دیہاڑی دار
دیوار پہ دستک

دیہاڑی دار

دیہاڑی دار کا نام علاءالدین تھا، مگر گاؤں والے اسے صرف ‘علو’ کہتے تھے، اسی ایک لفظ میں اس کی پوری زندگی کا وزن رکھے ہوئے۔ صبح جب سورج ابھی آنکھیں مچلتا تھا تو علّو اپنے پاؤں پتھروں پر گھسیٹتا ہوا سڑک کی طرف نکل جاتا — وہی سِیڑھی جس کے نیچے چائے کا چھوٹا سا ڈکان تھا، جہاں سے وہ دن کی پہلی چائے کا دو گھونٹ لیتا، صبح کی پہلی ہنسی سن لیتا اور پھر مزدوری کے سلسلے کی تلاش میں کھنڈراتی دنیا کی طرف نکل پڑتا۔

اس کی کمر پر سالوں کی لوٹ سیٹ چمٹی رہتی، ہاتھوں پر وہ نقوش جو پتھر، سیمینٹ اور لوہے کی روز مرہ کی جنگ نے بنائے تھے۔ وہ ہر مہینے تقریباً بیس دن کام کرتا، تین سو روپے روزانہ — یہ حساب اس کے لئے مقدر بھی تھا اور سزا بھی۔ گھر آ کر اس کی بیوی چائے کے کپ میں دو چمچ شکر ڈال دیتی، بچے ایک دوسرے کے کندھوں پر سر رکھ کر سوتے رہتے۔ علّو جب اپنی کمائی کو چھنے ہوئے سکوں کی طرح ہاتھ میں لیتا تو ہر سکّہ اس کے لئے کسی کتاب کا باب ہوتا — ایک باب جس میں روٹی، بچوں کی آنکھوں کی دوڑ اور دوا کا حوالہ لکھا ہوتا۔

دن بھر وہ محنت کرتا، مگر اس کی محنت کی قیمت باہر والے دکانوں، کاروباری دفاتر اور پالنے والوں کے ہاتھوں میں چھین لی جاتی۔ ایک دن جب علّو بیمار ہوا، اس نے سوچا کہ شاید پیسے جمع کرکے دوا کروا لے گا، مگر دوا کا لیبل اور ریٹ اس کے خواب کی حد سے کہیں اوپر تھے۔ اسپتال کے دروازے پر ایک آدمی نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر پیسے مانگ لیے۔ علّو نے اپنی جیب سے وہی چند سکے نکال کر تھما دیے جو اس کی پوری امید تھے۔ ڈاکٹر نے ایک کاغذ لکھا، قالین کی طرح مہنگا نسخہ۔ علّو نے گھر جا کر بیوی کے کان میں سرگوشی کی: "عورت، آج بچے روٹی کھالیں، دوا کل کے لیے رکھیں گے” — مگر کل آیا بھی تو دوا کی قیمت نے پھر سے اس کے وعدے کو توڑ دیا۔

یہی روزانہ کا مرثیہ تھا: موتیں دھڑکنوں میں قسطوں کی مانند ادا ہوتی رہیں۔ کبھی کوئی بچہ پیاس کی مارے ہچکیاں لیتا، تو کون جانے؟ شاید وہ سو رہا تھا یا شاید وہ مر رہا تھا — فرق اس کے لئے جزوی اور نامعلوم تھا۔ دیہاڑی داروں کی موت نیتی موت نہیں، وہ آہستہ آہستہ تقسیم کی گئی سزا تھی، جیسے کسی نے زندگی کے حصّوں کو کھرچ کھرچ کر بیچا ہو۔

ایک دن گاؤں میں افسر آیا — سفید شرٹ، پالش کیے ہوئے جوتے، اور وہی نرم گفتار جو بڑے دروازوں کے لئے بنائی جاتی ہے۔ علّو نے سوچا کہ شاید اس افسر سے کچھ امید جڑی رہے — شائد کوئی منصوبہ، شائد کوئی روزگار۔ افسر نے باتیں کیں، کاغذات مانگے، وعدے کیے۔ مگر وعدے وہ عام قسم کے ہوتے ہیں؛ ان میں گرمی، روشنی اور بھوک کا کوئی ذائقہ نہیں ہوتا۔ افسر کے جیب میں کچھ اور تھا: وہی پتّھر جو نظام کی بیخ کنی میں استعمال ہوتا — کرپشن کا چمکتا ہوا نوشتہ۔ علّو نے کبھی نہ سمجھا کہ یہ لفظ ‘کرپشن’ ایک سمندر کا نام بھی ہوتا ہے جس کے کنارے اتنے ਲੋਕ کھڑے ہیں کہ ان کی آہیں ہوا میں اڑ کر کسی اور کے گھر کو سہارا دیتی ہیں۔

رات کو جب علّو کچا کھانا کھا کر بستر پر لیٹتا، اس کی آنکھوں کے سامنے وہی تصویر آ جاتی: بچے، ادھیڑ روشنی میں، ایک پرانا تولہ جو ردی کی دکان سے آیا تھا، ماں کی وہ نرم سی آواز جو بھوک کو سُر دے دیتی۔ اس نے ہمیشہ سوچا کہ کہیں یہ سب خواب تو نہیں، مگر خواب کتنے دن چل سکتے ہیں جب سچّائی روزِ روشن میں اس قدر بے رحم ہو؟

اس گاؤں میں ایک بزرگ تھا، سچا شاعر، جسے سب احترام سے ‘بابا’ پکارتے۔ ایک شام علّو نے بابا کے پاس بیٹھ کر کہانی سنائی — اپنی کہانی، اپنے قرضوں، اپنے بچوں کی آنکھوں کی پیاس۔ بابا نے چوغے کے نیچے سے ایک چھڑی نکالی اور دھیرے سے کہا: "بیٹا، یہ شکوہ نہ کر، بلکہ سوال اٹھا۔ سوال ہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے۔” علّو نے پوچھا: "کس سے سوال کروں بابا؟” بابا نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: "ان سے جن کے جیبوں میں وہ ریت ہے جس سے تمہاری روٹی بنتی ہے؛ ان سے، جن کے ہاتھوں میں قراردادیں اور ٹھیکے ہوتے ہیں؛ ان سے جنہوں نے ریاست کے نام پر خود اپنی دولت بنالی ہے۔”

یہ بات علّو کے دل میں کسی بیج کی مانند اتر گئی۔ اگلے دن اس نے گاؤں کے لوگوں کو جمع کیا۔ اس کی آواز میں وہی سچائی تھی جو کبھی گداز نہ بنے — سیدھی، ٹھیک، اور درد میں نرم۔ "ہم خاموشی میں مرتے رہیں گے؟” وہ بولا۔ "ہم اپنے بچوں کی زندگی قسطوں میں بانٹتے رہیں گے؟” لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر ان آنسوؤں میں غم کے ساتھ کوئی ایسی روشنی بھی تھی جسے پہلے انہوں نے محسوس نہیں کیا تھا: یہ ایک شعور کا جنم تھا۔

گاؤں میں چھوٹا سا جلسہ ہوا۔ علّو نے نہ صرف اپنی کہانی سنائی، بلکہ سوال بھی اٹھائے — کیسے خرچ ہوئے سرکاری پیسے، کس کے ذریعے اشیاء کے ٹھیکے ملے، اور کس نے سیدھے راستے کو بوسیدہ کر لیا۔ یہ سوالات ہوا میں تیرتے رہے اور ایک کی گونج دوسرے کان تک پہنچی۔ کہیں دور شہر میں، کسی دفتر میں، شاید کسی نے یہ سارے سرگوشیوں کو مذاق سمجھا، مگر ایک چیز روشن تھی: اب بات صرف علّو کی نہیں رہی تھی۔ اس کا درد، اس کی آواز، گاؤں کے ہر کونے میں گونج اٹھا۔

وقت نے جب مڑ کر دیکھا تو وہی بڑے لوگ پریشان ہوئے جنہوں نے کبھی کرپشن کے بنجر بیج بوئے تھے۔ عدالتوں کے دروازے کھلے، کبھی قدیم قوانین کو جھنجھوڑا گیا، اور کبھی مضبوط اداروں کو بیدار کیا گیا۔ اس عمل میں بہت خون بہا — مگر یہ وہ خون نہیں تھا جو گولیاں چلاتی ہیں؛ یہ آنسوؤں کا خون تھا، جدوجہد کا خون تھا جو نیا نور لایا۔

سالوں بعد، جب علّو اپنے پاؤں کندھے پہ رکھتے ہوئے بیٹھی زمین پر بچوں کو کہانیاں سناتا، تو اُن کی آنکھوں میں امید کی چمک ملتی۔ گاؤں کی کھڑکیاں کھلنے لگیں، اسکول کی چھتیں رنگین ہوئیں، اور وہی چائے کی دکان جس کے پاس علّو روز صبح کھڑا ہوتا تھا، آج وہاں نوٹوں کے ذکر کے بجائے بچوں کی ہنسی کی آواز گونجتی۔ افراد نے مل کر ‘ضربِ عضبِ معاشی’ جیسے الفاظ جڑ دیے — یہ کوئی تلوار نہ تھی، بلکہ شفافیت، احتساب اور انصاف کا عہد تھا جس نے ظلم کے ستون ہلا دئیے۔

علّو نے زندگی کا بیشتر حصہ کھو دیا تھا مگر اس نے ایک چیز حاصل کی تھی: وہ علم کہ خاموشی میں موت کا مقدمہ تیار ہوتا ہے، اور بولنے سے نئی زندگی جنم لیتی ہے۔ اس کی کہانی اب صرف ایک فرد کی نہیں رہی تھی؛ یہ ایک قوم کی کہانی بن گئی، جس نے فیصلہ کیا کہ دیہاڑی دار اب صرف ایک لفظ نہیں رہے گا — وہ ایک عہد ہوگا، ایک وعدہ کہ کوئی انسان روزِ روشن کی معمولی موت کا وارث نہیں ہوگا۔

اور جب شام ڈھلتی، علّو کبھی ایک پل کی مانند کھڑا ہوتا، horizon کی طرف دیکھتا اور ہنستا — ہنسی میں اس کی جیت کی مٹھاس ہوتی، کیونکہ اس نے سیکھا تھا کہ امید اپنے آپ میں ایک انقلاب ہے، اور چھوٹے چھوٹے انقلاب مل کر ایک نئی صبح لکھتے ہیں۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے