گارڈ فادر کے بعد سسیلیئن مافیا
گارڈ فادر کے بعد سسیلیئن مافیا تلخی ، تنائو ،بدمزگی جھگڑے تک پہنچتی ہوئی لگ رہی ہے ۔جب سے پانامہ لیکس کا کیس عدالت عظمی کی عمارت میں داخل ہوا ہے پوری قوم کی آنکھیں اُسی کے دروازہ پر لگی ہیں اور حکومت کو بھی لگ رہا ہےکہ فیصلہ اُس کے حق میں نہیں آرہا۔سو حکومت پریشان ہے اور پریشانی سے نہال ہو کرایسے کام کرتی چلی جارہی ہے جس کی وجہ سے تلخی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ایک طرف سفید کا غذ پرحکومت جج صاحبان کے ریمارکس کوافسوسناک قرار دے رہی ہے تودوسرے طرف سپریم کورٹ یہی کہہ رہا ہے کہ ہم دھمکیوں سے مرغوب…
محاسن ِ جمال ِ القران
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘‘ ’’اللہ کے نام سے( شروع کرتا ہوں) ۔ (جو) بہت ہی مہربان ۔اور ہمیشہ رحم کرنے والا (ہے)‘‘۔(جمال القران ) اکثرمترجمین نے بسم اللہ کے جو تراجم کئے ہیں وہ تمام اپنی جگہ پر درست ہیں مگر جو جمال جو خوبصورتی پیر کرمؒ شاہ کے قلم سے طلوع ہوئی ہے وہ پہلے تراجم میں موجود نہیں ۔مثال کے طور پر کسی نے ترجمہ کیا ہے ’’ شروع کرتا ہوں میں ساتھ نام اللہ بخشش کرنے والے مہربان کے ۔ ‘‘ کسی نےلکھاہے ’’اللہ کے نام سے جورحمان و رحیم ہے ۔ ‘‘ ۔ کہیں یہ ترجمہ یوں ہوا ہے ۔’’اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع ہے جو نہایت بخشش والا بہت مہربان ہے ۔ ‘کہیں…
گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں
گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں کسی حدتک یہ بات بڑی خوبصورت ہے کہ ہم اہل ِ قلم زندگی کے سلگتے ہوئے مسائل پر قلم اٹھا رہے ہیں۔صریرِ خامہ سے بلبل کے پروں پر کشیدہ کاری کا کام تو خیر ہماری پرانی روایت ہے مگر صحافت کے کمرے میں بلب جلانے کاہنر ہم نے پچھلی صدی میں سیکھا ہے۔میں ہمیشہ سےاخبارات کے ادارتی صفحے کا پوری سنجیدگی سے مطالعہ کر رہا ہوں ۔کچھ سالوں سے کالم نگاروں کے پسندیدہ موضوع یہی ہیں ۔نون لیگ کی اچھائیاں کہیں کہیں برائی بھی ۔ تحریک انصاف کی برائیاں کہیں کہیں اچھائی بھی ۔افواجِ پاکستان کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس جرنیل ، عدالتِ عظمی…
توہینِ اقبال
توہینِ اقبال میں جاگاتو کنارِچشمہ ء ارمغانِ حجاز دیرتک علامہ اقبال سے گفتگو کرتا رہاجب اقبال نےکہاکہ’’فلسفی کو سچائی جاننے کی کوئی ضرورت نہیں اسے ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے جو انسانی زندگی کو درپیش ہیں‘‘تومیں اٹھ کھڑا ہوااورفلسفہ ء اقبال پر لکھی ہوئی تمام کتابیں میانوالی کی مونسپل کمیٹی کی لائبریری میں دے آیا۔جہاں اس سے پہلے بھی انقلاب کے کئی فلسفے منشی سیف اللہ نے بھاری بھرکم تالوں میں رکھے ہوئے تھے میں ان الماریوں کےعقوبت خانوں میں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا۔ مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ فلسفی سچائی کی تلاش میں نکلا ہوا سائنس دان نہیں ہوتا۔میں نے اقبال سے پوچھ لیا تھا…
اب وہ پانی ملتان بہہ گیا
اب وہ پانی ملتان بہہ گیا گذشتہ رات میں پرانی فائلوں میں کچھ تلاش رہا تھا کہ اچانک ایک کاغذ میرے ہاتھ میں آیا اور مجھے ایسے لگا جیسے میں نے انگارہ اٹھالیا ہو۔یہ احمد ندیم قاسمی کا خط تھا ۔یہ ایک بہت بڑے شاعر اور افسانہ نگار کی وہ تحریر تھی جسنے میری زندگی کا رخ بدل دیا تھا اگر انہوں نے مجھے یہ خط نہ لکھا ہوتا تو شاید آج میں منصور آفاق نہ ہوتا۔نئی نئی جوانی تھی ۔لہو صرف رنگوں میں ہی نہیں دوڑتا تھاآنکھ سے بھی ٹپکنا جانتاتھا۔میانوالی کی سڑکوں پر رات بھر شاعری ہوتی تھی جسے ندیم صاحب بڑی محبت سے’’ فنون ‘‘میں شائع بھی…
صبح ہونے والی ہے
صبح ہونے والی ہے منصور آفاق آگ کے اردو گرد چار درویش بیٹھے تھے ان کے چہروں مٹی کی اتنی موٹی تہیں جم چکی تھیں کہ خدو خال پہچانے نہیں جا رہے تھے۔پٹ سن کا ہاتھ سے بناہوا خاکی لباس ،لباس نہیں لگ رہا تھایوں لگ رہاتھا جیسے انہوں نے مٹی پہن رکھی ہو۔ہونٹوں کے گرد و نواح میں گری ہوئی مٹی میں باریک دراڑیں بھی موجود تھیں جوشاید ہونٹوں کی حرکت کی وجہ سے پیدا ہو ئی تھیں۔ان کے قریب ایک کتابھی بیٹھا تھا ویسی ہی حالت میں ۔۔مٹی کا کتا۔۔کتے کے سانس چلنے کی آواز اگر نہ آ رہی ہوتی تو اسے سنگ تراشی کا شاہکار قرار دیا…
پاکستانی مجاہد صرف پاکستانی فوجی ہیں
پاکستانی مجاہد صرف پاکستانی فوجی ہیں میں نے ایک بار احمد فراز سے پوچھا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کیا ہے تو انہوں نے کہا تھا۔”بھارت کے ساتھ ہر سطح پر جنگ ۔ کشمیر کی جنگ ، آزادی کی جنگ ہے حق ِ خود ارادیت کی جنگ ہے اور ہر آزاد ضمیر کو اس کا ساتھ دینا چاہئے ۔میں نے زندگی بھرقلم کے ساتھ کشمیر کی جنگ جاری رکھی ہے مگراس کا آغاز بندوق اٹھا کر کیا تھا” اور پھر احمد فراز اپنے یادوں میں کھو گئے ”کالج کے دنوں میں ہم پچیس چھبیس جوان اس مقصد کے لئے چن لئے گئے گرمیوں کی چھٹیاں ہونے والی تھیں ہمیں…
بلائنڈ سپاٹ
بلائنڈ سپاٹ عطاالحق قاسمی نے اپنے کالم میں آنکھ کےپلائنڈ سپاٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’اگر سامنے سے آنے والی بلاآنکھوں سے اوجھل ہوجائے تو حادثوں پر حیرت نہیں ہونی چاہئے ۔۱۹۷۱میں ہمارا ساتھ یہی ہوااور اب ایک دفعہ پھر یہ کہانی دھرانے کی کوشش کی جارہی ہے ‘‘۔اگرچہ میرے دل میں ان کے بے پناہ احترام ہے مگر میں ان کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ پھر تاریخ کودھرایا جارہاہے ۔مرشدی سے عرض ہے کہ بلائنڈ سپاٹ کئی طرح ہوتے ہیں ۔مثال کے طور پر نفسیاتی بلائنڈ سپاٹ ، جذباتی بلائنڈ سپاٹ، تعصابی بلائنڈ سپاٹ، دماغی بلائنڈ سپاٹ ،گفت و شیند کے بلا ئنڈ سپاٹ…
اچکزئی کی اچکری
اچکزئی کی اچکری محمود خان اچکزئی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے میں نے تویہ کہا تھا کہ” خیبرپختونخوا ہ تاریخی طور پر افغانستان کا حصہ رہا ہے ، یہ نہیں کہا کہ خیبرپختونخوا افغانوں کا ہے۔ تاریخی تناظرمیںیہ افغان سرزمین تھی اور پشاورافغانوں کامسکن تھا۔ افغان سرزمین دریائے آمو سے شروع ہوتی ہے ۔”کیا کہنے۔اِس وضاحت سے تو کہیں بہتر تھا کہ موصوف وضاحت ہی نہ فرماتے۔ افغان اخبار نے توان کے انٹرویو سے یہ سرخی نکالی تھی کہ پختون خواہ افغانوں کا علاقہ ہے ۔انہوں نے وضاحت میں سارے صوبہ پختون خواہ کو الٹا افغانستان کا حصہ…
قانون سے لمبے ہاتھ
قانون سے لمبے ہاتھ میں ابھی تھوڑی دیر پہلے نماز تراویح کے بعد کچھ نمازیوں کے ساتھ گپ شپ کیلئے مسجد میں کھڑا ہوگیا تھا۔یہ برطانیہ کی ایک مسجد تھی مگر ہر شخص کی گفتگو کا موضوع پاکستان تھا ۔اور سب کا روئے سخن میری طرف تھا ۔چھ آدمیوں کی بارہ آنکھیں میرے چہرے پر اپنے دل کا احوال لکھ رہی تھیں ۔مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ میں مرکزِ نگاہ روزنامہ جنگ کے کالم کی وجہ سے بنا ہوا ہوں ۔پہلا آدمی گویا ہوا ”منصور بھائی !پاکستان میں قانون شکنوں کے ہاتھ قانون سے زیادہ لمبے ہوگئے ہیں ۔ کبھی کسی ملک میں چیف جسٹس کا بیٹا بھی اغواہوا۔پتہ ہے…