دیوار پہ دستک
گڈگورننس کا پس منظر
گڈگورننس کا پس منظر منصورآفاق اس نے دیوار پر پاکستان کا نقشہ لگا رکھا تھا ۔وہ نقشے کے درمیان میں بڑا سا دائرہ بنا کر بولا’’یہ مرکزی جوہڑ ہے۔جہاں سے گندگی جنم لیتی ہے ۔‘‘پھر اُس جوہڑ سے ایک لمبی لکیر کھینچتے ہوئے کہا ’’یہ نالی اِس جوہڑ سے نکل کر شمالی اور جنوبی وزیر ستان تک جاتی ہے۔ ایک اور لائن کھینچی اور کہا ’’یہ نالی سندھ سے گزرتے ہوئے کراچی تک جارہی ہے۔ ‘‘پھراگلی نالی بلوچستان جاتی ہوئی دکھائی اور پھر وزیرستان والی لکیر پر انگلی رکھتے ہوئے کہا کہ ہم اس نالی کو تقریباً نوے فیصد صاف کرچکے ہیں ۔کراچی کی طرف اشارہ کیا اور بولا یہ…
سرفراز کی سرفرازی
سرفراز کی سرفرازی منصورآفاق میں نے کبھی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حق میں کلمہ ء خیر نہیں کہامگر گزشتہ پانچ چھ دنوں میں کچھ ایسے مناظر دیکھے ہیں ان کی قصیدہ گوئی پر مجبور ہوگیاہوں۔ان منظروں کا تعلق عمران خان کے شہر میانوالی میں آنے والی حیرت انگیز تبدیلی سے ہے ۔وہ جو شہر ِ اشک و آہ ہوا کرتاتھا وہ روشنیوں اور خوشبوئوں کا نگر کیسے بن گیا۔وہ شہر جس کی پہچان ہمیشہ سے قتل و غارت تھی اسے امن کو گہوارہ کس نے بنادیا۔ میں گزشتہ ماہِ رمضان میں میانوالی آیا تھاتو اُس ایک ماہ میں اس ضلع میں 54قتل کی وارداتیں ہوئی تھیں۔پورے شہرمیں چوروں…
امریکہ کی ایک اور کرم نوازی
امریکہ کی ایک اور کرم نوازی منصورآفاق میری سسرال امریکہ میں ہے سوآنا جانالگا رہتا ہے ۔ میری سسٹر ان لاء وہاں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہے اس لئے کچھ خبریں مجھے وقت سے ذرا پہلے بھی مل جاتی ہیں ۔مگر میں ان پر زیادہ اعتبار نہیں کرتا کیونکہ ایک پاکستانی خاتون سینیٹرکا بیٹا بھی ایک امریکی اعلیٰ عہدے دارہے اور اس کی طرف سے ملنی والی خبریں اکثر غلط ثابت ہوئی ہیں ۔اس کے انجینئر والد گرامی کو اس سلسلے میں کئی بار شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر مجھے یقین ہے کہ دوچار دنوں میں اِس خبر کی تصدیق ہوجائے گی کہ امریکہ نے وزیراعظم پاکستان…
پنجاب کارڈ
پنجاب کارڈ منصور آفاق جمیل الدین عالی بھی رخصت ہوئے۔ایک عہد تمام ہوا۔عالی جی نجیب الطرفین ادیب اور شاعرتھے۔ان کے دادا غالب کے دوست اور شاگردتھے ۔ان کے والدبھی شاعرتھے اور والدہ کا تعلق بھی میر درد کے خاندان سے ہے۔ایک بارپنجاب میں ایک مشاعرہ پڑھتے ہوئے انہوں نے اپنے اس دوہے کے مصرعے میں’’ہم دل والے اپنی بھاشا کس کس کو سکھلائیں‘‘ میں ترمیم کرتے ہوئے دوہا کچھ یوں پڑھ دیا تھا اردو والے، ہندی والے، دونوں ہنسی اڑائیں لوگوں کو پنجابی بھاشا عالی جی سکھلائیں یہ پنجاب اور اہل پنجاب کے ساتھ ان کی محبت کا عالم تھا۔پنجاب کے ذکر پرخواب کا ایک منظر ذہن میں لہرا گیاہے…
پرویز مشرف اور ایف آئی اے
پرویز مشرف اور ایف آئی اے منصورآفاق خصوصی عدالت نے پرویز مشرف غداری کیس کی از سرنو تحقیقات کا حکم دیاتومیری آنکھوں میں سابق چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کا چہرہ لہرا گیا۔تاریخ میں کئی لوگ ہیرو سے زیرو ہوئے مگر افتخار چوہدری کا معاملہ ہی کچھ اور ہے ۔جب وہ ہیرو ہوا کرتے تھے توتاریخ کی ایک کہانی اکثر میرے ذہن میں گھومتی رہتی تھی کہ قاضی القضاۃ یحییٰ بن قاسم بادشاہ کے محل میں بلایا گیا ۔وہ کئی مرتبہ پہلے بھی بادشاہ کے محل میں مختلف تقریبات میں شرکت کیلئے جا چکا تھا مگر آج اسے علم تھا کہ وہاں کوئی تقریب نہیں ہے۔کئی اچھی بری باتیں ذہن میں…
عمران خان کے ساتھ ایک شام
عمران خان کے ساتھ ایک شام منصورآفاق یہ چند دن پہلے کی ایک سہ پہر تھی ۔بنی گالا کا موسم خوشگوار تھا۔درختوں کے سائےخاصے ٹھنڈے ہوچکے تھے۔ڈرائنگ روم میںمظہر برلاس ، حسن رضا ، میں اور عمران خان موجود تھے ۔ارغونی قہوے کی بھاپ سے بھیگی ہوئی گفتگومیں کئی تلخ و شیریں موڑ آئے ۔قدرت نے مظہر برلاس کو مشکل سے مشکل بات منہ پر کہہ دینے کا عجب ڈھنگ عطا کیا ہے ۔عمران خان کا یہ جملہ کہ’’ مظہر تم ٹھیک کہہ رہے ہو ‘‘میرے لئے ذرا اجنبی تھا۔شایدتوقع کے برعکس تھا۔عمران خان جب کمرے میں داخل ہوئے تو جلدی میں تھے۔ہم سے ملے اور ملتے ہی ایسی گفتگو…
غیر سیاسی دانش
غیر سیاسی دانش منصورآفاق عطاالحق قاسمی نے الحمرا میں اہل ِدانش و بینش کا میلہ لگا رکھاہے وہاںطرح طرح کے دانشور موجود ہیں مگرسیاسی پارٹیوں سے متعلقہ صاحبانِ دانش کہیں نظرنہیں آئے۔ویسے تو سیاسی جماعتوں میں ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔کہا یہی جاتا ہے کہ عشاقِ حکومت میں اہل ِ خرد کا کیا کام ۔کیا کریں بیچارے۔ ان کی دانش کو دانش اسکولوں سے چھٹی ملے تو کچھ اور سوچیں ۔ کسی زمانے میں تحریک انصاف کے ایک بزرگ دانشورمیرے دوست ہوا کرتے تھے مگر انہوںنے میرے ساتھ اُس دن لڑائی کرلی تھی جب پی ٹی آئی ایک صاحب کو وزیراعلیٰ بنانے لگی تو میں نے کہا تھا کہ’’…
بچوں کے لہو سے لتھڑا ہوا دسمبر
بچوں کے لہو سے لتھڑا ہوا دسمبر منصورآفاق دسمبر کی یخ بستہ دھوپ ہمیں موت کی تلخی دے گئی۔آج کے دن یعنی سولہ دسمبر کوتاریخ انسانی کا دوسرا بڑابچوں کے قتل کا سفاک واقعہ پشاور کے ایک اسکول میں لکھا گیا۔یعنی یہ بھی کوئی فرعون کی نسل کے لوگ تھے ۔دسمبر کا مہینہ ہم پر ہمیشہ بہت بھاری رہا ہے ۔اسی مہینے دشمنوں نے پاکستان کو دو لخت کیا تھا۔اسی مہینے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تھی ۔یعنی زندگی کی نوید دینے والی ساعتیں اسی ماہ میں قتل کی گئیں۔اسی مہینے اس ٹہنی کو کاٹ دیا گیا جس پر پھول کھلنے والے تھے، اسی مہینے ہمیشہ درختوں کے…
کرپشن کی زنجیر
کرپشن کی زنجیر منصورآفاق رینجرز کے اختیارات کا تنازع عجیب وغریب حد تک حیرت انگیز ہے ۔انہیںچوروں ،ڈاکوئوں اور لٹیروں کے خلاف کارروائی کرنے کااختیار نہیں دیا گیا۔البتہ وہ بھتہ خوروں ، اغواکاروں اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔اِس اعلان کے بعد کئی سوال ذہن میں اٹھے ۔میں سوچنے لگا کہ کیارینجرزاب ایسے بھتہ خوروں کے خلاف کارروائی کرسکے گی جو دفتروں میں بیٹھ کربشکل رشوت بھتہ وصول کر رہے ہیں ۔کیا رینجرز والےایسے اغواکاروں کو پکڑ سکیں گے جنہوں نے آدھے کراچی کی مغوی زمینیں حبس بے جا میں رکھی ہوئی ہیں ۔کیا وہ ایسے ٹارگٹ کلرز کو بھی گرفتار کرسکیں گے جوانصاف کے ماتھے میں…
دست بریدہ نسلیں
دست بریدہ نسلیں منصورآفاق غلط کہا تھا ساحر نے کہ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔ جھوٹ بولا تھافیض نے بھی کہ اک ذرا صبر کہ اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں ۔ شیخوپورہ میںظلم کی ایک اور خوفناک داستان لکھ دی گئی ہے ۔اپنا جائز حق مانگنے پرسولہ سالہ ابوبکر کے دونوں ہاتھ کاٹ دیئے گئے ہیں۔پچھلے سال ظالموں نے یہی داستان گجرات کے ایک گائوں میں لکھی تھی ایک کمسن بچے کو دونوں ہاتھوں سے محروم کردیا تھا ۔وہ ماں جس نے ایک خوبصورت اور مکمل بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں مٹھائی بانٹی تھی جب اس کے کٹے ہوئے ہاتھ…