ضرب ِعضب سے گند ھا را آرٹ تک
ضرب ِعضب سے گند ھا را آرٹ تک
منصورآفاق
پاکستان میں سینما کو زوال آیا ۔ تھیٹر بند ہوئے۔ آرٹس سینٹرز نظرانداز کئے گئے۔حکومت کی طرف سے آرٹ کی سرپرستی ختم ہوئی توتنگ نظری کو فروغ ملا۔شدت پسندی کے الائو روشن ہوئے۔معاشرے میں تشدد کا رجحان درآیااور ملک رفتہ رفتہ دہشت گردی کی لپیٹ میں آتا گیا۔خودکش دھماکوں اور بے رحم فساد وںکے شعلے جب اپنے آخر پہنچے تو قدرت نے پاکستان میںجنرل راحیل شریف بھیج دیا۔ہاری ہوئی انسانیت کے دل میں ضرب عضب جیسے کامیاب آپریشن نے امید کی شمع فروزاں کردی۔مگر میں سوچتا تھا کہ جسم سے کینسر زدہ حصہ تو کاٹ دیا گیا ہے مگر ابھی تک اس بات کا تدارک نہیں ہوسکا یہ کینسر دوبارہ ابھر نہیں آئیگا۔اِس مرض کا ایسا کوئی علاج کہیں ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا تھا جو اسے جڑ سے اکھاڑ دے ۔ میری نظراچانک ایک خبر پرپڑی اور دل باغ باغ ہوگیا۔احساس ہوا کہ معاملہ صرف ضرب عضب تک محدود نہیں رہا۔جس شدت پسندی اور تنگ نظری کی کوکھ سے دہشت گردی کا عفریت جنم لے رہا ہے اُس کے خاتمے کیلئے کام کا آغاز ہوچکا ہے ۔ خبر صرف اتنی تھی کہ راولپنڈی آرٹس کونسل میںگندھاراآرٹ کی نمائش ہوئی۔گوتم بدھ کے نادر مجسمے اور بدھا دور کے شاہکار ٹیکسلا سے منگوائے گئے۔نئے فنکاروں کے مجسمے بھی آویزاں کئے گئے۔ مجسمہ سازی گندھارا آرٹ کا اہم حصہ ہے ۔ گندھارا آرٹ سے میری دلچسپی بہت پرانی ہے ۔ مجھے پچپن سے کنول کا پھول اچھا لگتا ہے مگراس بات کا علم مجھے اس وقت ہواجب میں کچھ پروفیسرز کے ساتھ چشمہ جھیل کے قریب قلعہ کافرکوٹ دیکھنے گیاجہاں کچھ سٹوپاز پر بے شمار کنول کے پھول بنے ہوئے تھے کہ یہ کنول کاپھول گندھارا تہذیب کی علامت ہے۔انہی کی یاد میں کبھی میں نے کہا تھا
اب تک کھلے ہیں چشمہ ء دلگیر میں کنول
جیسے کسی زمانے کی تعمیر میں کنول
گندھارامیری آنکھ کے اتنا قریب ہے
لہرا رہا ہے جھیل کی تصویر نے کنول
گند ھا را آرٹ بد ھ مت کے فر و غ کے سا تھ پر وا ن چڑھا ۔ماضی قدیم میں شا ہرا ہِ ریشم کے رستے چین اورہند و ستان آپس میں مر بو ط ہو تے تھے ۔اس وقت یہ شاہراہ افغا نستا ن سے بھی گز رتی تھی ۔ ہندوستانی سیا ح ، تاجراور نقل مکا نی کر نے والے لوگ یہیں سے چین جاتے اور اہل چین کو بد ھ مت سے رو شنا س کر اتے تھے۔یوں بد ھ مت کے سا تھ گند ھا را آرٹ بھی متعارف ہو تا رہا۔ دنیا میں بد ھ کے سب سے بڑ ے مجسمے جو 175 فٹ اور 120 فٹ اونچے تھے ۔با میان کی پہاڑی پر پتھر کا ٹ کر بنا ئے گئے تھے ۔ مغرب کی نظر میں طالبان نے اپنے دور میں انہیں توڑ کربڑی سنگین بدتہذیبی کا مظاہرہ کیا تھا۔پیغمبر ِانسانیت نے صرف اللہ کے گھر سے بت اٹھوائے تھے۔ذراسوچئے یہ بھی تو اسی چارہ سازِ بیکساں کا فرمان ہے کہ دوسروںکے جھوٹے خدائوں کو برا نہ کہو وگرنہ وہ تمہارے سچے خدا کو برا کہیں گے ۔
بات ہو رہی تھی گند ھا را آرٹ کی ۔اس آرٹ میں کلاسیکل رومن آرٹ کے وا ضح اثرا ت بھی ملتے ہیں ۔ بدھ کا چہر ہ ، نا ک اور آنکھیں وغیر ہ یو نا نیو ں کی سی ہیں۔ مجسمہ سا زی میں استعمال ہونے والے مصا لحے اور مجسمے پر جو پا لش کی تہہ چڑ ھا ئی جا تی تھی ،یہ بھی یو نا نیو ں کی عطا کر دہ چیز یں تھیں۔ ایک زمانے میںان مجسمو ں کولباس اور زیورات بھی پہنا ئے جاتے تھے۔اگرچہ گندھارا آرٹ کو بری طرح برباد کیا گیا ہے مگرسب کچھ بر با د نہیں ہو ا۔دنیا میں گند ھا را آرٹ کے مثا لی شا ہکا ر آج بھی موجو د ہیں ۔
مسلمان جب ہندوستان میں آئے تو انہوں نے اِس گندھاراآرٹ کو مسلمان کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ مغل آرٹ اِسی کی ایک ارتقائی شکل ہے ۔مسلمانوں نے آرٹ کی صرف وہاں وہاں مخالفت کی ہے جہاں جہاں اس کا تعلق بت پرستی سے جڑا ہوا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ اس آرٹ کی ترویج میں بت پرستی کا بھی بہت دخل ہے کیونکہ جب کسی فن کا مذہب سے رشتہ جڑ جاتا ہے تو اکثر اوقات دیکھنے میںآیا ہے کہ اس میں لازوال شاہکار جنم لیتے ہیں مگر آرٹ صرف آرٹ ہوتا ہے نظریات سے بہت بالاتر۔نظریات کو اپنے پرچار کیلئے آرٹ کی ضرورت پڑتی ہے آرٹ کو نہیں ۔
سو اس وقت پاکستان میں آرٹ کی ترویج کی اشد ضرورت ہے ۔میرے خیال کے مطابق ہر ضلع کی سطح پر ایک آرٹس کونسل ہونی چاہئے اور ہر تحصیل کی سطح پر ایک آرٹ اکیڈمی انتہائی ضروری ہے۔جہاں نئی نسل کیلئے فنون لطیفہ سیکھنے کی تمام سہو لتیںموجود ہوں۔جیسے الحمرا آرٹس کونسل میں ہیں ۔میں یہاں عطاالحق قاسمی کو داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا انہوں نے پہلے اس بات کو محسوس کرلیا تھا اسی لئے الحمرا آرٹس کونسل کے چیئرمین بن کر ایک طویل عرصے تک آرٹ کی سرپرستی کرتے رہے۔اب وہ پی ٹی وی کے بھی چیئرمین ہیں ۔
توقع ہے کہ اب پی ٹی وی بھی آرٹ اور کلچر کے فروغ میںبھرپور کردار ادا کرے گا۔میرے خیال میں تو اگر آرٹ کلچر اور لٹریچر کی ایک وزارت بنا کر ان کے حوالے کردی جائے تو پاکستانیوں کی آئندہ نسلوں میں دہشت گردی کے جراثیم جنم ہی نہیں لے سکیں گے ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب قویٰ مضمحل ہوجاتے ہیں تو مذہبی رجحان بڑھ جاتا ہےاورقاسمی صاحب کا مذہبی پس منظر بھی ہےلیکن قاسمی صاحب کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کیونکہ ابھی ان میں حسن اور رومانس کو سراہنے کی صلاحیت موجود ہے ۔
mansoor afaq