دیوار پہ دستک

اسپتال میں تھانہ

اسپتال میں تھانہ

منصور آفاق

میں جب ڈیرہ اسماعیل خان میں فیصل کریم کنڈی کے گھر سے نکلنے لگا تو احمد کنڈی نے کہا ’’میں نے کار کے بونٹ میں شہد کی پانچ بوتلیں رکھوادی ہیں ۔کار جیسےہی کنڈی ماڈل فارم سے چند کلومیٹر آگے آئی تو میں نےحسن رضا کو گاڑی ایک طرف روکنے کا کہا ۔کار رک گئی ۔ میں نیچے اترا ، ڈگی کھلوائی اور شہد کی بوتلوں والا پیکٹ کھولنے لگا ۔تنویر حسین ملک اور سلیم تاج وانی مجھے حیرت سے دیکھنے لگے ۔تنویر نے کہا ’’اگر شہد کھانے کو جی کررہا تھا تو آگے کسی ہوٹل پر بریک لگا لیتے مگر میں نےشہد کی پانچوں بوتلیں باہر نکالیں اور پھرایک بوتل کھول کر چیک کی اس بوتل میں واقعی شہد تھا ۔ساتھیوں کی حیرت بڑھتی جارہی تھی ۔سو انہیں بتانا پڑ گیا کہ آگے چند کلو میٹر پر پولیس کی چیک پوسٹ ہے اورمجھے وہم پڑگیا تھاکہ احمد کنڈی نے جو بوتلیں رکھوائی ہیں وہ کہیں بلیک شہد کی گنڈاپوری بوتلیں ہی نہ ہوں اور صبح اخبار میں خبر لگی ہوئی ہوکہ منصور آفاق کالے شہد کی پانچ بوتلوں سمیت گرفتار کرلیا گیا ہے ۔

وہاں سے نکل ڈیرہ اسماعیل خان شہر پہنچے تو تنویر بھائی نے ایک مقامی روزنامہ اخبار کے دفتر کے سامنے کار رکوادی کہ یہاں کچھ دوست ہمارا انتظار کر رہے ہیں ۔دفتر میں گئے تو وہاں کچھ سیاسی شخصیات بھی موجود تھیں ۔ شہر کے خاصے صحافی بھی جمع تھے۔وہاں تمام تر گفتگو عمران خان کے نئے پختون خوا پر ہوئی کچھ لوگ ان کے کارہائے نمایاں سے کیڑے نکالتے رہےاور کچھ حق اور سچ کی بات بھی کرتے رہے لیکن ایک سیاسی تنقید نگار کی بات میں خاصا وزن تھا اس نے کہاکہ وہی عمران خان جس نے اپنے فرسٹ کزن انعام اللہ نیازی کو ٹکٹ نہیں دیا تھااور اپنے بہنوئی حفیظ اللہ نیازی تک کو ناراض کردیا تھا آج اسی عمران خان کی پارٹی ایک موروثی پارٹی بن چکی ہے ۔جن کے پاس اقتدار ہے انہوں نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو پیچھے کردیا ہے اور اپنے رشتہ داروں کو آگے لے آئے ہیں ۔سمیع اللہ علی زئی ایم پی اے کا چچا زاد بھائی عزیز اللہ خان علی زئی کوضلع ناظم ڈیرہ اسماعیل بنایا گیا ہے ۔ صوبائی وزیر مال علی امین گنڈا پورکے بھائی کیپٹن عمر امین گنڈا پور کو ڈیرہ اسماعیل خان کا تحصیل ناظم بنایا گیا ہے ۔ایم پی اے احتشام جاوید اکبر کےچچا جہاں زیب اکبر خان ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پہاڑ پور کے ناظم بنائے گئے ہیں۔ ٹانک کے ممبر قومی اسمبلی داور خان کنڈی کے بھائی مصطفی خان کنڈی کو ٹانک کا ضلع ناظم بنایا گیا ہے۔ ایک اور صاحب بولے ’’وزیر اعلی ٰخیبرپختون خواپرویز خٹک کے بھائی لیاقت خان خٹک ،ضلع ناظم نوشہرہ ہیں ان کا بھتیجا عمران خٹک ، ممبر قومی اسمبلی ہے ، ان کی بھابھی ساجدہ بیگم بھی خواتین کی مخصوص نشستوں پر رکن قومی اسمبلی ہیں اور اسی طرح ڈسٹرکٹ کرک سے ممبر صوبائی اسمبلی گل صاحب خان کے بھائی کوضلع ناظم کرک بنایا گیاہے۔

ہم نے ڈیرہ اسماعیل سے لیہ آنا تھا ۔رات خاصی ہو چکی تھی ۔ بھکر سے نکلے تو سلیم تاج وانی کی طبعیت خراب ہو گئی ان کا بلڈپریشر بہت زیادہ لو ہوگیا۔کار کی اسپیڈ بڑھادی گئی ۔’’بہل ‘‘شہر آیا تو سڑک پر ’’دیہی مرکز صحت بہل ‘‘کا بورڈ دکھائی دیا ۔فوراً کار اس کے گیٹ میں موڑ دی گئی لیکن جب اندر پہنچے تو وہاں پولیس کی کئی گاڑیاں موجودتھیں ۔ جو ابھی ابھی کسی ملزم کو پکڑ کر لائی تھیں اور پولیس والے اسے مارتے ہوئے اندر لے جارہے تھے ہم نے حیرت سے یہ منظر دیکھا ۔سلیم تاج وانی بھی اپنے بلڈپریشر کو بھول گیا ۔میں نے ایک سپاہی سے پوچھا کہ ’’یہ اس شخص کو مارتے ہوئے اندر کیوں لے جارہے ہو ‘‘۔ اس نے کہا ۔ ’’کیوں نہ لے جائیں ۔اسے حوالات میں بند کرنا ہے ۔‘‘ میں نے حیرت سے کہا کہ’’ اسپتال میں حوالات‘‘ تو کہنے لگا ۔’’پچھلے سات سال سے اسی اسپتال میں ہمارا تھانہ ہے ۔ ‘‘بات ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آسکی تھی ۔ خاصی دیر کے بعد معلوم ہوا کہ بہت عرصہ پہلے اسپتال کے ایک بڑے حصے کو تھانے میں بدل دیاگیا تھاکیونکہ تھانے کی اپنی کوئی عمارت نہیں تھی۔ساری دنیا پنجاب کی ترقی کے گن گارہی ہے مگر جنوبی پنجاب کے اس سرائیکی علاقہ میں ابھی تک اسپتالوں میں تھانے کام کررہے ہیں ۔سرائیکی علاقے کی محرومیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں ۔بہر حال ہم لیہ پہنچ گئے ۔صبح ناشتے پر ایک دوست نے اپنے گائوں ’’جیسل کلاسرا ‘‘ بلایا ہوا تھا ۔ ہم جب اس گائوں میں پہنچے تو پھر ایک حیرت منہ کھولے سامنے کھڑی تھی ۔ اس چھوٹے سے گائوں کی تمام گلیاں پختہ تھیں ۔ یہاں سوئی گیس تک پہنچی ہوئی ۔اسپتال موجود تھا ۔ اسکول آباد تھا ۔میں نےحیرانی سے پوچھا کہ یہ کوئی ماڈل ولیج ہے تو پتہ چلا کہ اس گائوں کی تمام ترقی کا سبب قلم کار ہے ۔ جسے رئوف کلاسرا کہتے ہیں ۔ وہ اسی گائوں کا رہنے والا ہے ۔ اس نے اپنی کوششوںسے اس گائوں کو ماڈل ولیج میں تبدیل کرالیاہے ۔(کلاسرا کےلئے بے شمار دعائیں )ناشتہ کے بعد ہم ضلع لیہ کے ڈی سی او سید واجد علی شاہ کے دفتر میں گئے ۔دفتر عوام سے بھرا ہوا تھا اور وہ ان کے بیچ میں بیٹھے ہوئے سب کے مسائل سن رہے تھے اورضرورت کے مطابق احکامات جاری کررہے تھے میں نے لیہ کے اپنے شاعر دوست صابر عطا سے پوچھا کہ کیا آج انہوں نے کھلی کچہری لگائی ہوئی ہے تو اس نے کہا ’’ نہیں یہ تو ان کا معمول ہے ۔سید واجد علی شاہ کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ میانوالی میںہوا کرتے تھے ۔میانوالی میں جو کیڈٹ کالج بنایا گیا ہے میانوالی کےلوگوں کا خیال ہے کہ یہ بھی اصل میں سید واجد علی شاہ کا میانوالی پراحسان ہے ۔اس بات کے پیچھے ایک لمبی کہانی موجود ہے ۔ان سے ایک خوبصورت ملاقات اس وقت بھی ہوئی تھی جب رحیم یار خان میں مرشد سعید ناصر نے میرے ساتھ ایک شام کا اہتمام تھا جس کی صدارت عطاالحق قاسمی نے کی تھی ۔اُس وقت واجد علی شاہ وہاں اے ڈی جی سی ہوا کرتے تھے ۔

ان سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں پارلیمانی سیکرٹری داخلہ اعجاز احمد اچلانہ بھی موجود تھے ۔انہوں نے بتایا کہ وہ لیہ میں ایک آڈیٹوریم بنا رہے ہیں جہاں ثقافتی سر گرمیوں کو فروغ دیا جائے ،لائبریری کےلئے زمین خرید لی گئی ہے ۔میری پوری کوشش ہے کہ میں یہاں یونیورسٹیوں کے کیمپس بھی لے کر آئوں میرا مطمع نظر صرف اس شہر کی ایجوکیشن کو بہتر بنانا ہے ۔ان سے بہت سی گفتگو ہوئی جب انہوں نے کہا کہ میں بھی چاہتا ہوں کہ پنجاب کی انتظامی سطح پر تقسیم کی جائے ۔کیونکہ اس علاقے کی محرومیاں ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتیں اور مجھے اسپتال میں تھانہ یاد آگیا۔

mansoor afaq

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے