قبروں کی بے حرمتی
قبروں کی بے حرمتی
نور الدین علی الشافعی نے لکھا ہے کہ’’مشہور مسلمان بادشاہ نورالدین زنگی کو خواب میں بتایا گیا کہ کچھ بدبخت حضورؐ کے مزار مبارک کی بے حرمتی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس عادل بادشاہ نے مدینہ میں آکر خواب کی تعبیر کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ دو عیسائی روضہ مبارک سے کچھ فاصلے پر رہائش پذیر ہیں اور وہ سرنگ لگاکر حضورؐکے جسد مبارک کی بے حرمتی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان عیسائیوں کو حسب جرم سزا دی گئی اور پھر حضورؐکے مزار مبارک کے اردگرد تانبہ اور سیسہ پگھلا کر ایسا پختہ انتظام کر دیا گیا کہ آئندہ کوئی بدبخت مزار مبارک تک نہ پہنچ سکے۔‘‘گزشتہ دنوں راملہ (فلسطین )میں کچھ لوگوں نے ایک پرانے قبرستان پر حملہ کر کے کئی قبروں کا نام ونشان مٹا دیا۔اقصیٰ فائونڈیشن کے مطابق کچھ یہودی شرپسندوں نے المزرعیہ قصبے میں فلسطینیوں کے قدیم قبرستان پر حملہ کیا اور 15 قبروں کو اکھاڑ پھینکا۔ انہوں نے کہا کہ یہودی آبادکاروں کے ایک گروپ کو قبرستان میں کھدائی کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔چند دن پہلے سوات میں چار افراد کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ رات کی تاریکی میں قبریں کھود رہے تھے۔اس سے دو دن پہلے باماخیلا کے قبرستان میں کئی قبریں کھودی گئیں تھیں۔سوات میں قبروں کی بیحرمتی کوئی نئی بات نہیں ۔کچھ عرصہ پہلے بھی چپریال کے علاقے میں کچھ لوگوں نے میاں جب بابا کے قبرستان میں چالیس سے زائد قبروں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔انہوں نے خاص طور پر پکی قبروں کے کتبے توڑے تھے ۔لاشوں اور قبروں کی بے حرمتی کاسلسلہ زمانہ قدیم سے جاری ہے مگر بیسویں صدی میں ایسے واقعات بہت کم نظر آتے ہیں۔لیکن اکیسویں صدی میں یہ قدیم سنگدلانہ رجحان پھر سے سامنے آیا ہے ۔ خاص طور پر پاکستان میں ایسے واقعات پچھلے کچھ سالوں میں بہت زیادہ ہوئے ۔
2005ء میں بری امام کے مزار پر ایک خودکش بمبار نے حملہ کیا تھا جس میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 80 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ 2008 میں فاٹا کے علاقہ میں کچھ شدت پسندوں نے روحانی پیشوا پیر سمیع اللہ کی لاش قبر سے نکال کر اس کی بے حرمتی کی اور اسے ایک عوامی چوک پر لٹکا دیاتھا ۔اسی سال گاؤں شیخاں میں واقع ابو سعید بابا کے مزار پر بھی حملہ کیا گیااور بونیر میں پیر بابا مزار کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کی کوشش کی گئی2009میں انہی لوگوں نے کوہاٹ میں اسٹیشن ہاؤس افسر ریاض بنگش کی قبر کو بم دھماکے سے اڑادیا تھا۔انہی دنوں لنڈی کوتل میں امیر حمزہ خان شنواری (عرف حمزہ بابا) کے مزار پربم مارا گیا جس کے نتیجے میں مزار کا بیرونی حصہ اور پشتون شاعر کے پوتے کی ایک چھوٹی سی دکان تباہ ہو گئی تھی۔اسی سال سترہویں صدی کے عظیم پشتون صوفی شاعر عبد الرحمٰن بابا کے پشاور میں واقع مزار پر بم حملہ کیا گیا۔جولائی 2010 میں تین خودکش بمباروں نے لاہور میں داتا دربار مزار پر حملہ کیا جس میں کم از کم 42 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔پاکپتن میں بابا فرید شکر گنج کے مزار پربم دھماکے سے چھ افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہو ئے۔حیرت اس بات پر ہے کہ اسلام کے تمام مسالک اس موضوع پر متفق ہیں کہ توہین کی نیت سے قبر اکھیڑنا حرام ہے ۔حضورؐ نے قبروں کو بے حرمتی کے طور پر اکھیڑنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ جو شخص کسی مردے کی قبر بد نیتی سے اکھیڑتا ہے تو اسے قطع ید کی سزا دی جائے کیونکہ وہ ایک میت کے گھر میں داخل ہوا ہے۔
ہندومت میں چتا جلانے کی رسم کے آغاز کے متعلق لکھا گیا ہے کہ زمانہ قدیم میں یہ رواج تھا کہ قتل کرنے کے بعدلاش کی بھی بے حرمتی کی جاتی تھی۔ لڑائی میں جب کوئی قبیلہ شکست کھا جاتا تھا تو ہارنے والے قبیلے کی قبریں اکھیڑ دی جاتی تھیں اور جو تازہ لاشیں دفن کی گئی ہوتی تھیں ان کی بے حرمتی کی جاتی تھی اس وجہ سے ایک قبیلے نے یہ طے کرلیا کہ آئندہ وہ اپنے مرنے والوں کو دفن نہیں کریں گے بلکہ جلادیا کریں گے۔قبروں سے میتیں نکالنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔میں ایسا کرنے کے بارے میں سوچتا ہوں تو بدن میں جھرجھری پیدا ہوجاتی ہے۔پتہ نہیں یہ لوگ جو اتنے شقی القلب ہوتے ہیں انہوں نے کیسے زندگی بسر کی ہوتی ہے۔ کیا یہ لوگ انسانیت سے آشنا ہی نہیں ہوئے ہوتے۔اسلام انسانیت کا دین ہے۔ امن اور محبت کا مذہب ہے ۔یہ خیر اور بھلائی کو فروغ دیتا ہے ۔یہ تہذیب اور شائستگی سکھاتا ہے۔ہمدردی اور رواداری کی تعلیم دیتا ہے۔آداب اور اخلاق اس کا زیو ر ہیں۔
حلم اور بردباری اس کا مزاج ہے ۔احسان اور درگزر اس کا رویہ ہے۔حسن سلوک اور صلہ رحمی اس کی عادت ہے۔پتہ نہیں یہ کیسےلوگ ہیں جو قبروں کو اکھاڑتےاور لاشوں کی بے حرمتی کرتے پھرتے ہیں۔پتہ نہیں اُس عظیم المرتبت پیغمبر کو ماننے والے جو چلتے ہوئے کیڑے مکوڑوں کی زندگی کا خیال رکھتے ہیں۔بے گناہوں کو کس طرح قتل کرتے پھرتے ہیں۔یہ سب کچھ میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
mansoor afaq