ishfaq chughtai
دیوار پہ دستک

رباعیات اشفاق چغتائی

رباعیات 
تخلیق و عدم ، لوح و قل صرف خیال 
ہر سمت جہاں میں ہے بہم صرف خیال 
محسوس کرو خود کو نہ اشفاق جہاں میں 
موجود کوئی اور ہے ہم صرف خیال 
۔۔۔
ہر لمحہ ہوا آپ ؐ کا توحید بدست 
مخلوق ہوئی آپ ؐ سے تمجید بدست 
توصیف کریں آپ ؐ کی دونوں عالم 
آفاق نماآپؐ ہیں خورشید بدست 
۔۔۔
کیا ذات کے بازار میں ہم رہتے ہیں 
یوں لگتا ہے دیوار میںہم رہتے ہیں 
معلوم نہیں ہوتا کچھ صدیوں ہم کو 
تہذیب کی کس غار میں ہم رہتے ہیں 
۔۔۔
اقلیدس سے ، علم ریاضی سے پوچھا 
منصور سے کی گفتگو قاضی سے پوچھا
ہوتی ہے محبت میں مثلث آخر کیوں 
پوچھاخدا سے ، عشق کے ماضی سے پوچھا 
۔۔۔
اس عالمِ ناسوت میں آئی کیوں ہے
اس قریہ ، طاغوت میں آئی کیوں ہے 
اشفاق کوئی روح سے پوچھے اتنا 
اس جسم کے تابوت میں آئی کیوں ہے 
۔۔۔
ہر ایک گھڑی کن کی روانی کیا ہے 
یہ آدمی کی نقل مکانی کیا ہے 
اشفاق فقط رزق کا ہے یہ قصہ 
تہذیب و تمدن کی کہانی کیا ہے  
۔۔۔ 
افلاک کی تنویر نظر آتی ہے 
ادراک میں تقدیر نظر آتی ہے 
جب شکل بناتی نہیں منطق تو پھر 
کیوںذہن میں تصویر نظر آتی ہے 
۔۔۔ 
اپنے دل ناکام سے کیا بات کریں 
غم ہائے سیہ فام سے کیا بات کریں 
اشفاق یہ خاموش ہے اپنے دکھ سے 
اس درد بھری شام سے کیا بات کریں 
۔۔۔ 
آنکھوں سے کوئی خواب چرایا کب ہے 
دنیا کو لہو اپنا دکھایا کب ہے 
چہرے پہ لکھی میں نے رباعی اشفاق 
کاغذ پہ کوئی نقش بنایا کب ہے 
۔۔۔ 
اک چاند ستارہ سا علم میں رکھنا 
آزاد خیالی کو دھرم میں رکھنا 
اشفاق محمد ؐ کی قسم ہے تجھے کو 
سچائی کی طاقت کو قلم میںرکھنا 
۔۔۔ 
اسلام وہی اورر سالت ہے وہی 
جو ایک ہو دنیا میںحکومت ہے وہی
اشفاق مدنیہ ہے وفاقی مرکز 
اس امتِ مسلم کی ضرورت ہے وہی 
۔۔۔ 
کیا قوم کہیں حاملِ تہذیب ہوئی 
بارودی سرنگوں کی ہے تنصیب ہوئی 
پھر امن کا بندوق سے پرچار کیا 
تعمیر کے پھر نام پہ تخریب ہوئی 
۔۔۔ 
نیکی کے ، عبادت کے خزینے کو کہیں 
جیون میں سعادت کے قرینے کو کہیں 
ہے تزکیہ ، نفس کی جنت اشفاق 
رمضان ثوابوں کے مہینے کو کہیں 
۔۔۔
برسات میںاشکوں کے مہینے میں آ 
دھڑکن کی طرح درد کے سینے میں آ 
اشفاق نکل کفر سے باہر کچھ دیر 
آ اپنی محبت کے مدینے میں آ
۔۔۔ 
سچائی نظربند نہیں ہے کوئی 
اللہ کا فرزند نہیں ہے کوئی 
فرعون ہوعیسیٰ ہو کہ مریم اشفاق 
انسان خداوند نہیں ہے کوئی 
۔۔۔ 
کچھ اور نہیں ، کہیں کوئی سایہ تھا 
کہتی ہے ز میں ، کہیں کوئی سایہ تھا 
سورج سے بھری ہوئی گلی ہے اشفاق 
کل رات یہیں کہیں کوئی سایہ تھا 
۔۔۔ 
برسات ہے اور جسم بھی گیلا سا ہے 
بارش کا ثمر کڑوا کسیلا سا ہے 
کشمیر کی وادی میں ہوں زندہ اشفاق 
سردی سے بدن شام کا نیلا سا ہے
 
اعجازِ طلب کس میں ہے طالب ہے کون 
عرفان کسے چاہیے ، کاذب ہے کون 
میں دیکھتا ہوں ظرف کی وسعت اشفاق 
میں سوچتا ہوں میرا مخاطب ہے کون 
۔۔۔ 
مجبور قوانین کی ، قدرت کی غلام 
ہے ردِ عمل کوئی نہ طاقت کی غلام 
آزاد ہے یہ ذہن ِازل سے اشفاق
انسان کی حرکت نہیں فطرت کی غلام 
۔۔۔ 
ہر چیز کے انکار میں موجود ہے وہ 
اس روح کے اسرار میںموجود ہے وہ 
اشفاق عدم سے ہوئی وارد تخلیق 
موجود ہے اظہار میںموجود ہے وہ 
۔۔۔ 
اک نور کی یکجائی ہم آغوش ہوئی 
اس ذات کی رعنائی ہم آغوش ہوئی 
انسان جو اس جسم سے باہر نکلا 
تنہائی سے تنہائی ہم آغوش ہوئی 
۔۔۔
احساس کے تمثال سے باہر دیکھا 
افعال سے اعمال سے باہر دیکھ ا
مطلوبِ حقیقی ہے جو اپنا اشفاق 
اس حسن کو اشکا ل باہر دیکھا 
۔۔۔ 
کیا گیت میں سنگیت میں ڈھالا جائے 
کیا پھول سے چہرے کو اچھالا جائے 
اعمال نظر آتے ہیں خال و خد سے 
کی حسن تناسب سے نکالا جائے 
کیا عرشِ علیٰ طور پہ دیکھا جائے 
کیا خواب نیا طور پہ دیکھا جائے 
کہسار سیہ آگ سے ہیں وہ اب تک 
اللہ کو کیا طور پہ دیکھا جائے 
۔۔ ۔ 
ہے خاک سے کچھ بیر مجھے لگتا ہے 
یہ میرا حرم دیر مجھے لگتا ہے 
اشفاق جدا اصل سے کرنے والا 
یہ جسم کوئی غیر مجھے لگتا ہے 
۔۔۔ 
احساس کی یکسوئی ضروری تو نہیں 
شعلے کے لئے روئی ضروری تو نہیں 
اشفاق بدن خاک بنا لے اپنا 
ہونے کیلئے دوئی ضروری تو نہیں 
۔۔۔ 
پانی میں کوئی شمع جلائی تو نہیں 
پھر طورکی تحریک چلائی تو نہیں 
اشفاق کسی تازہ تجلی کے لئے 
سورج کی طرف آنکھ اٹھائی تو نہیں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے