یہ رات بہت پاک وطن تجھ پہ کڑی ہے
یہ رات بہت پاک وطن تجھ پہ کڑی ہے
ایف آئی اے نے درخواست کی تھی کہ اصغر خان کیس کے سلسلے میں 14 جنوری کو اپنا بیان ریکارڈ کرادیںمگر نواز شریف نے انکار کردیا ہے۔ جنگل کے بادشاہ کی مرضی ہے،آخر میں نے بھی اسی جنگل میں رہنا ہے ۔کبھی اس جنگل کے شیر پرویز مشرف ہوا کرتے تھے اور انہیں یہ زعم ہے کہ وہ اب تک شیر ہیں چاہے بیمارہی کیوں نہیں ۔وہ اگر اپنا بیان ریکارڈ کرانے پر تیار نہیں تو نواز شریف کیوں کرائیں وہ تو اس وقت حاضر سروس شیر ہیں ۔انہیں کون پوچھ سکتا ہے ۔جنگل کے ایک اور سابقہ شیر آصف زرداری بھی ہیںوہ گذشتہ دنوں ایک کیس کے سلسلے میں اپنابیان ریکارڈ کرانے گئے تھے۔دراصل اس شیرنے زندگی کا بڑا حصہ پنجرے میں گزارا ہے۔اسے معلوم ہے کہ پنجرے میں دن کیسے گزرتا ہے اور رات کیسے کٹتی ہے ۔نواز شریف نے بھی کچھ دن پنجرے میں گزارے ہیں مگر ان کا دورانیہ بہت مختصر تھا۔لیکن انہیں پنجرے کے دن بھولتے نہیں بلکہ پرویز مشرف کی ٹیلی ویژن پر تصویر دیکھ کر کچھ زیادہ یاد آنے لگتے ہیں ۔ویسے آج کل میں انہیں داد دیتا رہتا ہوں کہ تمام تر اختیارات کے باوجود پرویز مشرف کے مسئلہ پر انہوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔اس خاموشی کے پس منظر میں دونوں باتیں ہوسکتی ہیں ۔
دوبارہ پنجرے میں جانے کا خوف بھی ہوسکتا ہے اور ان کی اعلیٰ ظرفی بھی ۔اول الذکر سبب کا زیادہ امکان ہے کیونکہ اگر اعلیٰ طرفی کی بات ہوتی تو انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ عدالت کو بھجوایا ہی نہ ہوتا۔مقدمہ درج کرانے کا تو مطلب یہی ہے کہ وہ ان کے خلاف کچھ کرنے کی خواہش دل میں رکھتے ہیں مگرپرویز مشرف ایک ریٹائرڈ فوجی جرنیل بھی ہیں ۔فوجی جرنیل ریٹائرڈ ہو یا حاضرسروس جرنیل ہی ہوتا ہے ۔افواجِ پاکستان اپنے ریٹائرڈ ہوجانے والے حوالدار کو بھی مرتے دم تک نہیں بھولتی پرویزمشرف تو پھران کے سابقہ آرمی چیف ہیں انہیں کیسے وہ نواز شریف کے رحم و کرم پر چھوڑ سکتی ہے ۔پھر ایسے وقت میں جب نواز شریف اور فوج میں بے اعتماد ی کی فضا اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے، فوج پرویز مشرف کے معاملات کو بڑی باریکی سے دیکھ رہی ہے ۔بد اعتمادی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ نواز شریف ذاتی طور چاہتے ہیں کہ طالبان کے خلاف آپریشن کیا جائے اور اس خارجی فتنے کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا جائے مگر انہیں یقین نہیں ہے کہ فوج یہ آپریشن کامیابی کے ساتھ کرے گی انہیں یہ خوف ہے کہ فوج ایک ناکام آپریشن کرے گی جس کی وجہ پورے میں دہشت گردی پھیل جائے گی یوں نواز حکومت بہت کمزور ہوجائے گی اور فوج کو اقتدار میں آنے کا موقع مل جائے گی ۔یہ خوف وہ واحد وجہ ہے جو آپریشن کے راستے میں رکاوٹ ہے۔اگرچہ فوج نے نواز شریف کو پورا یقین دلایا ہے کہ وہ طالبان کا مکمل طور خاتمہ کردے گی مگر اس کے باوجودنواز شریف بار باران لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں جن کے مراسم طالبان سے ہیں ۔
مجھے نواز شریف کے حب الوطن ہونے پر پورا یقین ہے مگر بگڑتے ہوئے حالات بار بار اس بات کی پیش گوئی کرتے ہیں کہ ملک میں کچھ ہونے والا ہے اور نواز شریف اس کے اہل نہیں کہ اس اَن ہونی کو روک سکیں۔حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے بھی کہا ہے کہ مغربی طاقتیںپاکستان کو توڑنے اور ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں ۔ریٹائرڈ امریکن آرمی کرنل رالف پیٹر کے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والا مضمون بھی علی گیلانی کی اس بات کی تصدیق کرتا ہے ۔جس میں اس نے بلوچستان کو آزاد ملک اور صوبہ پختونخوا کو افغانستان کے صوبے کے طور پر پیش کیا ہے ۔خیر یہ پرانی ہے مگر اتنی پرانی بھی نہیں ایسے معاملات میں پانچ سات سال کی کوئی حیثیت نہیں ہوا کرتی ۔سو صورت ِ حال خاصی پیچیدہ ہے۔نواز شریف نے حکومت لے کر استروں کا ہار اپنے گلے میں پہن لیا ہے ۔اس وقت ملک کی بہتری ایک ہی صورت میں ممکن ہےکہ فوج اور حکومت مکمل طور پر یکجان ہوکر ملک کو ان خوفناک حالات باہر نکالیں۔نواز شریف کو چاہئے کہ وہ افواجِ پاکستان پر مکمل پر اعتبار کریں کیونکہ وہ اس ملک میں واحد ایسا ادارہ ہے جو استحکام کی دلیل ہے، جب تک وہ طاقت ور ہے ۔ مضبوط ہے ۔پاکستان کو کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔لیکن غیر ملکی ایجنٹوں کی پہلی کوشش یہی ہے کہ نواز شریف فوج کو کمزور کریں اور فوج نواز شریف کی حکومت کے خلاف ہوجائے ۔
مجھے خوف ہے کہ نواز شریف کو ابھی تک پوری طرح معاملات کی سنگینی کا احساس نہیں ہوا ۔نواز شریف یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید طالبان ہی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں جب کہ اصل میں مسئلہ طالبان نہیں ہیں بلکہ مسئلہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے یہ طالبان پال رکھے ہیں جو انہیں ڈالر اور اسلحہ فراہم کرتے ہیں جو پاکستان کو تباہ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔پاکستان کو اس وقت ہنگامی بنیادوں پر ملک کی بقا کی جنگ شروع کرنی ہے۔یہ جنگ طالبان کے ساتھ مذاکرات سے نہیں ٹل سکتی ۔جب تک باہرسے آنے والا اسلحہ اور ڈالر روکنے میں افواج پاکستان کامیابی نہیں ہوتیں اس وقت طالبا ن مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھیں گے اور اگر بیٹھیں گے تو صرف وقت حاصل کرنے کے لئے اپنی اہمیت بڑھانے کیلئے نواز شریف اصغر خان کیس میں ایف آئی اے کو بیان ریکارڈ کرائیں یا نہیں لیکن انہیں اس سلسلے میں امریکہ اوربھارت سے کھل کر بات کرنی چاہئے۔
چین کو اپنے اعتماد میں لیناچاہئے اور فوری طور گوادر کو چین کے حوالے کر دینا چاہئے ۔ایران گیس پائپ لائن کاکام بھی مکمل کردینا چاہئے۔شمالی وزیر ستان کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بڑی سطح کا آپریشن اس وقت ملک کی فوری ضرورت ہے۔مگرس بات کا ضرور خیال رکھا جائے کہ بلوچستان میں آپریشن بلوچ رجمنٹ کرے ۔اس کے ساتھ کونسلنگ کے کچھ ادارے بنائے جائیں جہاں گرفتار ہونے والے بلوچ دہشت گردوں اور طالبان کی برین واشنگ کی جائے ، تاکہ بھٹکے ہوئے راہِ راست پر آسکیں۔آئین میں ترمیم کی جائے اور قبائلی علاقوں میں ہر شخص ووٹ کا حق دیا جائے ۔ وہاںاسلحہ کا لائنس ضروری قرار دے دیا جائے ۔فوج کے زیر نگرانی نئے سکول قائم کئے جائیں۔بڑی تعداد وہاں کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے۔فوج میں بھرتی کیلئے بلوچستان اور قبائلی علاقوں کے کوٹے میں اضافہ کیا جائے۔ ملک بھر کے مذہبی مدارس کو نیشنلائز کرلیاجائے اور انہیں سکولوں اور کالجوں کادرجہ دے دیاجائے۔ملک اور فوج کے خلاف گفتگو کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے ۔مشورے اور بھی بہت ہیں مگر ابھی یہی کافی ہیں۔
mansoor afaq