دیوار پہ دستک
وقت کو قضا مت کرو
وقت کو قضا مت کرو میں نے آج نواز شریف کے ایک قریبی آدمی سے کہا کہ ’’وقت کو قضا مت کرو‘‘ تو اس نے اس جملے کی وضاحت چاہی ۔ میں نے جملے کی وضاحت میں جو سچے واقعات اسے سنائے آپ کے ساتھ بھی شیئر کررہا ہوں ۔ یہ 1987ء کی بات ہے اگست کے ایک دہکتے ہوئے جمعے کی صبح تھی میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ٹھیک نو بجے اس شخص سے ملنے پپلاں گیا تھا وہ میرے بڑے بھائی کا دوست تھا وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے تھے ہم جب وہاں پہنچے تو مولوی صاحب بڑے پیار سے ہمیں ملے ان کے حجرے میں…
صاحبِ عزت کون
صاحبِ عزت کون ’’خانۂ لاشعور میں کھڑکیاں بج رہی تھیں۔ چمکتی بجلیوں میں پنجابی فلموں کے ہیرو صور پھونک رہے تھے ۔بادلوں میں روشنیوں کی رقاصہ آخری کتھک ناچ رہی تھی۔ بھادوں بھری شام کے سرمئی سیال میں زمین ڈوبتی چلی جا رہی تھی ۔پگھلا ہوا سیسہ سماعت کا حصہ بن گیا تھا ۔مرتے ہوئے سورج کی چتا میں ڈوبتے ہوئے درخت چیخ رہے تھے۔پرندوں کے پروں سے آگ نکل رہی تھی ۔ ٹوٹتے تاروں کے مشکی گھوڑوں کی ایڑیوں سے اٹھتی ہوئی کالک زدہ دھول میں کائنات اور میں گم ہو چکے تھے۔ اسٹریٹ لائٹ کی آخری لو بھاپ بنتی ہوئی تارکول میں ضم ہوچکی تھی۔ سائے دیواروں کو…
یہ رات بہت پاک وطن تجھ پہ کڑی ہے
یہ رات بہت پاک وطن تجھ پہ کڑی ہے ایف آئی اے نے درخواست کی تھی کہ اصغر خان کیس کے سلسلے میں 14 جنوری کو اپنا بیان ریکارڈ کرادیںمگر نواز شریف نے انکار کردیا ہے۔ جنگل کے بادشاہ کی مرضی ہے،آخر میں نے بھی اسی جنگل میں رہنا ہے ۔کبھی اس جنگل کے شیر پرویز مشرف ہوا کرتے تھے اور انہیں یہ زعم ہے کہ وہ اب تک شیر ہیں چاہے بیمارہی کیوں نہیں ۔وہ اگر اپنا بیان ریکارڈ کرانے پر تیار نہیں تو نواز شریف کیوں کرائیں وہ تو اس وقت حاضر سروس شیر ہیں ۔انہیں کون پوچھ سکتا ہے ۔جنگل کے ایک اور سابقہ شیر آصف زرداری…
کچھ سیاسی شاعری
کچھ سیاسی شاعری آصف علی زرداری جب صدر ہوا کرتے تھے تو کبھی کبھار ان کے حوالے کوئی نہ کوئی شعر سرزد ہو جاتا تھا مگر ان کے تمام دورِ اقتدار میں ان کے حوالے کہے گئے اشعار کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ۔ایک بار جب کسی بات پر بہت تکلیف ہوئی تو کہا تھا: میں جنابِ صدر ملازمت نہیں چاہتا مگر اب فریب کی سلطنت نہیں چاہتا مرا دین صبح کی روشنی مری موت تک میں شبوں سے کوئی مصالحت نہیں چاہتا میں حریصِ جاہ و حشم نہیں اِسے پاس رکھ یہ ضمیر زر سے مباشرت نہیں چاہتا پھر ایک بار ایک نظم کہی تھی جس میں…
محمود ہاشمی
محمود ہاشمی یوں توکالم کی آنکھوں میں ہر روز آنسو ہی ہوتے ہیں۔ کبھی کراچی میں بے گناہ شہید ہونے والوں کا ماتم توکبھی کوئٹہ کی کربلا پر نوحہ خوانی، کبھی کالم پاک فوج کے شہیدوں کی عظمتوں کو خراج عقیدت پیش تو کبھی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے معصوم پاکستانیوں کے دکھ پربین… افسردگی ، اداسی اورغم صرف میرے ہی نہیں ہر کالم نگار کے کالموں کا اثاثہ بن کر رہ گئے ہیں حتی کہ عطاالحق قاسمی جو مزاح نگار ہیں ان کے مزاح میں چیخیں کروٹیں لیتی ہوئی دکھائی دینے لگی ہیں ۔آج پھر میرے کالم کی کیفیت وہی ہے مگر آج کاغم تھوڑا سا مختلف ہے۔…
عمران خان
عمران خان عمران خان کا نام جب طالبان نے اپنی مذاکراتی ٹیم میں ڈالا تو عمران خان کو طالبان خان کہنے والوں کی آنکھیں خوشی سے باہر نکل آئیں، انہوں نے وہ آنکھیں اپنی ہتھیلیوں پہ رکھ لیں اور گلی گلی لوگوں کو دکھانے لگے کہ دیکھا ہم ٹھیک ہی کہتے تھے۔حتی کہ ایک ٹی وی چینل نے تو عمران خان کے خلاف باقاعدہ ایک فلر بنا کر چلانا شروع کردیاکہ ان کے باقاعدہ طالبان کے ساتھ رابطے ہیںیعنی وہ طالبان کے شریک کار ہیں۔ میں عمران خان کے حوالے سے جب بھی سوچتا ہوں مجھے مینو طور یاد آجاتا ہے ۔یونانی دیو مالا میں مینو طور کا پورا دھڑ…
اللہ خیر کرے
اللہ خیر کرے میں بر طانیہ میں رہتا ہوں مگر میرا دل پاکستان میں دھڑکتا ہے۔ صبح اٹھ کر سب سے پہلے جنگ اخبار دیکھتا ہوں مگر یہ تو خیر طے شدہ بات ہے کہ پاکستان کی طرف سے خیر کی خبر کبھی نہیں آئی بلکہ ہر نئی آنے والے خبر پہلے سے زیادہ دل دہلانے والی ہوتی ہے۔ مذاکرات کا ادھورا ڈرامہ ہوا۔ ہمارے کچھ اور افراد شہید کر دئیے گئے۔کرپشن میں کچھ اور اضافہ ہوا۔ کراچی میں لاشوں کی برسات تھم نہ سکی۔ بلوچستان کے آتش فشاں لاوا اگل رہے ہیں طالبان کے خلاف آپریشن کیلئے حکومت مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پھر…
آپریشن سے مرہم پٹی تک
آپریشن سے مرہم پٹی تک اس وقت آپریشن کا بہت چرچاہے ہے۔تقریباً تمام اہم سیاسی پارٹیاں آپریشن کے آپشن پر متفق ہوتی نظر آرہی ہیں۔اس وقت آپریشن تھیٹر سجادیا گیا ہے۔ڈاکٹروں اور نرسوں نے اپنے مخصوص لباس پہن لئے ہیںاور مریض کو بے ہوشی کے انجکشن دئیے جارہے ہیںیعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپریشن تقریباً شروع ہوچکا ہے مگرشدت پسندی کے خلاف فوجی آپریشن تو وہی آپریشن ہے جو آپریشن تھیٹر میں جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ مریض جب آپریشن تھیٹر سے باہر آئے گا تو پھر کیا ہوگا۔زخم کی مرہم پٹی کیسے ہوگی۔میرے خیال میںیہ زخم کو جراثیم سے محفوظ رکھنے والا دوسرا حصہ فوجی آپریشن…
27 واں ادارہ
27 واں ادارہ کسی سینے میں ترازو ہونے کیلئے تیر جب کمان میں نکلتا ہے تو اُس ثانیہ کے مختصر دورانیہ میں جو آنکھ ہدف کو وہاں سے ہٹانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ جسم کے باقی تمام اعضاء اسی جاسوس آنکھ کی شان میں زندگی کے گیت کہتے ہیں۔ یہی جاسوس آنکھ ممالک کی ترقی اور دوسرے اہم معاملات میں بھی بھرپور کردار ادا کرتی ہے۔ کسی بھی مملکت کے جاسوس دراصل اس کی آنکھیں ہوتے ہیں، ملک کے اندر بھی اور ملک سے باہر بھی۔ خوش قسمتی سے پاکستان کی یہ آنکھ دیکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی ژرف نگاہی پوری دنیا میں تسلیم شدہ ہے…
دیوار پہ دستک
دیوار پہ دستک نئی دہشت گرد تنظیم ’’احرار الہند‘‘کا تجزیہ کرتے ہوئے سب سے پہلے تو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے یہ انام احرار الہند کیوں رکھا۔ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ایک تویہ کہ وہ واضح کرنا چاہتے کہ ہم پاکستان کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتے ۔تنظیم کے نام کے ساتھ ’’ہند ‘‘ کے لفظ کا استعمال اسی نقطہ ء نظر کو نمایاں کرنے کیلئے کیا گیاہے ۔ اس نام رکھنے کی دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ’’احرار ‘‘ کا لفظی مطلب ہوتاہے کہ وہ قوم یا گروہ جوکسی کی غلامی قبول نہ کرے یا کسی کی غلامی میں نہ…