علامہ محمد ناصر الدین البانی آگے لکھتے ہیں”چونکہ اکثر حالات میں چہرہ اور ہاتھ عادتاً اور عبادت کرتے ہوئے کھل جاتے ہیں یہ صلٰوة اور مناسک حج کی ادائیگی میں بھی ہوتا ہے تو یہ بات درست ہے کہ استثنیٰ چہرے اور ہاتھوں کی طرف ہی رجوع ہو اس پر وہ روایت بھی روشنی ڈالتی ہے جسے ابو داؤد نے حضرت عائشہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت اسماء حضور کے پاس حاضر ہوئیں تو بارقیک کپڑے پہنے تھیں آپ نے منہ پھیر لیا اور فرمایا جب عورت بلوغ کو پہنچ جائے تواس اور اس (چہرے اور ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا ) کے سوا باقی اعضا ء ظاہر نہیں کرنے چاہئیں “۔اس سلسلہ میں ذرا آگے چل کر کہتے ہیں :
” یہ بات خصوصیت سے قابل ذکر ہے کہ حضور اکرم کے عہد مبارک میں عورتوں کا عمل اس پر رہا ہے کہ وہ اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کھلا رکھتی تھیں حضور کے دربار میں اس طرح حاضر ہوتی تھیں اور آپ ان پر کوئی نکیر نہیں فرماتے تھے اس سلسلہ میں کثیر روایات ہیں جن میں سے ہم چند کا ذکر کرتے ہیں :حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں حضور کے ساتھ عید کی نماز میں حاضر ہوا آپ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھا ئی جس میں نہ اذان تھی نہ اقامت پھر بلا ل کے سہارے ٹیک لگا کر آپ کھڑے ہوئے اور تقوی کا حکم دیا وعظ فرمایا ۔ پھر عورتوں کے پاس گئے انہیں نصیحت فرمائی ذکر خدا کی طرف مائل ہونے کی ترغیب دی اور فرمایا صدقہ کرو کیونکہ تم میں سے اکثر جہنم کا ایندھن بن جاتی ہیں عورتوں کے درمیان بیٹھی ہوئی ایک عورت کے رخساروں کا رنگ پھیکا پڑ گیا اور سیا ہ ہو گیا بولی اے اللہ کے رسو ل کیوں ؟ آپ نے فرمایا تم کثرت سے غیبت کرتی ہو حضرت جابر کہتے ہیں کہ وہ اپنے زیورات کا صدقہ کرنے لگیں اور بلال کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں “۔ (مسلم ، نسائی ، داری ، بیہقی، مسند احمد )اس راویت میں حضرت جابر بتا رہے ہیں کہ عورت کے رخساروں کا رنگ پھیکا پڑگیا اور سیاہ پڑگیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چہرہ کھولے بیٹھی تھی کہ حضرت جابر نے اس کے رنگ کے متعلق یہ تغیر دیکھ لیا ۔ ” حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک خاتون حجة الوداع میں قربانی کے دن حضور سے ایک مسئلہ پوچھنے آئی فضل بن عباس حضور کے ذرا پیچھے بیٹھے تھے عورت بھی بڑی حسین تھی اور فضل بھی بہت خوبصورت تھے دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے حضور نے فضل کی ٹھوڑی پکڑ کر دوسری طرف موڑ دی ۔ یہی روایت حضرت علی بن ابی طالب سے بھی ہے “۔(بخاری ، مسلم ، ابو داؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، موطا امام مالک ، بیہقی )
یہ اور اس قسم کی بہت سی روایات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور کے عہد میں عورتیں خود آپ کے پاس بھی اس حال میں حاضر ہوتی تھیں کہ ان کا چہرہ اور ہاتھ کھلے ہوتے تھے حضور نے کبھی انہیں یہ حکم نہ دیا کہ وہ چہرے اور ہاتھوں کو چھپا لیں ۔ (تفسیر قرطبی زیر آیات حجاب )رہا گھر وں میں بالکل بند ہو جانا تو یہ قرآن کی تجویز کر دہ ایک سزا ہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے : ”تمہاری عورتوں میں سے جو ایسی حرکات کی مرتکب ہوں جو زنا کی طرف لے جانے والی ہوں تو اس پر چار آدمیوں کی گواہی طلب کرو اور اگر وہ گواہی دیں تو انہیں گھر سے باہر آنے جانے سے روک دو تاآنکہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے لئے کوئی راستہ پیدا کردے “۔مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی صاحب اس مسئلہ میں خاصے متردد ہیں ایک طرف یہ لکھتے ہیں کہ :”مردوں کے لئے عورت کا ستر ہاتھ اور منہ کے سوا پورا جسم ہے عور ت کو ایسا باریک یا چست لباس نہیں پہننا چاہیے جس سے بدن اندر سے چھلکے یا بدن کی ساخت نمایاں ہو حضرت عائشہ کی راویت ہے کہ ان کی بہن اسماء بنت ابی بکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئیں اور وہ باریک کپڑے پہنے ہوئے تھیں حضور نے فورا منہ پھیر لیا اور فرمایا ” اسماء جب عورت بالغہ ہو جائے تو جائز نہیں ہے کہ منہ اور ہاتھ کے سوا ان کے جسم کا کوئی حصہ نظر آئے “۔ (ابو داؤد )(تفسیر سورہ نور طبع اول محرم 1383 ص 104-105) آگے یہ روایت نقل کرتے ہیں :حضرت عائشہ کے ہاں ان کے رضاعی بھائی عبداللہ بن الطفیل کی صاحبزادی آئی ہو ئی تھیں ۔ رسول اللہ گھر میں تشریف لائے تو انہیں دیکھ کر منہ پھیر لیا ۔ حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ یہ میری بھانجی ہے۔ آپ نے فرمایا جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کیلئے حلال نہیں کہ وہ ظاہر کرے اپنے منہ کے سوا اور اپنے ہاتھ کے سوا اور ہاتھ کی حد آپ نے اس طرح بتائی کہ خود اپنی کلا ئی پر ہاتھ رکھا ۔ مٹھی اور ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی کی جگہ تھی“۔ان واضح روایات کو وہ تسلیم کرتے ہیں پھر اصرار کرتے ہیں کہ منہ ڈھکا ہوا ہونا چاہیے ۔بہر حال فقہائے حنفیہ کے ایک اچھے خاصے گروہ نے جو کچھ تسلیم کیا ہے وہ مولانا مودودی ہی کے الفاظ میں ہم لکھ دیتے ہیں ۔
”بعض مفسرین نے ماظھر منھا کا مطلب لیا ہے مایظھر ہ الا نسان علی العادة الجاری ”جسے عادة انسان ظاہر کرتے ہیں “اور پھر وہ اس میں منہ اور ہاتھوں کو ان کی آرائشوں سمیت شامل کر دیتے ہیں یعنی ان کے نزدیک یہ جائز ہے کہ عورت اپنے منہ کو اور سرمے اور سرخی پاؤڈر سے اور اپنے ہاتھوں کو انگوٹھی ، چھلے اور چوڑیوں اور کنگن وغیرہ سے آراستہ رکھ کر لوگوں کے سامنے کھولے پھر ے یہ مطلب ابن عباس اور ان کے شاگردوں سے مروی ہے اور فقہائے حنفیہ کے ایک اچھے خاصے گروہ نے اسے قبول کیا ہے “۔(احکام القرآن ج 3 ص 388-389 بحوالہ تفسیر سورہ نور ص106 طبع اول 1381 )
مولانا نے پردہ نام کی ایک کتاب بھی لکھی ہے اور وہاں بھی انداز ایسا ہی متردد ہے اور آخر میں کہہ جاتے ہیں کہ ہمیں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہیے کہ جہاں عورت کو میلی نظر سے دیکھنے کے لئے دو آنکھیں انھیں وہاں انہیں نکالنے کے لئے پچاس ہاتھ بھی اٹھ جائیں ۔ مولانا کی اس بات سے ہمیں اتفاق ہے ۔ان تصریحات کی روشنی میں صاف نظر آتا ہے کہ اسلام نے کہیں بھی یہ حکم نہیں دیا کہ عورت کو گھروں میں بند رکھا جائے اور اگر انتہائی مجبوری کے عالم میں اسے گھر سے نکلنے کی اجازت بھی دی جائے تو برقع کی صورت میں اسے پنجرے میں ہی بند باہر بھیجا جائے جیسا کہ پہلے وضاحت کی جاچکی ہے گھر میں بندرکھنا تو قرآن حکیم کے نزدیک ایک سزا ہے جو زن فاحشہ کے لئے تجویز کی گئی تھی جس کا ذکر سورہ نساء میں آچکا ہے ۔مگر ملائیت کے غلبہ نے خاتون کے لیے نئی اصطلاحات وضع کر دیں،خود لفظ عورت کے معنی ہیں ڈھانپ کر رکھی جانے والی ۔ شرمگاہ اور وہ اعضا ء جنہیں ڈھانپ کر رکھا جائے انہیں ” عورت “ کہا جاتا ہے مگر اسی لفظ کو خاتون کے معنی دے دیئے گئے تاکہ ذہنوں میں تصور واضح ہوجائے کہ صفت نازک ساری کی ساری سرکی چوٹی سے پیر تک چھپا کر یا ڈھانپ کر رکھی جانے والی چیز ہے “ اس کے ساتھ ہی دیکھئے ” گھر “ سے بھی بیوی مراد لی جاتی ہے کیونکہ عقیدہ ہے کہ وہ گھر میں مقید رکھی جانے والی مخلوق ہے دکن کی اردو میں ” گھر “ بیوی کو ہی کہا جاتا ہے ۔ پشتو میں گھر کو ”کور “ کہتے ہیں اور بیوی کو بھی ”کور “ کہتے ہیں ۔ عورت کے ساتھ دوسرا لفظ مستورات رائج ہو گیا جس کے معنی چھپی ہوئی چیز کے ہیں۔
رسول اللہ کے عہد سعادت میں عورتوں نے زندگی کے ہر میدان میں انتہائی جاندار کردار سر انجام دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ایک عرصہ سے ہمیں پڑھایا جا ہا ہے کہ ”حصول علم ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے “اگر عورت کو گھر میں بند کر کے ہی رکھنا ہے تو علم کہاں سے حاصل کریگی اور پھر علم اس کے کس کا م آئیگا کیا وہ ساری عمر کھانے پکانے کی ترکیبیں ہی سیکھتی اور پڑھتی رہے گی ۔گھر کے بند ماحو ل میں عورت کے ذہن میں وہ وسعت کبھی نہیں آسکتی جو ایک اچھی ماں بننے کے لئے ضروری ہے ۔