ناخن اُکھڑ چُکے ہیں گرہ کھولتے ہوئے
ناخن اُکھڑ چُکے ہیں گرہ کھولتے ہوئے
قومیں انصاف کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں اور جب تک انصاف کے ترازو میں لچک نہیں آتی اُن سے سربلندی کوئی نہیں چھین سکتا۔محاذِ جنگ پر اُس وقت تک سپاہی پوری دلیری سے لڑتا ہے جب تک اُسے یقین رہتاہے کہ میری قوم میری اولاد کے ساتھ کبھی کوئی بے انصافی نہیں کرے گی۔برطانوی معاشرہ اپنی تمام تر قباحتوں کے باوجوداگردنیامیں سرفرازہےتوصرف اپنی انصاف گاہوں کے سبب۔ عمران خان یہ بات اچھی طرح جانتے تھے سو انہوں نے کراچی کے ظلم کا انصاف لندن سے مانگااور کامیاب ہوگئے ۔تحریک انصاف کی الطاف حسین کے خلاف شروع کی ہوئی مہم آخرکار منطقی انجام کو پہنچی۔مگرکچھ لوگوں کو اس بات پر حیرت ہے کہ عمران خان نے ایم کیو ایم کے کارکنوں سے اظہارِ ہمدردی کیوں کیا؟۔
بے چاروں کے لیڈر پر منی لانڈرنگ میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے ۔کارکنوں کیلئے ہے تو دکھ کی بات کہ پہلے خود ساختہ جلاوطنی کے سبب صرف لیڈر کی آواز سن سکتے تھے ۔ان کی متحرک تصویر دیکھ سکتے تھے ۔ شایداب وہ بھی ممکن نہ رہے۔یقینا آج اداسی بال کھولے ہر کارکن کے گھر کی دیواروں پر سو رہی ہوگی ۔ سیدھے سادھے ، بھولے بھالے کارکن خود ایک جہنم میں رہنے لگے ہیں ، سِتم گروں نے کراچی کو جہنم ہی تو بنا دیا ہے ۔
عمران خان نےالطاف حسین سے اظہارِہمدردی نہیں کیا ؟وہ کر بھی کیسے سکتے تھے ۔وہ جانتے تھے کہ برطانیوی پولیس ٹھوس مواد کے بعد ہی گرفتار کرتی ہے۔ پھر جرم صرف منی لانڈرنگ نہیں ہے،پاکستان سےتوروز ہمارے لیڈر سرمایہ برطانیہ منتقل کرتے ہیں اور برطانیہ والےبھی چاہتےہیں کہ وہاں لوگ اپناسرمایہ لائیں۔ گھر وں سے برآمد ہونے والے سرمائے پر دو سوال اٹھائے گئے تھے۔پہلا یہ تھاکہ یہ کہاں سے آیا۔ جواب موجود تھا کہ سرمایہ فنڈہے ۔ اور اس کے تمام ثبوت فراہم کر دیے گئے تھے مگر برطانوی پولیس نے اس کے باوجودبھی فرد ِ جرم عائد کر دی۔ صرف اس لئے کہ اُس سرمائے کا ٹیکس نہیں ادا کیا گیا تھا ،ٹیکس ادا کرنے کی عادت پاکستانی لیڈروں میں عمران خان کے سِوا اور کسی کو ہے ہی نہیں بلکہ یہاں تو ٹیکس چوری کرنے کو جرم سمجھا ہی نہیں جاتا صرف بیچارے ہمارے محبوب الطاف حسین پہ کیا موقوف میرے خیال میں ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ستر فیصد لوگوں کو برطانیہ منتقل کر دیا جائے تو ان سب کی قسمت میں تین سال قیدِ با مشقت لکھ دی جائے گی ۔یقینا عمران خان کو اُس شخص سے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی جو ٹیکس نہ ادا کرتاہو۔
عمران خان کے بر عکس نواز شریف نے الطاف حسین کے ساتھ نہ صرف اظہارِ افسوس کیا ہے بلکہ برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانے کو حکم دیا ہے کہ اس کیس میں الطاف حسین کی پوری مددکی جائے۔نوازشریف کا بیان برطانوی معاشرے میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا اُن کے نزدیک پاکستانی وزیرِ اعظم نے اُن کے ملک کے ایسے شہری کے حق میں بیان دیا ہے جسے وہاں کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی تحویل میں لے چکے ہیں ۔
بے شک الطاف حسین ایک پاکستانی لیڈر ہیں مگر اُن کی پہلی حیثیت برطانوی شہری کی ہے۔ابھی کچھ دن پہلے انہوں نے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرنے کی بہت کوشش کی مگر کامیابی نہیں ملی اب نہیں معلوم کہ انہوں نے برطانوی شہریت حاصل کرتے وقت پاکستان کے بارے میں کیا کہا تھا کہ قانونی مشکلات آڑے آگئیں۔لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہاتھوں سے لگائی ہوئی گرہیں دانتوں سےکھولنی پڑ جاتی ہیں۔
برطانیہ میں قتل کے ایک مقدمے میں بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے اُس کیس کی تقریباً تمام گتھیاں سلجھا لی ہیں صرف ایک کڑی درمیان میں موجود نہیں۔ قاتل دو نوجوان تھے جو اسٹوڈنٹ ویزے پر وہاں آئے ہوئے تھے۔ وہ قتل کے اگلے روز وہاں سے پرواز کے ذریعے کےجنوبی افریقہ چلے گئے تھے۔ کچھ دنوں کے بعد وہ کراچی آئے اور یہاں ائیرپورٹ پر انہیں کسی اور جرم میں گرفتار کر لیا گیا ۔بعد میں وزارتِ داخلہ نے اُنہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ پھر اسکے بعد اُن کا کچھ پتہ نہ چل سکا اُس وقت وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک تھے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اُن کی گرفتاری کے بعد الطاف حسین نے رحمٰن ملک کی کبھی کسی بات سے انکار نہیں کیاتھا اس کہانی میں جھوٹ اور سچ کی مقدار کا تعیّن تو وقت ہی کرے گا مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ برطانیہ کا عدالتی نظام ابھی اپنے لوگوں کو انصاف فراہم کرتاہے اور الطاف حسین برطانیہ کے شہری ہیں۔ جمائما سے شادی کے بعد عمران خان کو بھی کہا گیا تھا کہ وہ برطانوی شہریت لے لیں مگر انہوں نے یہ کہہ کرانکار کردیا تھاکہ میرے لئے پاکستانی ہونا زیادہ بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میں عمران خان اور الطاف حسین کا موازنہ نہیں کر رہا مگر اس واقعے سے کراچی میں عمران خان کو سیاسی فائدہ ضرور ہوگا۔
mansoor afaq