قاسم اور سلمان
قاسم اور سلمان
منصور آفاق
کبھی کبھی تاریخ اپنی رفتار روک کر خاموشی سے سانس لینے لگتی ہے؛ جیسے گھڑیال کی سوئی رُک جائے اور دھڑکن چلتی رہے۔ پاکستان کی سیاست پر آج ایسا ہی لمحہ تیرتا دکھائی دیتا ہے—وہ لمحہ جب ایک باپ جیل کی تنہائی میں بند ہو اور اس کے بیٹے دیارِ غیر کی چپ توڑ کر وطن کی مٹی پر قدم رکھنے کو آمادہ ہوں۔ سلیمان اور قاسم—وہ چہرے جنہیں برسوں جان بوجھ کر سیاست کے ہجوم سے الگ رکھا گیا، جن کے لیے ماں نے سکون کی دعا مانگی، جنہیں باپ نے اپنے قافلے کی گرد سے بچا کر رکھا—اگر اسلام آباد، لاہور یا راولپنڈی کی کسی گلی میں نظر آتے ہیں تو یہ محض ملاقات نہیں ہوگی؛ یہ جدوجہد، رشتہ اور قربانی کے استعارے کی نمود ہوگی۔ ان کا سفر چاہے صرف احوال پرسی کا عنوان رکھتا ہو، فضا میں اضطراب کی لہر ضرور دوڑے گی؛ اور اگر اس آمد کے پیچھے کوئی پیغام، کوئی جذبہ یا کوئی خاموش تحریک رکھی گئی ہے تو یہ لمحہ سیاست کے عادی صفحات سے باہر نکل کر جذبات، تاریخ اور انسانی وقار کی داستان بن جائے گا۔
قاسم کا یہ کہنا کہ “ہم نے ہر قانونی راستہ آزما لیا، مگر قید لمبی ہوتی جا رہی ہے” محض اطلاع نہیں؛ انصاف سے مایوسی اور اصولوں سے وابستگی کی فریاد ہے۔ اور جب وہ کہتا ہے “اگر والد اجازت دیں تو ہم خاموش نہ رہیں گے”، تو یہ ایک بیٹے کی آواز میں پوری قوم کا سوال بن جاتا ہے: کیا ہم اپنے رہنما کو بھول جائیں؟ عمران خان—جنہیں کبھی صرف ایک کرکٹر سمجھا گیا، پھر ایک خیراتی ہسپتال کے معمار کے طور پر پہچانا گیا، پھر ایک خواب دیکھنے والے قائد کی صورت میں—آج ایک قید خانے میں بیٹھے ہیں۔ اگر اُن کے بیٹے، جنہوں نے اقتدار کی راہوں کو نہیں چھوا، جلسوں کی اسٹیج لائٹیں نہیں اوڑھیں، کیمروں کے روبرو بھی عموماً خاموش رہے، اب سامنے آتے ہیں تو یہ شور نہیں بلکہ ایک خاموش مگر گونج دار دستک ہوگی۔ وہ کہتے ہیں یہ سب والد کی اجازت سے ہوگا اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا؛ یہ جملہ کسی سیاسی پوزیشن کی تشہیر نہیں، ایک عہد کی تجدید ہے—وہ عہد جسے اس سرزمین کی نسلوں نے اپنے خون سے نبھایا۔
اس آمد کے گرد حاشیے بھی کم نہیں۔ ایک طرف یہ خدشات کہ سیکیورٹی صورتِ حال کیا رخ لے گی، ایئرپورٹ یا راستوں پر کیا ہنگام کھڑا ہو سکتا ہے، کہیں داخلہ روک نہ دیا جائے یا واپسی کو انتظامی دائرے میں ڈال کر ڈی پورٹ کی راہ نہ ڈھونڈی جائے؛ دوسری طرف میڈیا کی غیر معمولی توجہ، جو ہر قدم کو بریکنگ میں ڈھال کر فضا کو گرمائے گی۔ اس سب کے بیچ علیمہ خان کی جانب سے نظم و ضبط، راستوں اور ملاقاتوں کی نگرانی کی خبریں بتاتی ہیں کہ فیصلہ جذباتی ضرور ہے مگر غیر سنبھلا نہیں۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ لمحے اپنی جگہ فلسفہ ہوتے ہیں؛ وہ میرٹ، موروثیت، اصول اور ضرورت کے سوالوں کو ایک ساتھ کھڑا کر دیتے ہیں۔ ایک حلقہ کہتا ہے کہ یہ قدم علامتی طور پر باپ کی قید اور خاندان کی قربانی کا تسلسل بنے گا؛ دوسرا حلقہ اسی میں موروثی سیاست کی واپسی کا خدشہ دیکھتا ہے—وہی روایت جسے عمران خان نے تادمِ امکان رد کیا۔ سوال بجا ہے، مگر تاریخ کے اوراق میں لمحے بڑے فیصلے کرواتے ہیں۔ کیا محترمہ بے نظیر بھٹو نے کسی نظریاتی تربیت گاہ سے آغاز کیا تھا؟ اُنہیں بھی باپ کی قید اور پھر شہادت نے اس راستے پر دھکیلا جسے وہ شاید خود نہ چن پاتیں؛ مگر وقت نے ان سے وہ کردار لے لیا جس کے بغیر کہانی ادھوری رہتی۔ سلیمان اور قاسم نہ بے نظیر ہیں نہ ہونا چاہیے؛ اُن کی طاقت شاید یہی ہو کہ انہوں نے تماشا نہیں چنا—خاموشی چنی۔ اور کبھی کبھی خاموشی جب بولتی ہے تو دہائیوں تک سنائی دیتی ہے۔
تحریکِ انصاف ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ قیادت جیل کے پیچھے، تنظیمی ڈھانچے پر دباؤ، کارکن منتشر مگر جذبات آتش بار—ایسے میں بیٹوں کی ممکنہ واپسی پارٹی کے فکری رخ، اصولی بیانیے اور تنظیمی وحدت سب کے لیے کسوٹی بن سکتی ہے۔ اگر وہ باوقار، پُرامن، قانون کے دائرے میں رہ کر صرف موجودگی سے سوال اٹھاتے ہیں—نہ نعرہ، نہ توڑ پھوڑ—تو دنیا دیکھے گی کہ پاکستان کے سب سے بڑے سیاسی قیدی کے بیٹے بغیر عہدہ، بغیر منصب، صرف امانت کے چراغ لے کر کھڑے ہیں۔ نیویارک ٹائمز سے الجزیرہ اور گارڈین تک، فقرہ ایک ہی لکھا جائے گا کہ بیٹے اپنے باپ کے نام پر ہنگامہ نہیں، وقار لے کر آئے۔ اس لمحے کو مخالف “ڈراما” کہیں گے، ریاست اسے “غیر ضروری دباؤ” کہے گی، میڈیا اسے “ہیڈ لائن” سمجھے گا؛ مگر عام آدمی کے لیے یہ وہ صدا بن سکتی ہے جو خاموش دلوں میں چلتی ہے اور پھر ایک دن سڑک پر نظر آتی ہے۔ اس ملک میں جہاں بیٹے اکثر باپ کے جنازے تک نہ پہنچ پاتے، وہاں زندہ باپ کے لیے زندہ بیٹوں کا اٹھنا نئی تاریخ لکھ دیتا ہے۔
اعتراض بھی اپنی جگہ کھڑا ہے کہ کیا انہیں پہلے باضابطہ طور پر سیاسی ڈھانچے میں آنا چاہیے تھا؟ کیا جنہوں نے لندن کی دوری میں جلسوں کی دھوپ نہیں سہی، آج احتجاج کی علامت بن سکتے ہیں؟ ان سوالوں کا جواب اصول کی ایک سادہ سطر میں ہے: فیصلہ یہ نہیں کہ خون کی نسبت سیاست کو حق دے، فیصلہ یہ ہے کہ کیا نسبت اصول کے تابع ہے یا اصول نسبت کے۔ اگر یہ قدم والد کی اجازت سے، قانون کی پاسداری کے ساتھ، پُرامن وقار کے دائرے میں اٹھتا ہے تو یہ موروثیت نہیں—امانت کی شہادت بنے گا۔ اور اگر اس میں ذاتی مفاد، پارٹی کے ٹکٹ یا مستقبل کے منصب کی بو شامل ہوئی تو پھر تاریخ اسی قلم سے اسے رد بھی کر دے گی جس سے وہ آج بھرتی دکھائی دے رہی ہے۔
5 اگست کا ذکر ہو یا کوئی اور تاریخ—اصل بات یہ نہیں کہ کب اور کیسے لوٹتے ہیں؛ اصل بات یہ ہے کہ وہ لوٹ کر کیا کرتے ہیں۔ کیا وہ سڑک پر خاموش کھڑے ہو کر صرف ایک سوال دہراتے ہیں—“کیا قانون سب کے لیے ہے؟”—یا وہ ہجوم کو انگلی سے ہانکنے کی غلطی کرتے ہیں؟ کیا وہ قیدی باپ کے نام پر ریاست کو للکارتے ہیں یا آئین کو پکار کر انصاف مانگتے ہیں؟ فرق معمولی نہیں؛ یہی فرق اس آمد کو داستان بنائے گا یا محض خبر۔ اگر یہ سفر ملاقات کا بہانہ بھی ہو تو اخلاقی وزن رکھتا ہے؛ اور اگر اس کے پیچھے ایک سوچ ہے—پرامن سیاسی حصہ داری کی—تو پھر یہ لمحہ محض تحریکِ انصاف کا نہیں، پوری سیاست کا اخلاقی کریکٹر ٹیسٹ ہوگا۔
بات آخرکار وہی امانت کی آتی ہے جس کے گرد ایک باپ کی زندگی گھومتی رہی۔ امانتِ نام، امانتِ اصول، امانتِ اختیار—اور سب سے بڑھ کر امانتِ کردار۔ سلیمان اور قاسم کے لیے اصل کسوٹی یہ نہیں کہ وہ کتنی زور سے بولتے ہیں؛ یہ ہے کہ وہ کتنے سچے رہتے ہیں۔ کسی بھی آنے والی صف میں کھڑے ہوں تو صف اُن کی وجہ سے بہتر ہو—ان کی وجہ سے بکھرے نہیں۔ اگر وہ اپنے قدم قانون کے دائرے میں رکھتے ہیں، اپنی زبان کو وقار میں رکھتے ہیں، اور اپنے دل کو اس سادہ دعا کے ساتھ رکھتے ہیں کہ “ہم اپنے باپ کے نام کو کام سے، اور اپنے کام کو کردار سے بچائیں”—تو پھر یہ لمحہ یقیناً دیوارِ وقت پر نقش ہو جائے گا۔ قومیں اسی وقت بیدار ہوتی ہیں جب بیٹے باپ کی محبت کو نعرہ نہیں، امانت سمجھ کر اٹھاتے ہیں۔ اور تاریخ اسی وقت سانس روک کر دیکھتی ہے جب خاموشی بولنے لگتی ہے—وقار کے ساتھ، دلیل کے ساتھ، اور اس یقین کے ساتھ کہ نام کی حفاظت ہمیشہ کام سے ہوتی ہے، اور کام کی حفاظت ہمیشہ کردار سے۔