دیوار پہ دستک

  • دیوار پہ دستک

    آئو صلح کرلیں

    آئو صلح کرلیں کشمیر کے لئے ہونے والی ایک جنگ جو پچھلے ساٹھ برس سے مسلسل زمینی اور ذہنی محاذوں پر لڑی جارہی ہے ۔جس میں فتح کے جشن بھی ہیں اور شکست کے آنسو بھی۔ ’’چھمب جوڑیوں‘‘ کی فتح بھی ہے اور’’ رن کچھ ‘‘کا معرکہ بھی ۔چھ ستمبر کی صبح بھی ہے سترہ دسمبر کی شام بھی ۔ سقوط ِ ڈھاکہ کی دردبھری رات بھی ہے اورکارگل کے شہیدوں کاپُرسعادت لہو بھی ۔ بیانوے ہزارفوجیوں کے ماتھوں پر قیدیوں کے لکھے ہوئے نمبر بھی ہیں اور شملہ کی میزوں پر تحریر ہونے والا عہدنامہ بھی۔ غربت کے اندھے کنویں میں گرتی ہوئی دونوں طرف کے عوام بھی ہیں…

  • دیوار پہ دستک

    فیصل بٹ سے عمران خان تک

    فیصل بٹ سے عمران خان تک آج پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کے میدان میں جنگ لڑی جا رہی ہے ۔اسی پس منظرمیں انڈین وزیر اعظم نے پاکستانی وزیراعظم سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔سرحدوں پر بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کی نیک خواہشات کا دونوں طرف سے اظہار ہوااورلوگوں کو جنرل ضیا یاد آگئے۔انہوں نے ہی پہلی بار کرکٹ کے میدان جنگ سے عسکری جنگوں کی روک تھام کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ کر کٹ کے میدان میں لڑئی جانے والی جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی اندازمیں برپا رہتی ہے۔۔بمبئی میں دہشت گردی ہوئی اور بھارت نے اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کردیاتو سری…

  • دیوار پہ دستک

    قلم ، سگریٹ اورانگارہ

    قلم ، سگریٹ اورانگارہ کلچر کی کرپشن کچھ اس طرح رگوں میں دوڑتی پھرتی ہے کہ دیانت داری اور بددیانتی کے درمیان جو واضح سی لکیر ہوتی تھی اسے دیکھنے کیلئے آنکھوں کو کھوجنے کی سعادت حاصل کرنا پڑتی ہے۔اسی تنا ظر میں ،میں کچھ لکھنے لگا تو قلم اُس ان جلے سگریٹ میں بدل گیا جو میری انگلیوں کیلئے انگارہ بن گیا تھا۔ یہ 2000 ء کی بات ہے ۔میری کار لندن سے بریڈفورڈ جانے والے موٹروے ایم ون پر دوڑتی جا رہی تھی ،اور میں ایک نئی زندگی کے آغاز میں کہیں کھویا ہوا تھا سوچ رہا تھا کہ بنک میں بزنس اکائونٹ کھلوانا ہے ، الیکٹرورل لسٹ…

  • دیوار پہ دستک

    صرف فوج کی طرف دیکھنا درست نہیں

    صرف فوج کی طرف دیکھنا درست نہیں وہ جومعاشی ترقی کیلئے وزیر اعظم نواز شریف کو گالف کھیلنے کا مشورہ دیتے ہیں انہی جیسے ایک دوست نے وزیر اعظم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کیا خوش نصیب آدمی ہیں۔جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے اپنے عروج پر تھے تواللہ نے سیلاب بھیج دیا۔ عمران خان نے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی کال دی تو سانحہ پشاور ہوگیا۔میرا شمار نواز شریف کے حامیوں میں نہیں ہوتا اس کے باوجود مجھے یہ جملے سن کر بہت تکلیف ہوئی ۔(ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو)میرے نزدیک کسی کی بربادی سے کسی کی خوش…

  • دیوار پہ دستک

    نرخرے سے آتی ہوئی آواز

    نرخرے سے آتی ہوئی آواز مجھے ایک شخص ملا جو بہت پریشان تھا کہنے لگا کہ’’ مجھے کسی مجذوب نے ایک دن کہا چل آج سے ہر شخص تجھے اسی طرح نظر آئے گا جس طرح وہ قیامت کے روز دکھائی دے گا مجھے اس روز سے ہر شخص کا چہرہ کالا سیاہ دکھائی دیتا ہے‘‘۔اور مجھے سرورکائنات کا فرمان یاد آگیا کہ قیامت کے روز جھوٹ بولنے والے کا چہرہ کالا ہوگا۔بے شک جھوٹ فریب اور کرپشن کی ہر طرف عمل داری ہے ۔سینیٹ کے انتخابات میں خرید و فروخت کی کہانیاں سن سن کر میں آئینہ دیکھنے لگتا ہوں کہ کہیں میرا چہرہ بھی کالا تو نہیں ہوگا…

  • دیوار پہ دستک

    سیاسی جانشین

    سیاسی جانشین منصور آفاق میرا مسئلہ یہ نہیں کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف، محترمہ کلثوم نواز کی عیادت کےلئے ’’لندن یاترا‘‘ پرگئے ہیں یا اپنے میڈیکل چیک اپ کے لئے۔ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ پاکستان کے سیاسی اتار چڑھائو میں ہمیشہ سے سیاست دانوں کی’’لندن یاترا‘‘ کا بہت عمل دخل رہا ہے۔ دھرنے کے دنوں میں ’’لندن سازش‘‘ کا بہت شور و غوغا سنائی دیا تھا۔ اکثر اوقات سیاسی رہنما لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ شاید اِس وقت بھی کچھ ایسی ہی صورتحال درپیش ہے۔ خاص طور پر نون لیگ کے سیاسی مستقبل کے معاملات طے کرنے کیلئے تو لندن سے بہتر مقام…

  • دیوار پہ دستک

    جرم کی سرگوشیاں

    جرم کی سرگوشیاں منصور آفاق اُس شخص پر کس قدر دباؤ ہوگا جو اپنے فیصلے میں یہ لکھنے پر مجبور ہو گیاکہ’’ مبینہ دھاندلی کافیصلہ کرنے کیلئے الیکشن ریکارڈکا باریک بینی سے مطالعہ کرنے سے پہلے میں (جسٹس کاظم علی ملک) نے اپنے ضمیر سے چھ سوال کئے ۔کیا میں صرف خورد و نوش کیلئے پیدا کیاگیا ہوں۔کیا میں کھونٹے پر بندھے ہوئے اُس جانور کی مانند ہوں جسے صرف اور صرف اپنے چارے کی فکر رہتی ہے۔کیا میں بدلگام وحشی درندے کی طرح ہوں جسے کھانے کے علاوہ اپنی زندگی کے کسی مقصد کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔کیا میرے اندر دین ،ضمیر یا خوفِ خدا نہیں ہے۔کیا مجھے اس…

  • دیوار پہ دستک

    اقتدار کی سیڑھیوں سے ایک میسج

    اقتدار کی سیڑھیوں سے ایک میسج لاہور بڑا ہی غریب نواز شہر ہے۔مسافر نواز بھی ہے اور مہاجر نواز بھی۔یہاں ہجرتوں کے مارے راہرو آتے ہیں اور یہ انہیں اپنی شفقت بھری گود میں سمیٹ لیتا ہے۔مسافروں کو اتنا پیار دیتا ہے کہ وہ اپنا رخت سفر کھول لیتے ہیں ۔لاہور کی اپنائیت بھری خوشبو سے سرشار ہوائیں جب ان سے سرگوشیاں کرتی ہیں وہ سب کچھ بھول بھال کر یہیں کے ہوجاتے ہیں ۔پھر انہیں کوئی اور شہر یادہی نہیں رہتا۔ مجھے یادہے میں جب پچیس برس پہلے لاہور گیا تھاتو یہ لازوال گیت میری سماعت میں شہد ٹپکانے لگا تھاکہ تم یہیں کے ہو ۔اِسی دیا ر ِ…

  • دیوار پہ دستک

    عہدِ جیب تراشاں

    عہدِ جیب تراشاں اقتدار کے ہیروں سے مزین ،چیئرمین سینیٹ کی قیمتی کرسی بظاہر آصف زرداری کی جیب میں ہے مگر جیب کٹ بھی سکتی ہے۔بہت سی آنکھیں اِس کرسی پر لگی ہوئی ہیں۔بہت سے ہاتھ اس کی طرف لپک رہے ہیں۔دیکھئے کس کے ہاتھوں کی انگلیاں کام دکھاتی ہیں۔ سینیٹ کے انتخاب میں تو ہاتھوں کی کارروائی درست ہی رہی ہے۔آصف زرداری نے ندیم افضل چن کو سینیٹ الیکشن میں کارکردگی پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ’’ آپ کے حاصل کردہ ووٹ انتخابی نتائج سے بڑھ کر اہم ہیں ‘‘۔ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی سخت ناراضگی کے اظہار کے بعداِس بات کی انکوائری شروع کردی…

  • دیوار پہ دستک

    دیمک زدہ میثاقِ جمہوریت

    دیمک زدہ میثاقِ جمہوریت سابق صدر نے وہی چراغ جلایا جو تمام ہوچکا ہے۔ امید کسی کھائی میں گر پڑی ہے۔ ولولے کسی گندی نالی میں بہہ گئے ہیں۔تمنا کسی بس اسٹاپ پر گاہک کا انتظار کررہی ہے۔امنگ کی قبر پر ہفتوں سے کوئی آیا گیا نہیں۔ چیرنگ کراس سے گزرتی ہوئی تیزرفتار ویگن کے ٹائروں میں مرتا ہوا شوق چڑیا گھر سے نکل کر اسمبلی ہال تک نہیں پہنچ سکا۔ گلی کے نکڑ پر لگا ہوا آرزو کا بلب بخت آور کی جوانی چاٹ گئی ہے۔ ناتمام کو اختتام کے گیت اچھے نہیں لگتے۔آہ! میثاق ِ جمہوریت میں رکھے ہوئے خواب دیمک زدہ ہوگئے ہیں۔ عوام بھی مایوس ہوتے…