دیوار پہ دستک
اختتامی اجلاس کا صدر
اختتامی اجلاس کا صدر 1347ء کی ایک خوب صورت رات تھی ۔غرناطہ کے الحمرا میں الف لیلیٰ داستان سنائی جا رہی تھی اُس وقت کی مشہور داستان گو کلثوم بن عذیر نے شہزادوں اور شہزادیوں کو اپنی کہانی کے حصار میں قید کر رکھا تھا ۔ لاہور کے الحمرا میں کئی سو سال بعد پھر وہی کہانی اپنے پر پھیلاتی جا رہی تھی، ماحول پروں کی دھیمی دھیمی پھڑپھڑاہٹ میں سحر زدہ ہو چکا تھا یہاں داستان گو چیئرمین الحمرا آرٹس کونسل عطاالحق قاسمی تھے۔یہ پانچویں الحمرا انٹرنیشنل کانفرنس تھی ۔اِس کانفرنس میں عطاء الحق قاسمی نے پاکستان کی تقریباً ایک سو سے زائد اہم شخصیات کو اپنی یادیں لوگوں…
میانوالی کی مٹی
میانوالی کی مٹی میانوالی نے اپنی رُت بدلی۔دریائے سندھ کے پانی میں گندھی ہوئی مٹی نے کہا’تُو جہاں بھی پھرتا رہے، جن آسمانوں پر بھی پرواز کرتا رہے،تجھ سے میرے خمیر کی خوشبو کی چہکار ضرور اٹھے گی‘۔ عمران خان کا خمیر بھی میانوالی سے اٹھا ہے۔میانوالی ایک عجیب و غریب سر زمین کا نام ہے ۔یہ تیس میل چوڑی اور تقریباً پچاس میل لمبی ایک سرسبز و شاداب وادی ہے ۔جس کے تین اطراف میں بے آب و گیاہ پہاڑی سلسلے ہیں اور ایک طرف صحرا ہے ۔ریت ہی ریت ہے ۔دریائے سندھ پہاڑوں سے نکل کر پہلی بار جس میدانی علاقہ میں اترتا ہے وہ یہی میانوالی کی…
ناخن اُکھڑ چُکے ہیں گرہ کھولتے ہوئے
ناخن اُکھڑ چُکے ہیں گرہ کھولتے ہوئے قومیں انصاف کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں اور جب تک انصاف کے ترازو میں لچک نہیں آتی اُن سے سربلندی کوئی نہیں چھین سکتا۔محاذِ جنگ پر اُس وقت تک سپاہی پوری دلیری سے لڑتا ہے جب تک اُسے یقین رہتاہے کہ میری قوم میری اولاد کے ساتھ کبھی کوئی بے انصافی نہیں کرے گی۔برطانوی معاشرہ اپنی تمام تر قباحتوں کے باوجوداگردنیامیں سرفرازہےتوصرف اپنی انصاف گاہوں کے سبب۔ عمران خان یہ بات اچھی طرح جانتے تھے سو انہوں نے کراچی کے ظلم کا انصاف لندن سے مانگااور کامیاب ہوگئے ۔تحریک انصاف کی الطاف حسین کے خلاف شروع کی ہوئی مہم آخرکار منطقی انجام…
خوش قسمت عمران خان
خوش قسمت عمران خان بے شک عمران خان وہ خوش قسمت شخص ہیں جسے راضی کرنے کیلئے قسمت سرگرداں پھرتی ہے ۔اس جملے کی وضاحت کیلئے ایک کہانی سنائی ضروری ہے ۔یہ شفیق خان کی کہانی ہے ۔ جس طرح آج کل مجھے عمران خان کی ذات میں دیس کے تمام مسائل کا حل نظر آتا ہے کسی زمانے میں ، اُسی طرح مجھے شفیق خان کی ذات میں لاہور کے تمام مسائل ِ تصوف کا حل دکھائی دیتا تھا ۔ شفیق خان سے میری پہلی ملاقات پاک ٹی ہائوس میں ہوئی تھی ۔اکھڑا،کھڑا ،ناراض ،ناراض مسلسل شِکنوں سے بھری ہوئی پیشانی،چُبھتی ہوئی آنکھیں ،چیختی ہوئی جینز کی پینٹ،آمادہ ٔ…
یہ عالم خوف کا، دیکھا نہ جائے
یہ عالم خوف کا، دیکھا نہ جائے محمود اچکزئی سے لے کر حضرت ِ عطاالحق قاسمی تک تمام ہمدردان ِ نون نے اپنی جمہوری حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ 23جون کو وہی سلوک کرے جو فوجی حکومت نے نواز شریف کے ساتھ کیا تھایعنی پاکستان پہنچتے ہی انہیں ڈی پورٹ کردیا جائے ۔ طاہرہ سید کی غزل میں تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ(یہ عالم خوف کا ، دیکھا نہ جائے ۔وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے) یہاں تک توساری دانائیاں متفق ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری سلطنتِ علم و قلم کے صاحبانِ اقتدار میں سے ہیں۔قلم پکڑتے ہیں تو کاغذ موتیوں…
دل تو بھیڑیے کے سینے میں بھی دھڑکتا ہے
دل تو بھیڑیے کے سینے میں بھی دھڑکتا ہے مجھے آرڈر دینے والوں کے متعلق کچھ نہیں کہنا۔میں انہیں جانتا ہوں ۔مجھے معلوم ہے ان کے نزدیک انسانی جان کی کوئی حیثیت نہیں۔ممکن ہے پریس کانفرنسز میں پولیس کی بربریت پر دکھ کا اظہار کرنے والے اہل حکم کے بارے میں کچھ لوگ سوچتے ہوں کہ ان کے سینوں میں بھی دل ہیں جو دھڑکتے ہیںتویہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دل تو بھیڑے کے سینے میں بھی دھڑکتا ہے ۔سومجھے آڈر دینے والوں کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں کیونکہ مجھے تو ملک بھر میں دہشت گردی کی قربان گاہ میں تڑپتی پھڑکتی ہوئی لاشوں کے پس منظر میں…
ڈاکٹر طاہرالقادری کے وزیراعظم عمران خان
ڈاکٹر طاہرالقادری کے وزیراعظم عمران خان سوال یہ ہے کہ چودہ اگست دوہزار چودہ کی صبح کیسی تبدیلیوں کے ساتھ نمودار ہوگی۔14 اگست،یہ وہ دن ہے جب دنیا میں ایک نئی قوم کی تخلیق ہوئی تھی۔جب وقت صدیوں کرب کے دوزخ میں تڑپ تڑپ اٹھا تھا، تب جا کر کہیں یہ ساعتِ پُرنور و ضیاء بخش نمودار ہوئی تھی جو ایک نئے عہد کی تمہید بنی۔نیا عہد،مگر کس کا۔چند حاکموں کا یا مظلوم عوام کا….. ہر سال جب چودہ اگست آتا ہے بڑی بڑی تقریبات ہوتی ہیں، نئے نئے نغمے لکھے اور گائے جاتے ہیں، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، پرچم لہرائے جاتے ہیں مگر عمران خان نے کہا ہے اس…
آپریشن کا حکم تو رحمان بابا نے دیا ہے
آپریشن کا حکم تو رحمان بابا نے دیا ہے دھواں ہی دھواں ہے! دھند ہی دھند ہے، دھول ہی دھول ہے ۔کچھ پتہ ہی نہیں چل رہا کہ کونسی گاڑی کہاں جارہی ہے۔کس کی منزل کیا ہے۔غبار کے اسی جلوس میں ہم بھی چل رہے ہیں….دھیرے دھیرے….بچ بچاکر۔اسی جلوس میں وہ بھی رواں دواں ہیں۔خیال میں جمی ہوئی تارکول کی سیاہی اندیشہ ہائے دور دراز کے ٹائروں سے روندی جارہی ہے….کچھ پتہ نہیں چل رہا شام بھی دھند ہے ، صبح بھی دھند ہے۔کہتے ہیں دھند میں منظر جتنے واضح ہوسکتے ہیں آنکھیں اس سے کہیں آگے دیکھتی ہیں مگر جب تک اِس بات کی دھند نہیں ہٹتی کہ منہاج…
ڈھول سپاہیا!تینوں رب دیاں رکھاں
ڈھول سپاہیا!تینوں رب دیاں رکھاں پہلے تو خود رانا ثنا اللہ سے استعفیٰ لے لیا گیا۔پھر اس کے بھتیجے ارسلان افتخار کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا۔راجپوتوں نے تو وفا کی تھی مگر افسوس لیلائے حکومت ہرجائی نکلی۔راجپوت تو پھر راجپوت ہیں مسلسل وفا کئے جارہے ہیں وفا کی آس اُسی یارِ بے وفا سے ہے بدن ہے راکھ مگر دوستی ہوا سے ہے گذشتہ دنوں ایک اخبار میں نون لیگ کی طرف سے راناثنااللہ کیلئے دعاکا اشتہار دیکھ کر لوگ حیران ہوئے۔ میںپریشان ہوا۔اشتہار کی پیشانی پر درج تھا ’’تینوں رب دیاں رکھاں ‘‘یعنی نون لیگ نے اپنے اِس ’’ڈھول سپاہی‘‘ کو اگلے مورچوں پر بھیج دیا ہے جہاں…
نئے انتخابات کا پھندا
نئے انتخابات کا پھندا یہ کوئی کتاب نہیں تھی بلکہ ایک بہت بڑی عمارت ہے جس میں چھبیس بڑے بڑے فلیٹ ہیں اوراس عمارت کا نام پاکستان ہے ۔پوری دنیا پر پھیلا ہوا پاکستان ۔کچھ فلیٹس ایسے بھی ہیں جن میں داخل ہونے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ یہ پاکستان نہیں ہو سکتا مگر ڈرائنگ روم میں لگی ہوئی (نوازشریف کا دشتِ سعودیہ سے شکارشدہ )نیلے ہرن کی کھال اتار کر دیکھا جائے تو دیوار میں پڑی ہوئی دراڑیں پڑھنے والوں کو پھر پاکستان پہنچادیتی ہیں۔ میں جب پہلے فلیٹ میں داخل ہوا تو ایسا لگا جیسے میں کسی ٹائم مشین پر سوار تھا جس نے پہلی بریک لاہور…