکسی دوسری کہانی میں داخل ہو گئے ہیں…
مسلم ہینڈز اورساڑھے تین لاکھ مہاجرین
مسلم ہینڈز اورساڑھے تین لاکھ مہاجرین اہل ِ پاکستان !مبارک باد۔گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم ہونے کا وقت آگیا ہے۔ اسی سال ایرانی گیس پاکستانی گھروں اور فیکٹریوں میں پہنچ جائے گی ۔نواز شریف اور راحیل شریف ریاض اور تہران کے درمیان خیر کی راہداری بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔محبت کی سڑک تعمیرہونے والی ہے۔یقینا اس راہداری کے اثرات دمشق پر بھی مرتب ہونگے ۔میں اہل ِ دمشق کے چہروں پر اداسیاں دیکھ دیکھ کر ابھی اندر سے باہر نکلا ہوں ۔ ہرطرف سفید کاٹن کی طرح برف بچھی ہوئی ہے ۔دور ایک اکیلاگہر اسیاہ پرندہ پھڑپھڑاکر اپنے پر جھاڑ رہا ہے۔ کسی مسلمان مہاجرکی طرح۔ لٹھے کی چادرپرایک اکیلا…
دیبل پورکے درد میں
دیبل پورکے درد میں پھر یوں ہوا کہ باطن کے گلاس میں سمندر پڑے پڑے صحرا بن گیا۔مچھلیاں سن باتھ کرنے لگیں۔ایک ایک کیکرکے درخت سے سوسو کچھوے لٹک گئے۔صدیوں کے پیٹ سے ٹائی ٹینک نے نکل کرموٹیل کا روپ دھار لیا۔موٹیل کے ڈانسنگ روم میںڈالروں بھری چڑیلوں کے ساتھ آژدھوں کا رقص جا ری ہے۔ڈائننگ ٹیبل پر بھیڑیے بیٹھے ہوئے خون اور شراب کی کاک ٹیل پی رہے ہیں ۔میک اپ زدہ روباہیںانسانی گوشت سرو کر رہی ہیں۔ بار روم میںتیل بیچ کراونٹ اونگھ رہے ہیں ۔جم میں غزال اپنی ٹانگوں کے مسل مضبوط کرنے میں لگے ہیں۔مساج ہاﺅس گھوڑوں سے بھرا ہوا ہے ۔ہیر ڈریسر بلیاں کتوں کے…
کپکپاتی ہوئی یاد
کپکپاتی ہوئی یاد کچھ یادیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں اکثر اوقات آنکھیں آنسوؤں سے دھوتی رہتی ہے ، تاکہ کہیں کوئی گزرا ہوا لمحہ وقت کے گرد و غبار میں گم نہ ہو جائے۔۔میں اس وقت انہی کپکپاتی ہوئی یادوں کے دئیے جلا رہا ہوں ، باطنی روشنی کیلئے۔شاید اِسی عظیم یاد نے مجھے روحانی طور پر زندہ رکھا ہوا ہے۔یہی مجھے گیان اور نروان عطا کرتی رہتی ہے وگرنہ پچھلے سات آٹھ سال سے میں جس دنیا میں رہتا ہوں وہاں ماضی عجائب گھروں میں سجا یا ہے اور باطنی روشنی کے بلب شراب خانوں میں جلائے جاتے ہیں اجتماعی بادشاہت کے جزائر ﴿ برطانیہ ﴾ جن کی…
ریل گاڑی کیسے چلتی ہے
ریل گاڑی کیسے چلتی ہے اس نے کہا ”میں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کانام ہے ”گھوڑا کیسے بھاگتا ہے“میں نے پوچھا ”کیا سیاسی گھوڑوںکی سرگزشت ہے“ ´کہنے لگا ”ہر شعبے کے گھوڑے اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔میری کتاب یک بھرپور علامت ہے۔اس کے ہر صفحے پر زندگی رواں دواں ہے اور پھر بزم میں موجود اہل دانش و بینش نے کتاب کے نام کا سہارا لے کر ایک پارٹی سے دوسری پارٹی جانے والے سیاست دانوں کے خوب لتے لئے ۔اپنی سیاسی وابستگیاں بدلنے والے میڈیا کے گھوڑوں کا ذکر بھی آیا۔وہ اسلامی گھوڑے بھی زیر ِ موضوع آئے ۔ جو کسی زمانے میں واشگٹن کے…
منصور آفاق شہر میں ہے
منصور آفاق شہر میں ہے منصور آفاق ان دنوں لاہور آئے ہوئے ہیں۔ کالم کے ذریعے پہلے بھی ملاقات ہو جاتی تھی اور ان کی نئی شاعری کی گونج بھی اکثر و بیشتر سنائی دے جاتی۔ ”نیند کی نوٹ بُک‘‘ ان کا غالباً پہلا مجموعۂ کلام تھا۔ اب ”دیوانِ منصور‘‘ کے نام سے ان کا مفصل کام زیر ترتیب ہے جو کم و بیش 900 سے 1000 صفحات کو محیط غزلوں پر مشتمل ہوگا۔ صفحات کی مناسبت سے غزلیں بھی اتنی ہی تعداد میں ہوں گی اور یہ بجائے خود ایک خوشگوار خبر ہے۔ نیا لب و لہجہ اور پیرایۂ اظہار بنانے کی بجائے اس شاعر نے ایک طرح سے…