دیوار پہ دستک

تزئین و آرائش کا کھیل

تزئین و آرائش کا کھیل

منصور آفاق

آج نئے سال کا پہلا دن ہے ۔آج سے ہم پھر ملک ِ پاکستان کی ترئین و آرائش کا کام نئے اندازمیں شروع کریں گے ۔ نئے ولولے کے ساتھ ۔اپنے دامن کی دھجیوں سے نئی جھنڈیاں بنائیں گے ۔اس سال کے نئے سلوگن ہونگے ۔نئی پیشن گوئیاں ہونگی ۔ نئی تمثیلیں پیش کی جائیں گی البتہ کردار وہی پرانے ہونگے وہی وزیر اعظم نواز شریف ،وہی عمران خان ، وہی سابق صدر آصف علی زرداری اوران کا فرزنِد ارجمند بلاول بھٹو۔نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو کی آمد کا بھی غلغلہ سنائی دے رہاہے ۔

حکومت نے تیاریاں شروع کردی ہیں ۔ ان کے دفتر کی تزئین و آرائش کےلئے ایک خطیر فنڈ مقرر کردیا گیا ہے ۔ نہایت قیمتی فرنیچر کےلئے آرڈر دیا گیا ہے ۔دیوار وں اور دروازوں پر نیا رنگ کرایا جارہا ہے ۔ نئے پردے لگ رہے ہیں ۔نئے قالین بچھائے جارہے ہیں ۔دیواروں کو سجانے کیلئے قیمتی پینٹنگ خریدی جارہی ہیں ۔باتھ روم میں ہر چیز امپورٹڈ لگائی جارہی ہے ۔مالیت کا اندازہ اسی بات سے لگائیے کہ وزیر اعظم کے دفتر کی تزئین و آرائش پر بیس کروڑ خرچ کرنے کی منظوری دی گئی تھی جس میں سے دو کروڑ اور اٹھارہ لاکھ صرف باتھ روم کی سجاوٹ اور بناوٹ پر خرچ ہونے تھے ۔ بلاول بھٹو کا دفتر وزیر اعظم پاکستان کے دفتر سے کم تو نہیں ہوسکتا آخر کار وہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر قومی اسمبلی میں وارد ہو رہے ہیں ۔ وزیر اعظم کے بالکل ساتھ والی نشست ان کےلئے مختص کردی گئی ہے ۔حکومت جتنا کچھ کر رہی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ بلاول بھٹو کوحکومت اپنا ہی آدمی سمجھتی ہے ۔ کسی غیر کیلئے اتنے اخراجات کون برداشت کرتا ہے ۔دفتروں کی آرائش و تزئین پر لمبی لمبی رقمیں خرچ ہونے کا رواج تو پہلے بھی تھا مگراب کچھ زیادہ ہونے لگا ہے ۔ابھی پچھلے دنوں نیب لاہور کے دفتر کی تزئین اور آرائش اور اس میں کچھ اضافے کےلئے ایک ارب روپے کی رقم مختص کی گئی تھی ۔بلاول بھٹو کے دفتر میں باقی تمام فرنیچر تو نیا ہوگا البتہ ان کے اپنے بیٹھنے کی کرسی پرانی ہوگی ۔یہ وہی کرسی ہوگی جس پر محترمہ بے نظیر بھٹو بیٹھا کرتی تھیں ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسمبلی میں آنے کا اعلان تو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو دونوں کی طرف سے ہوا ہے مگر دفتر صرف بلاول بھٹو کا بن رہا ہے ۔دو باتیں ہو سکتی ہیں یا تو سابق صدر نے الیکشن لڑنے کا ارادہ ملتوی کردیا ہے یا پھر یہ سوچا ہے کہ وہ بھی وزیر اعظم نواز شریف اور عمران خان کی طرح کبھی کبھی اسمبلی جایا کرینگے۔

اگرچہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف ذاتی طور پرسادہ زندگی گزارتے ہیں مگر پنجاب حکومت کے افسران نے اپنے دفتروں کی آرائش پر کچھ کم خرچ نہیں کیا ۔ایک اعلیٰ افسر کے دفتر کی ترئین پردو کروڑ سے زائد خرچ ہوئے ۔ایک اور افسر نے تو کمال ہی کردیا ان کے دفتر کی تزئین و آرائش پر تیرہ کروڑ سے زائد کی رقم خرچ ہوئی ۔حکومت پنجاب نے مالی سال دوہزار سولہ سترہ کے بجٹ میں صوبائی وزرا اور دیگر افسران کے سرکاری گھروں کی تزئین و آرائش پرخرچ کرنے کےلئے ڈیڑھ ارب روپے رکھے ۔یہ معلوم نہیں کہ ابھی تک کتنے خرچ ہو چکے ہیں۔ ایک ایک دفتر پر کروڑوں کا خرچہ دیکھ کر تو لگتا ہے کہ افسران کو اس کےلئے اضافی بجٹ بھی لینا پڑا ہوگا ۔یہ اخراجات صرف پنجاب حکومت نے نہیں کئے ۔ہر صوبے میں ترئین و آرائش کا بجٹ اسی طرح کروڑوں میں ہے ۔ پچھلے دنوں جب وزیر اعظم نواز شریف نے پشین کا ایک روزہ دورہ کیا ہے تو جس ریسٹ ہائوس میں چندگھنٹے قیام کرنا تھا۔انٹرنیٹ پر آنے والی ایک اطلاع کے مطابق اس کی ترئین و آرائش پر بلوچستان حکومت نے ساٹھ لاکھ روپے خرچ کر دئیے۔ایک اور اطلاع کے مطابق وزیر اعظم ہائوس مری کی تزئین و آرائش کا کام بھی جاری ہے اس پر تقریباً سینتالیس کروڑ روپیہ سے زیادہ خرچ ہوجانے کا امکان ہے ۔اسی طرح اِسی سال سندھ میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں تزئین و آرائش پر قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کروڑوں روپے خرچ کئے گئے ۔ایک آڈٹ رپورٹ کے مطابق دوہزار تیرہ اور چودہ میں صدر ہائو س اور وزیر اعظم ہائوس میں اسی طرح کے اخراجات کی مد میں پچاس کروڑ روپے خورد برد ہوئے ۔یعنی یہ کام پیپلز پارٹی کے دور سے جاری وساری ہے ۔ دوہزار سولہ اور سترہ کے بجٹ میں وزیر اعظم کے لئے انہی اخراجات کی مد میں ساڑھے چھ کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا تھا ۔پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ ء بلوچستان میں کھانے کے بل پر بہت شور برپا تھا کہ چونتیس لاکھ کا کھانا کیسے کھایا جا سکتا ہے ۔ اب لوگوں کو کیسے سمجھایا جائے کہ وزیر اعظم ایک اکیلے کھانے والے تھوڑی تھے ۔وزیر اعظم نے جہاں کھانا کھایا تھا اس جگہ کی تزئین و آرائش پر بھی پندرہ لاکھ روپے خرچ آئے تھے ۔دو ہزار پندرہ میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف نےپورے پنجاب میں دفاتر کی ترئین و آرائش پر پابندی عائد کی تھی ۔صوبے بھر کے تمام سرکاری افسران کو باقاعدہ احکامات جاری کئے گئے تھے مگر کچھ علم نہیں کہ اس پابندی پر کوئی عمل ہوا یا افسران نے اسے بھی داخل دفتر کردیا لاہور مرکز کے ایک ثقافتی ادارےکے نئے چیئرمین نے بھی اپنے دفتر کی تزئین و آرائش پر ایک خطیر رقم خرچ کی ہے ۔

میرے خیال میں یہی وہ ملک ِ پاکستان کی تزئین و آرائش ہے ۔یہی پاکستانی عوام کے دامن کی دھجیوں سے بنی ہوئی جھنڈیاں ہیں جنہیں ہر دفتر میں تزئین و آرائش قرار دے کر لگا دیا گیا ہے ۔ اب اور تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ڈاکٹر وزیر آغا کا ایک شعر یاد آرہا ہے وہ سُن لیجئے ممکن ہے دماغ کی کھڑکیاں کھل جائیں

اپنی عریانی چھپانے کے لئے
اس نے سارے شہر کو ننگا کیا

ایسا لگتا ہے جیسے یہ ساری تزئین و آرائش کچھ لوگوں کی عریانی چھپانے کےلئے ہے۔

mansoor afaq

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے