دیوار پہ دستک

مذاکرات کا سایہ

کوٹ لکھپت جیل کی دیواروں پر وقت کے سائے جھکے ہوئے ہیں۔ وہاں کی اینٹوں میں خاموشی نہیں، ایک بے آواز چیخ محفوظ ہے — وہ چیخ جو اقتدار کے شور میں دب گئی مگر سچ کی طرح زندہ ہے۔ انہی دیواروں کے بیچ سے ایک خط نکلا ہے، جو قید کے کمرے میں لکھا گیا مگر پورے عہد کے لیے پیغام بن گیا۔ اس خط پر ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی، سینیٹر اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ، اور میاں محمود الرشید کے دستخط ثبت ہیں — وہ دستخط جو محض نام نہیں بلکہ قربانی کے استعارے ہیں۔ یہ تحریر شکست کی نہیں، شعور کی علامت ہے؛ یہ فریاد نہیں، سیاسی اخلاق کی آخری صدا ہے۔ ان رہنماؤں نے بند دروازوں کے پیچھے بھی مکالمے کا در کھولنے کی بات کی ہے، اور یہ اعلان کیا ہے کہ جمہوریت کو زندہ رکھنے کا واحد راستہ بات چیت ہے، ضد نہیں؛ اتحاد ہے، انتقام نہیں۔ یہ وہ صدا ہے جو زنجیروں میں بھی وقار سے گونجتی ہے — ایک ایسا وقار جو کسی حکومت کے دستِ قلم سے نہیں مٹایا جا سکتا۔

یہ خط ان پانچ قیدیوں کے دلوں سے نہیں، عمران خان کی خاموشی کے پس منظر سے نکلا ہے۔ وہ خاموشی جو سات سو دنوں سے پاکستان کی فضا میں ایک بھاری سوال بن کر لٹک رہی ہے۔ آج بھی پی ٹی آئی کی سیاست کا مرکز وہی ایک شخص ہے — وہ شخص جو قید میں بھی سیاست کے تمام سیاروں کا محور ہے۔ بے شک، ان رہنماؤں کا خط جمہوریت کے دھاگے کو جوڑنے کی کوشش ہے، مگر یہ دھاگہ جب تک عمران خان کے عزم کی مہر سے بندھا نہ ہو، اس سے کوئی لباس نہیں بن سکتا۔ نون لیگ کے سینئر رہنما — خواجہ سعد رفیق سمیت — خود کہتے ہیں کہ اگر دشمن ممالک مکالمے کی میز پر آ سکتے ہیں، تو سیاسی قوتوں کے درمیان گفت و شنید کیوں ناممکن ہو۔ پیپلز پارٹی بھی، اپنی روایت کے مطابق، افہام و تفہیم کے پل پر کھڑی ہے؛ مگر دریا اب بھی بےاعتماد ہے، فضا اب بھی دھوئیں سے بھری ہوئی۔

سچ یہ ہے کہ اگر سیاست کی سڑک پر اب بھی کوئی چراغ جل سکتا ہے، تو وہ بات چیت کا چراغ ہے۔ یہ جمہوریت کی وہ آخری سانس ہے جس پر ابھی ایمان باقی ہے۔ پی ٹی آئی اور اس کی قیادت نے جو کچھ سہہ لیا، وہ تاریخ کا حصہ ہے — مگر صاحبانِ اقتدار کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ بھی اسی جمہوریت کے امین ہیں، جس کے بگڑنے سے سب کے ہاتھ خالی ہو جائیں گے۔ اگر اس ملک میں سیاست کے مکالمے ختم ہو گئے، تو اقتدار کا شور بھی بے معنی ہو جائے گا۔ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا، “جمہوریت سب سے بڑا انتقام ہے” — اور نواز شریف نے “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ اسی یقین سے بلند کیا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ دونوں نعرے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں، اور سیاست کو تصادم نہیں، تحمل اور تدبر کے راستے پر لائیں۔

یہ خط دراصل تاریخ کی وہ ہچکی ہے جو رکنے کا نام نہیں لیتی۔ اس میں جو الفاظ لکھے گئے ہیں، وہ شاید کل کسی نئی صبح کی تمہید ہوں۔ شاید یہی وہ لمحہ ہو جہاں جمہوریت، ایک بار پھر، اپنی آنکھیں کھولنے والی ہے۔ اور اگر ایسا ہوا — تو کوٹ لکھپت کی دیواروں پر قید نہیں، روشنی کے نشان ہوں گے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے