دیوار پہ دستک

خان اور ترین کا احتساب

خان اور ترین کا احتساب

منصورآفاق

شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب نے فرمایاہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین قرضے معاف کرا کر قومی وسائل ہڑپ کررہے ہیں لیکن ان کاایسا احتساب ہوگاکہ دنیا دیکھے گی۔ ان دونوں شخصیات کے احتساب پر کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے ۔بس اس بات پر تھوڑا ساتعجب ہے کہ شہباز شریف پچھلے آٹھ سال سے پنجاب کے مالک و مختار ہیں انہیں یہ دلنواز خیال اتنی دیر سے کیسے آیا۔ہاں اس بات پر خاصی حیرت ہوئی ہے کہ عمران خان نے بھی قرضے معاف کرائے ہیں ۔اس طرح کا کوئی خوبصورت الزام اگر وزیراطلاعات پرویز رشید نے لگایا ہوتا تو اور بات تھی ۔لوگ جانتے ہیںجو اطلاعات کا وزیرہوا کرتا ہے اسے کچھ نہ کچھ کہنا ہوتا ہے۔ مگر شہباز شریف سے یہ توقع کوئی نہیں رکھتا تھا ۔پہلی بات تو یہ ہے اگر انہیں ان کی کرپشن کا ابھی ابھی علم ہوا تھا تو انہیںچاہئے تھا کہ فوری طور پرقومی وسائل ہڑپ کرنےکے جرم میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کراتے اور پھر بتاتے کہ احتساب شروع کردیا گیا ہے۔بحیثیت وزیر اعلیٰ پنجاب قانون کی پاسداری کرنا ان پر فرض ہے ۔مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہاہے کہ وزیر اعلیٰ کو کسی نئے بابونے اس معاملے میںبھی غلط معلومات فراہم کی ہیں کیونکہ عمران خان نے تو کبھی قرضہ ہی نہیں لیا۔معاف کیا کراتے ۔ہاں جہاں تک جہانگیر ترین کی بات ہے تو وہ ضرور قرضہ لیتے اور دیتے رہتے ہیں مگریہ بات بھی صرف پروپیگنڈے کی حدتک محدود ہے کہ انہوں نے قرضے معاف کرائے ہیں ۔وہ خود بھی کئی بار اس الزام کی تردید کر چکے ہیں مگر الزام لگانے والوں کے پاس نقارے زیادہ ہیں ۔اصل قصہ صرف اتنا ہے کہ جہانگیر ترین کے کچھ مخالفین نے ان کا نام قرضہ معاف کرانے والے لوگوں کی فہرست میں شامل کرادیا تھا۔انہی لوگوں نے پھروہی لیٹراسٹیٹ بنک کی طرف سے میڈیا تک پہنچایا ہے ۔جب کہ دوہزار تیرہ میں جب اسٹیٹ بنک کو اپنی غلطی کا احساس ہواتو اس نے نہ صرف اُس فہرست سے ان کا نام نکال دیا تھا بلکہ تحریری طور پر معذرت بھی کی تھی۔وہ معذرت نامہ بھی میڈیا کو دیا جا چکاہے۔ بہر حال اِس وقت نون لیگ کی حکومت ہے ممکن ہے کل اسٹیٹ بنک اُس معذرت نامے سے بھی منحرف ہوجائے مگریہ بھی یاد رکھنے والی بات ہے کہ نون لیگ کے امیدوارصدیق بلوچ نے بھی سپریم کورٹ میں کہا تھاکہ جہانگیر ترین نے چھتیس کروڑ روپے مشرف دور میں معاف کرائے تھے اور قانوناً جس شخص نے قرضہ معاف کرایاہو وہ الیکشن نہیں لڑسکتا مگر وہ بھی ثابت کرنے میں ناکام ہوگیا تھا۔سچ تو یہی ہے کہ اگر جہانگیر ترین نے واقعی قرضے معاف کرائے ہوتے تو نون لیگ کے دور حکومت میں انہیں کس نے الیکشن لڑنے دینا تھا ۔

میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس بات پر داد دیتاہوں کہ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کی طرح شوکت خانم اسپتال پر کوئی الزام نہیں لگایا۔شوکت خانم اسپتال کیلئے ہرسال پاکستانی اربوں روپیہ عمران خان کو دیتے ہیں اور وہ کینسر کا واحد اسپتال ہے جہاں غریب مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔اسے متنازع بنانا اپنی قبر میں انگارے بھرنے کے مترادف ہے۔التماس ہے کہ سیاست کو شوکت خانم اسپتال کی طرف نہیں جانا چاہئے۔کون نہیں جانتا کہ اصل معاملہ تو پانامالیکس کا ہے کہ وہی گلے میں پھانس بن کر اٹک گیا ہے ۔اُسی سے پریشان ہوکروزیر اعظمِ پاکستان غیر معینہ مدت کیلئے لندن تشریف لے گئے تھے کیونکہ اس وقت انہیںاُس مسئلے کا کوئی حل نہیںمل رہا تھا۔دنیا میں بڑے بڑے صاحب ِ ہنر لوگ موجود ہیں۔کوئی ملا اور اُس نے حل ڈھونڈ دیا۔حل ملتے ہی وہ فوری طور پر واپس وطن آگئے ۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ حل کیا تھا۔اُس حل کے بارے میں مختلف افواہیں مسلسل گردش میں ہیں ۔ایک افواہ یہ ہے کہ وہ حل اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عوامی رائے عامہ کو ہموار کرنا ہے ۔وعدہ ہوچکا ہے کہ اگریہ کام ہواتو شریف خاندان کو پاناما لیکس سے باعزت طور پر باہر نکال دیا جائے گا۔ایک افواہ یہ بھی ہے کہ نیا الیکشن اور اس میں پھر نون لیگ کی کامیابی ۔اگرچہ میں افواہوں پر بالکل یقین نہیں رکھتا مگر وزیر اعظم کی دوسری تقریر سن کر کچھ پریشان ضرور ہوا تھا ۔ابھی تو شکر ہے کہ آخری لمحوں میں کچھ ہمدردوںکے مجبور کرنے پروہ حصہ کاٹ دیا جس کا اختتام اس شعر پر ہورہا تھا

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھتے ہیں زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
دل نہیں چاہتا ہے کہ وہ وقت آئے جب معاملہ اس شعر تک پہنچ جائے
ستم گر تجھ سے امید ِ کرم ہوگی جنہیں ہوگی
ہمیں تو دیکھنا یہ ہے کہ تُو ظالم کہاں تک ہے

اسی سال نئے انتخابات کی افواہیں گردش کر رہی ہیں ۔لوگ کہہ رہے ہیں کہ نون لیگ نے انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے ۔تمام ورزا ء اور ممبران اسمبلی کو عوامی رابطوں کی ہدایات مل چکی ہیں۔ملک بھر میں جلسوں کا پروگرام ترتیب دیا جا چکا ہے ۔ عوامی مفاد کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں تیزی لانے کا حکم جاری ہوچکا ہے۔ ایک واقعہ یاد آرہا تھا۔جب وزیر اعظم نواز شریف کے صدر اسحاق سے اختلافات ہوئے تھے اور جس روز انہوں نے یہ تقریرفرمائی تھی کہ ’’میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘‘ اسی رات میرے پاس میرے ایک مہربان آئے اور کہا ’’ ایک درخواست لکھ دو تاکہ وزیر اعظم سے پی ٹی وی کے پروڈیوسر کے طور پرتمہارے آرڈر کرادوں ‘‘میں نے انہیں کہا کہ مجھے سوچنے کیلئے کچھ وقت چاہئے کہ مجھے یہ ملازمت کرنی بھی ہے یا نہیں تو اس شخصیت نے کہا ’’صبح دس بجے تک تمہارے پاس ٹائم ہے اس کے بعدیہ کام نہیں ہوسکے گا کیونکہ حکومت ختم ہوجائے گی ۔خیر میں نے صبح دس بجے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے معذرت کرلی لیکن مجھے یہ اندازہ ہوگیا کہ جب حکومت ختم ہونے کا وقت آتا ہے تو نون لیگ والے اپنے سپوٹرز کیلئے جو کچھ ہوسکتا ہے کرتے ہیں ۔انیس سو پچاسی سے لے کر دو ہزار سولہ تک شریف خاندان نے ہزاروں لوگوں کے کام کئے ہیں اور انہی کاموں کی بدولت ان کا ووٹ بنک بدستور موجود ہے ۔بہرحال یہ طے ہے کہ قافلہ سخت جاں کسی ایسی وادی میں اتر چکا ہے جہاںمقابلے کے ممکنہ امکانات ہیں۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے