دیوار پہ دستک

عہدِ جیب تراشاں

عہدِ جیب تراشاں

اقتدار کے ہیروں سے مزین ،چیئرمین سینیٹ کی قیمتی کرسی بظاہر آصف زرداری کی جیب میں ہے مگر جیب کٹ بھی سکتی ہے۔بہت سی آنکھیں اِس کرسی پر لگی ہوئی ہیں۔بہت سے ہاتھ اس کی طرف لپک رہے ہیں۔دیکھئے کس کے ہاتھوں کی انگلیاں کام دکھاتی ہیں۔ سینیٹ کے انتخاب میں تو ہاتھوں کی کارروائی درست ہی رہی ہے۔آصف زرداری نے ندیم افضل چن کو سینیٹ الیکشن میں کارکردگی پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ’’ آپ کے حاصل کردہ ووٹ انتخابی نتائج سے بڑھ کر اہم ہیں ‘‘۔ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی سخت ناراضگی کے اظہار کے بعداِس بات کی انکوائری شروع کردی گئی ہے کہ پنجاب سے پیپلزپارٹی کے امیدوار برائے سینیٹ ندیم افضل چن نے 30ووٹ کس طرح حاصل کرلئے۔ اس وقت ہر طرف یہی غور کیا جارہا ہے سینیٹ کے انتخاب میں کس کس پارٹی کی جیب کس کس پارٹی نے کاٹی ہے ۔کس پارٹی کے کتنے ووٹ کس پارٹی نے چرا لئے ہیں۔

اگرچہ ہر پارٹی نے اپنے ووٹ اپنی گرہ میں بڑی مضبوطی کے ساتھ باندھ رکھے تھے۔مگر فنکاروں نے ایسے اپنے ہاتھ کی صفائی دکھائی ہے کہ لطف آگیاہے۔ یہ وہ عہد جیب تراشاں ہے جس میں کسی کی جیب بھی سلامت نہیں۔’’عہدِ جیب تراشاں‘‘ سے مولانا عبدالستارخان نیازی یاد آگئے۔ جن دنوں انہیں جنرل ضیاء نے چھ ماہ کیلئے میانوالی میں نظر بندکردیا تھا تو مولانا نیازی نے اتحاد بین المسلمین پرایک کتاب لکھنی شروع کی تھی ۔اُس وقت مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا تھا کہ وہ بولتے تھے اور میں لکھا کرتا تھا انہی دنوں انہوں نے ایک واقعہ سنایا تھا کہ’’ مجھے معمول کے مطابق جلسے میں تقریر کے بعد تھانے کے حوالات میں بند کردیا گیا۔ وہاں ایک شخص مجھ سے پہلے قید تھا۔اُس کابڑا نورانی چہرہ تھا۔ سفید ریشمی داڑھی تھی۔سفید لباس بھی صاف ستھرا تھا۔ سفید پگڑی بھی بڑی سلیقے سے باندھی ہوئی تھی۔ مجھ سے ملا بھی بڑے احترام سے ۔ میں نے ملتے ہوئے کہا لگتا ہے آپ بھی میری طرح حکومت کو للکارنے والوں میں سے ہیں مگر میں نے آپ کو پہچانا نہیں ۔ تو اس نے کہا۔ مولانا !مجھے بابا جیب تراش کہتے ہیں ۔ میں جیب تراشوں کا پیر ہوں۔ میں نے حیرت اور پریشانی سے کہا۔ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا آپ جیب تراش نہیں ہوسکتے تو کہنے لگا۔مولانا میں نے صرف آپ سے ہاتھ ملایا ہے نا۔ اس کے باوجود آپ کو بتا سکتا ہوں کہ آپ کی جیب میں ساٹھ روپے اور پچاس پیسے ہیں۔‘‘مولانا کہنے لگے۔ ’’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری جیب میں کتنے پیسے ہیں میں نے اپنی جیب سے رقم نکال کر گنی تو حیران رہ گیا ۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ اتنا درست اندازہ کیسے ممکن ہے۔ تو کہنے لگا آپ چاہیں تو آپ کو بھی خبر ہوسکتی ہے‘‘۔مولانا کہتے ہیں ’’ میں ہنس دیا اور کہا۔ نہیں بابا اس عمر میں میں جیب تراش نہیں بن سکتا۔ تو اس نے حکیمانہ تبسم بکھیرتے ہوئے کہا’’مولانا یہ عہد،عہدِ جیب تراشاں ہے۔ ساری دنیا جیب تراش ہے ۔ بڑی بڑی طاقتور قومیں چھوٹی چھوٹی اور پسماندہ قوموں کی جیبیں تراشتی ہیں۔ حکومتیں کرنے والے اپنی عوام کی جیب تراشتے ہیں۔سرمایہ دار مزدور کی جیب تراشتا ہے اور جاگیر دار اپنے مزارعے کی جیب کاٹتا ہے۔ پیر اپنے مریدوں کی جیب کترتے ہیں ۔مولوی اپنے نمازیوں کی جیبوں سے مال نکالتا ہے ۔

دکاندار گاہک کی جیب تراشتا ہے ۔ہر ہاتھ کی دو انگلیوں میں ایک بلیڈ ہے جسے جہاں موقع ملتا ہے وہیں چلا دیتا ہے ۔ جو ہنر مند ہوتے ہیں وہ صاحبِ عزت بنے رہتے ہیں جو بے ہنر ہوتے ہیں پکڑے جاتے ہیں لیکن یہ طے ہے کہ یہ زمانہ جیب تراشوں کا زمانہ ہے۔میں ابھی اُس سے گفتگو کرنا چاہتا تھا مگر اس نے کہا کہ میرا جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ اور حوالات کا دروازہ کھلا اور ایک سپاہی نے اسے باہر آنے کا کہا اور وہ میرے ہاتھ پر بوسہ دے کرباہر نکل گیا۔ شاید اسے تھانے سے جیل منتقل کیا جارہا تھا۔‘‘
ندیم افضل چن شریف آدمی ہیں مگرانہوں نے جو نون لیگ کی جیب کاٹی ہے اُس پر شور بہت مچ گیا ہے ۔آٹھ دس ووٹ کام بھی نہیں آئے۔بدنام بھی کر گئے۔بلکہ ان ووٹروں کا بوجھ بھی گلے پڑگیا ہے۔مجھے مشہور جیب تراش ’’جیرا بلیڈ‘‘ یاد آرہا ہے۔جیرے نے ایک دن تین لوگوں کی جیبیں کاٹیں۔ پہلی جیب سے ایک بجلی کا بل، ایک گیس کا بل، ایک پانی کا بل اور اس کے ساتھ چیزوں کی لمبی فہرست بر آمد ہوئی مگر رقم ندارد۔ دوسرے شخص کی جیب سے بیس روپے اور تین غزلیں برآمد ہوئیں یہ شخص یقینا شاعرتھا اور تیسرے شخص کی جیب سے صرف ایک خط بر آمد ہوا جوگائوں سے اس کی ماں نے اسے بھیجا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ’’ میری طبعیت بہت خراب ہے اوردوائی خریدنے کے بھی پیسے نہیں ہیں۔ تین دن پہلے ہمسائے نے خیرات کی تھی وہاں سے کھانا لائی تھی وہ بھی آج ختم ہوگیا ہے ۔ فوری طور پرکچھ کرو۔میں اِس عمر میں فاقے برداشت نہیں کرسکتی‘‘۔‘جیرے بلیڈ نے اس دردناک خط کو کئی بار پڑھا اور پھر جو شاعر کی جیب سے 20روپے برآمد ہوئے تھے ان میں 80روپے اور ملا کر سوروپے کا منی آرڈراُس ایڈریس پر بھیج دیا جس سے وہ خط آیا تھا۔ندیم افضل چن کے ذمے یہ جو آٹھ دس ووٹ پڑ گئے ہیں ان کا معاملہ جیرے کی طرح کا لگتا ہے۔بہرحال الیکشن کے بعد انہوں نے نون لیگ پر بڑی سخت تنقید کی ہے۔

شہباز شریف کی حکومت کو جمہوری مارشل لا قراردیا ہے۔ لگتا ہے آصف زرداری شطرنج کی بساط پر اپنا شہ کو مات دینے والا گھوڑا کسی اور خانے میں رکھنے والے ہیں۔ یا پھر چن صاحب کسی اور ستارے پر اپنی نظریں گاڑ کے بیٹھے ہیں۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ان کی حالت اُس دیہاتی جیسی ہے جس کی میلے میں جیب کٹ گئی تھی اور اس نے واپس گائوں آکر لوگوں سے کہا’’بھئی میلہ کیا تھا لوگوں نے میری جیب کاٹنے کیلئے ایک ڈھونگ رچا رکھا تھا‘‘آٹھ جیبیں کاٹ کر بھی اگر کسی کی یہ صورت حال ہو توپھر اُسے جیرے کی طرح جیب سے پیسے ڈال کر کسی کی غریب ماں کو بھیجنے پڑتے ہیں۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے