دیوار پہ دستک

دریا کا دیا ہوا حلف

منصور آفاق

سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کا ضابطہ نہیں، یہ دو دشمن قوموں کے درمیان ایک ایسا عہد ہے جو کاغذ پر نہیں، دریا کی دھڑکن پر لکھا گیا ۔ نہ قلم سے، نہ میز پر، بلکہ وقت کے ضمیر نے اسے اپنی پیشانی پر نقش کیا۔یہ معاہدہ، سیاسی ہتھیلیوں پر نہیں رکھا گیا، بلکہ فطرت کی ہتھیلی پر رکھا گیا ۔ جہاں ہر قطرہ گویا انسانیت کا ایک مقدس وعدہ تھا، اور ہر دریا ایک صداقت کی گواہ۔یہ کوئی معمولی تحریر نہیں، بلکہ پانی کی زبان میں لکھا وہ بولتا ہوامتن ہے، جسے صرف وہی دل پڑھ سکتے ہیں جو انصاف سے دھڑکتے ہیں۔ انیس ستمبر 1960 کا وہ دن، جب دنیا نے پاکستان اور بھارت کو ایک میز پر بیٹھے دیکھا، نہ صرف ایک تاریخی لمحہ تھا بلکہ اس خطے کی آئندہ صدیوں کی سانسوں کا تعین بھی۔ معاہدے کی روح سادہ تھی: پانی کو جنگ کا ہتھیار نہیں بننے دیا جائے گا۔ مشرق کے تین دریا ۔ راوی، بیاس، ستلج ۔ بھارت کو دے دی گئیں۔ مغرب کے دریا ۔ سندھ، جہلم، چناب ۔ پاکستان کی زندگی کا حصہ بنیں۔ یہ کوئی زمین کی تقسیم نہ تھی، یہ اعتماد کا معاہدہ تھا۔ پاکستان نے صرف پانی نہیں بخشا، بلکہ یہ مان لیا کہ دشمنی کے باوجود قانون کی چھاؤں میں امن اُگایا جا سکتا ہے۔ لیکن وقت نے دکھایا کہ جس ہاتھ نے اعتماد تھاما، وہی ہاتھ خنجر بھی نکال سکتا ہے۔جب بھارت نے کشمیر کی وادی میں بجلی کے نام پر کشن گنگا کو زنجیروں میں جکڑا، تو وہ نہ صرف پانی کے بہاؤ کو روکا بلکہ معاہدے کی روح کو زخمی کیا۔ اور جب پاکستان نے قانونی راستہ چنا، تو وہ دریا عدالت کی طرف مڑ گیا ۔ کیونکہ سندھ طاس معاہدہ، دنیا کے ان چند معاہدوں میں سے ہے جس کی نگرانی اور تنازعات کے حل کے لیے ثالثی عدالت کا راستہ پہلے سے طے شدہ ہے۔ یہ عدالت ۔ سات ستونوں پر کھڑا انصاف کا ایوان ۔ دو فریقوں کے ارادوں سے بالاتر، بین الاقوامی قانون کا ترجمان ہے۔ یہ کوئی رضاکارانہ مذاکراتی میز نہیں، بلکہ ایسی عدالت ہے جس کے فیصلے لازمی اور حتمی حیثیت رکھتے ہیں۔2013 میں عدالت نے بھارت کو یاد دلایا کہ دریا پر تعمیرات ہو سکتی ہیں، مگر معاہدے کی حدود کے اندر۔ پانی کو استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر قابو میں نہیں لایا جا سکتا — کیونکہ پانی، فطرت کی امانت ہے، کسی ملک کی جاگیر نہیں۔ پھر 2016 آیا، اور پاکستان نے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا۔ بھارت، جو خود اس عدالت کو مان چکا تھا، اچانک مکر گیا۔ اُس نے عدالت کو "غیر قانونی” کہہ کر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ، جیسے کوئی مجرم جج کو جھٹلا دے مگر 6 جولائی 2023 کو عدالت نے تاریخی فیصلہ دیا: معاہدہ ایک طرفہ طور پر نہ معطل کیا جا سکتا ہے، نہ منسوخ۔ عدالت نے کہا: "معاہدہ تب تک قائم ہے جب تک دونوں فریق مل کر اسے ختم نہ کریں۔” بھارت نے 2025 میں سیاسی شورش اور دہشت گردی کے الزامات لگا کر معاہدے کو "معطل” کرنے کا دعویٰ کیا ۔ جیسے کوئی اندھیرے میں چراغ بجھا کر صبح کو روکنے کا حکم دے۔ مگر عدالت نے فوراً واضح کیا کہ نہ یہ معاہدہ بھارت کی مرضی سے بند ہو سکتا ہے، نہ ثالثی کا عمل رک سکتا ہے۔یہ معاہدہ بین الاقوامی قانون کی حفاظت میں ہے، بھارت کے سیاسی بیانیوں کی نہیں۔بھارت کا دعویٰ، صرف پاکستان کی مخالفت نہیں، بلکہ انصاف کی توہین ہے۔ وہ معاہدہ جو اقوامِ متحدہ، عالمی بینک اور عالمی ضمیر کے سائے میں طے پایا، اُسے اکیلا چیرنے کی کوشش گویا اس بات کا اعلان ہے کہ طاقتور ممالک اب قانون سے بالا تر ہوں گے۔ مگر یہ صرف پاکستان نہیں، دنیا کے ہر کمزور ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوگی۔ یہ معاہدہ ویانا کنوینشن جیسے عالمی اصولوں کے تحت قائم ہے ۔ جہاں یکطرفہ علیحدگی کی اجازت نہیں۔ اگر بھارت کو معاہدہ توڑنے دیا جائے، تو پھر دنیا کے ہر معاہدے کو صرف طاقت کے بل پر توڑا جا سکتا ہے، اور قانون کا تصور دفن ہو جائے گا۔پاکستان نے دنیا کو دکھایا کہ وہ صرف ایک ریاست نہیں، بلکہ قانون، ضمیر اور صبر کا استعارہ ہے۔ وہ عدالت کی دہلیز پر گیا، اسلحے سے نہیں، دلیل سے لڑا اور ثابت کیا کہ امن کا دفاع بندوق سے نہیں، تحریر سے ہوتا ہے۔سندھ طاس معاہدہ، فقط دریا کی تقسیم نہیں، نسلوں کے حق کی گواہی ہے۔ اور گواہی، تاریخ میں لکھی جاتی ہے — مٹی پر نہیں، وقت کے سینے پر۔ اور وقت، ہمیشہ انصاف کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ برقرار ہے، اور رہے گا۔ کوئی سیاسی بیان، کوئی ہنگامی اعلان، اور کوئی غرور بھرا انکار اسے توڑ نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ تحریر کسی وزیر کے قلم سے نہیں، فطرت کے وعدے سے لکھی گئی ہے۔یہ مضمون کسی عدالت کی دلیل نہیں، بلکہ اس کسان کی امید ہے جس کی زمین پانی مانگتی ہے۔ اس بچی کی دعا ہے جس کے چہرے پر زندگی صرف اس ندی سے آتی ہے جو بھارت بند کرنا چاہتا ہے۔ یہ اس دریا کی صدا ہے جو کہتا ہے "مجھے مت روکو۔ میں صرف پانی نہیں، کسی قوم کا حق ہوں۔ اور حق، کبھی بند نہیں ہوتا۔” بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو منسوخ یا معطل کرنے کی کوششیں، قانون کی بنیاد پر نہیں، غرور کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں ۔ یہ دلائل دلیل سے نہیں، دشمنی سے جنم لے رہی ہیں۔یہ وہ بیانیے ہیں جن کا سایہ سیاست پر ہے، اور بنیاد خوف پر ۔ جنہیں قانون کی عدالت نہیں، صرف نفرت کا سپیکر سہارا دیتا ہے۔بھارت نے جو الزامات تراشے، وہ دلائل نہیں، بہانے ہیں جن کا بوجھ عالمی انصاف کی میز پر ہمیشہ ہلکا ثابت ہوا۔یہ دلائل ایسے ہیں جیسے خالی مٹکے کا شور ۔ سطح پر بلند، مگر اندر سے کھوکھلے۔عالمی قانون کے آئینے میں جب بھارت اپنے مؤقف کو دیکھتا ہے، تو اسے صرف اپنی ضد کا عکس نظر آتا ہے، دلیل کا نہیں۔ یہ وہ شور ہے جو عدل کی خاموشی کے مقابل کھڑا ہونا چاہتا ہے مگر ہر بار عدل کی خاموشی، تاریخ کی سب سے بلند آواز بن جاتی ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے