دیوار پہ دستک
مینوں اچھرے موڑ تے مل وے
مینوں اچھرے موڑ تے مل وے شام خوشگوار تھی۔ وہ دونوں پیدل چل رہے تھے۔ فیروز پورہ روڈ پر شمع سے اچھرے کی طرف۔ میٹرو بس کی کنکریٹ کے نیچے نیچے ۔انہیں شمع سینما یاد آرہا تھا ۔بابو علم دین نے بڑی دکھ بھری آوازسے کہا ’’افسوس ہماری حکومت نہیں آئی وگرنہ میں عمران خان سے کہہ کر اس چوک میں پھر شمع سینما بنوادیتا۔تاریخی ورثوں کو یوں برباد نہیں ہونا چاہئے۔اچھوفخریہ انداز میں بولا ’’کہہ تو ایاز صادق سے کہہ کر بنوادوں مگرشرط ہے اس کے بعدنون لیگ کے خلاف بولے گا نہیں ‘‘بابو علم دین بزرگوں کی طرح مسکراکر کہنے لگا’’وہ کیا بنوائے گا بیچارہ اس کی اپنی…
بزرگان ِ انتخابات
بزرگان ِ انتخابات بچپن کی بات ہے۔ میں اُس وقت سینٹرل ماڈل ہائی اسکول میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔اسکول کے گراونڈ میں کلاس لگی ہوئی تھی۔ (بہ محاورہ عدالت لگی ہوئی تھی) اُس روز موسم بڑا سہانا تھا سو ٹیچر کے حکم پر ہر بچہ خود کلاس روم سے اپنی کرسی اٹھا لایا تھا اور اس پر بیٹھا ہوا تھا۔ بادل چھائے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ اسکول کی عمارت ایک طرف تھی دوسری طرف ہوسٹل تھا اور درمیان میں یہ وسیع و عریض گراونڈ۔اس کے بالکل ساتھ ایک نہر تھی ۔یقینا اب بھی ہے۔بہت بڑی نہر۔یہ کالاباغ کے مقام پردریائے سندھ سے نکالی گئی…
جنگ بندی کامعاہدہ
جنگ بندی کامعاہدہ ایک پامال شدہ مصرع بھارت کیلئے کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا۔کل پھرنکیال سیکٹرکی فضا ئیں بارود کی بو سے بھر گئی تھیں۔جنگی جنون پھر ٹھاٹھیں مارنے لگا تھا۔پھر توپوں کے موت اگلتے دہانے کھول دئیے گئے۔ انہیں ٹھنڈا کرنے کیلئے مجبوراً ہماری امن پسندتوپوں کو بھی جاگنا پڑا۔ کل میرے پاس سائوتھ ہال لندن سے رنجیت سنگھ آئے ہوئے تھے ۔انہوں نے سن2001میں مجھ سے خالصہ نام کی ایک ڈرامہ سیریل لکھوائی تھی۔یہ ڈرامہ سیریل ان ایک لاکھ سکھوں اور سکھنیوں کی یاد میں تھی جو خالصتان کی تحریک میں اپنے دھرم پر نثار ہوگئے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ معاملات کچھ بہتر…
دیہاڑی دار
دیہاڑی دار کا نام علاءالدین تھا، مگر گاؤں والے اسے صرف ‘علو’ کہتے تھے، اسی ایک لفظ میں اس کی پوری زندگی کا وزن رکھے ہوئے۔ صبح جب سورج ابھی آنکھیں مچلتا تھا تو علّو اپنے پاؤں پتھروں پر گھسیٹتا ہوا سڑک کی طرف نکل جاتا — وہی سِیڑھی جس کے نیچے چائے کا چھوٹا سا ڈکان تھا، جہاں سے وہ دن کی پہلی چائے کا دو گھونٹ لیتا، صبح کی پہلی ہنسی سن لیتا اور پھر مزدوری کے سلسلے کی تلاش میں کھنڈراتی دنیا کی طرف نکل پڑتا۔ اس کی کمر پر سالوں کی لوٹ سیٹ چمٹی رہتی، ہاتھوں پر وہ نقوش جو پتھر، سیمینٹ اور لوہے کی روز…
گردی کی دہشت
گردی کی دہشت منصور آفاق سب سے پہلے میں نے جس” گردی “کا نام سنا تھا وہ غنڈا گردی تھی۔میرے بستے میں بہت سارے قلم تھے ان میں سے ایک قلم ایک لڑکے مجھ سے زبردستی لے لیا تھا۔میں نے کلاس ٹیچر سے شکایت کی ۔اس نے مجھے قلم تو واپس نہیں دلایا تھامگر اس لڑکے کو ڈانتے ہوئے کہا تھا ”دیکھوہیڈ ماسٹر کے بیٹے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تم سکول میں غنڈا گردی کرو۔پھر ایک دن کافی دیر سے گھر گیاتو امی نے کہا ”کہاں آوارہ گردی کرتے رہے ہو۔یوں دوسری ”گردی “سے آشنائی ہوئی۔یہ آشنائی بہت دیر تک رہی ۔یعنی میں خاصا آوارہ گرد بچہ تھا۔کافی…
عمران خان ! دو میں سے ایک
عمران خان ! دو میں سے ایک منصور آفاق میں جب صاحبان ِ اقتدار کے بلند و بانگ دعوے سنتا ہوں تو مجھے گاجر یاد آجاتی ہے ۔جسے کسی زمانے میں گدھے کے منہ سے تین چار انچ آگے سر کے بالکل ساتھ باندھ دیا جاتا تھاتاکہ اسے دکھائی دیتی رہی اور اسے کھا بھی نہ سکے ۔یوں بیچارہ گدھا تمنائے گاجر میں دوڑتے دوڑتے منزل تک پہنچ جاتا تھا۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے قوم کے ماتھے پر وہی گاجر باندھ دی گئی ہے ۔ شاید سفر کے اختتام پر گدھے کو تو گاجر مل جاتی ہو گی ۔یہاں اس کا حصول کے امکان نہیںنظر آتا۔ بلند بانگ دعووںاور…
پردے کے پیچھے کیا ہے
پردے کے پیچھے کیا ہے منصور آفاق یہ انیس سو نوے کا واقعہ ہے۔ میں ناروے ،ڈنمارک ، فرانس اور برطانیہ میں مشاعرہ پڑھ کر واپس پاکستان آ رہا تھا۔مانچسٹر ایئرپورٹ سے پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد کےلئے روانہ ہوئی ۔مجھے کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ ملی تھی ۔ میرے ساتھ ایک چودہ پندرہ سال کے لڑکے کی نشست تھی ۔اس کے بعد معمول کے مطابق گزرنے کی جگہ تھی اور اس سے آگے اس کے باپ کی سیٹ تھی۔یعنی پی آئی اے نے باپ بیٹے کے درمیان ایک چھوٹی سی خلیج حائل کردی تھی ۔ تمام سفر میں ا ±س لڑکے ساتھ میری گفتگو جاری رہی۔بڑااچھا لڑکا…
یہ سڑک سیدھی گوادر جارہی ہے
یہ سڑک سیدھی گوادر جارہی ہے بہت پرانی بات ہے میں نیا نیا جوان ہوا تھا۔جسم میں آگ بھی تھی اور دماغ میں نظریات بھی دہکتے تھے۔میں کسی کام کے سلسلےمیں کالاباغ گیا۔میری نظر ایک بوڑھے آدمی پر پڑی جو بظاہر پاگل لگ رہا تھا۔وہ سڑک کے کنارے بیٹھا تھااور پتھر اٹھااٹھا کر سڑک پر اس طرح پھینکتا تھا جیسے سڑک کو مار رہاہو۔ میںنے ازراہِ مذاق کہہ دیا۔’’بابا سڑک سے کیا دشمنی ہے ۔بے چاری کو کیوں مار رہے ہو۔‘‘اس کا ہاتھ اٹھا کا اٹھا رہ گیا۔اس نے عجیب وحشت بھری نظروں سے مجھے دیکھا اورپھر پورے زور سے سڑک پر پتھر مار کر بولاا’’اس کالی بلا کی ایسی…
وابستگانِ افواجِ پاکستان
وابستگانِ افواجِ پاکستان پنجاب میں ضمنی انتخابات افواج ِ پاکستان کے زیر نگرانی ہونگے ۔باقی حلقوں کیلئے خیر یہ کوئی اتنا بڑامسئلہ نہیں وہاں نون لیگ ہار بھی جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر این اے 122کا معاملہ تھوڑا جدا ہے ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ نے فوج کی مقبولیت کہاں پہنچا دی ہے ۔ایاز صادق نے بھی اپنی الیکشن مہم کے اشتہار میں افواج پاکستان کے ساتھ اپنی ہم آہنگی کو اجاگر کیا ہے ۔علیم خان کے پوسٹروں میں بھی کہیں کہیں راحیل شریف کی تصویر دکھائی دیتی ہے ۔میں اس وقت ایاز صادق اورعلیم خان کا موازنہ کرنے موڈ میں نہیں ہوں۔نہ ہی یہ فیصلہ دینا چاہتاہوں…
شام تک دیکھئے کیا ہوتا ہے
شام تک دیکھئے کیا ہوتا ہے شاعرِ لاہور نے کہا تھا ۔’’ترا مکہ رہے آباد مولا۔ مرے لاہور پر بھی اک نظر کر‘‘سنا ہے آج لاہور کافیصلہ ہونا ہے۔دیکھتے ہیں کہ کرم کی کوئی نئی نظر ہوتی ہے یا فضل ِ ربی کا وہی پرانا تسلسل جاری و ساری رہتا ہے ۔مسلمانوں کے نزدیک آوازِ خلق ،نقارہ ِ خدا ہوتی ہے۔شام تک نقارہ بج جائے گا۔کچھ ہی دیر میں مغرب و مشرق کی گھنٹیاں بج جائیںگی کہ داتا کی نگری بدستور نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے یا اُس نے تحت ِ لاہور کا کوئی نیا وارث چُن لیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شریف فیملی ایک طویل عرصے…