صبح علامہ اقبال کا یوم پیدائش ہے مگر چھٹی نہیں ہے۔ اُس دن بھی یوم ِ اقبال تھا اور چھٹی بھی تھی ۔اسے مزاراِقبال پسند آیا تھااس نے جتنے مزار بھی ابھی تک دیکھے تھے یہ ان سے مختلف تھا۔اِس مزار کے پہلو میں بادشاہی مسجد تھی جس کے فلک بوس میناراقبال کے شاہینوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے تھے۔ سامنے بارہ دری تھی ۔ پیچھے شاہی قلعہ کا دروازہ تھا۔ مزار کے کونوں میں چارچھوٹے چھوٹے سائبان تھے ہر سائبان کے تلے باوردی سپاہی ایستادہ تھا۔سنگین چڑھی رائفل کے ساتھ۔یہ مزار یقیناََ شام کے بعدکسی اور طرح سے نظر آتا ہو گا مگر اس وقت توسورج پوری طرح ا پنی شعاعوں کے ساتھ تھا۔وہ مزار کے باہرکھڑا تھا۔ پریشان حال تھا۔ مزار کو دیکھ کر اسے کسی انجانے سکون کا احساس ہوا۔اسے یہ سکون پچھلے کئی دنوں کے بعد محسوس ہو ا تھا۔اس کے ساتھ ایک خاتون بھی تھی اسے مزار کے اطراف میں کھڑے سپاہی پسند نہیں آئے تھے۔ وہ دونوںدیور بھابھی تھے۔دوسو میل کا سفر کر کے یہاں پہنچے تھے۔وہ یہ مزار دیکھنے نہیں آئے تھے انہیں شاہی قلعہ میں کسی سے ملناتھا ۔دراصل اس قلعہ میں اُس خاتون الماس کا شوہر قید تھااوران کے پاس قلعہ میں متعین ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے نام کسی کا خط تھا مگر وہ ابھی ڈیوٹی پر نہیں پہنچا تھا۔الماس نے اپنے دیور سے کہا’’ مزار کے اردگرد سپاہی کیوں کھڑے ہیں ۔یہ تو ایک شاعر کا مزار ہے۔کیا اسے بندوقیں دیکھ کر تکلیف نہیںہوتی ہوگی‘‘۔ اسکے دیور وقاص نے ایک بار پھر سپاہیوں کی طرف دیکھا اور کہا’’شاعر نے خودہی تو کہا تھا کہ تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں ۔خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا۔
’’وہ پولیس والا کب تک آئے گا ہم کو جس سے ملنا ہے ‘‘ الماس نے کہا ’’ابھی تو پوچھ کر آیا ہوں۔تم ادھر مسجد کی سیڑھیوں پر جاکر بیٹھ جائو۔ تھک جائو گی‘‘ وقاص بولا
’’پتہ نہیں اس سنگلاخ دیوار کے پیچھے تمہارے بھائی کِس حال میں ہونگے‘‘ الماس یہ کہتے ہوئے بادشاہی مسجد کی سیڑھیوں کی طرف چل پڑی۔اور وقاص مزار کے اندر چلا گیا وہاں کچھ لوگ اور بھی موجود تھے جو فاتحہ خوانی کیلئے آئے ہوئے تھے وقاص نے بھی ہاتھ اٹھادئیے اور اقبال سے کہنے لگا’’میںایک شاعرکا بھائی ہوں اور وہ شاعر تمہاری قبر سے ذرا فاصلے پر شاہی قلعہ میں سچ لکھنے کی سزا کاٹ رہا ہے۔اس کیلئے دعا کی درخواست ہے ۔آنکھوں سے آنسوئوںکے پرندے نکلے اور دعا کیلئے اٹھے ہوئے ہاتھوں پر آکربیٹھ گئے ۔اسے خیال آیاکہ یہ جو میںنے مزارِ اقبال پر دعا مانگی ہے اِسے قبولیت کاشرف مل گیا ہے ۔وہ مزار سے باہر آیااورآہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہی مسجد کی سیڑھیوں کی طرف گیا جہاں اس کی بھابھی بیٹھی تھی ۔جاکر اس کے پاس بیٹھ گیا اور کہا ’’علامہ اقبال سے بات ہوئی ہے۔ انہوں نے فارسی کے دو شعر سنائے ہیں ۔اُن کا مفہوم ہے کہ تیرا دل ایک زرد گھاس کی طرح کیوںلرز رہا ہے۔ اپنی خودی کو پختہ تر رکھ۔تُو مرنے کے بعد بھی زندہ رہے گا‘‘الماس بولی۔’’ اقبال کا اگر اس آمر ضیاسے واسطہ پڑتا تو سب فارسیاں بھول جاتے‘‘
بھابھی کا جواب سن کر وہ وہاں سے اٹھ گیااور سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ مسجد کے صحن میں داخل ہوا۔ خیال آیا یہ اللہ کا گھر ہے کیوں نہ اللہ کی عدالت میں مقدمہ پیش کیا جائے ۔ سننے والا تو صرف وہی ہے پھر یاد آیا کہ میری وہ امی کئی دن سے مسلسل قرآن حکیم پڑھ پڑھ کر اللہ سے اپنے بیٹے کی رہائی کیلئے دعائیں مانگ رہی ہیںجس نے کبھی کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو سنتِ رسول کے خلاف ہو ۔ پھر خیال آیا کہ لبِ فرات جب اسی طرح کا کوئی سلسلہ تھا تو اللہ تعالی نے فوری طور پر کوئی مداخلت نہیں کی تھی۔وہ یہی سوچتا ہوا واپس مزارِقبال کے سامنے آ کھڑا ہوا۔اس کے قریب درخت کے نیچے کوئی فقیر اپنی موج میں اقبال کا یہ شعر پڑھتا جا رہا تھا
خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
وہ فقیر کے پاس ہی زمین پر بیٹھ گیا ۔کافی دیر بیٹھا رہا پھر بھابھی کی طرف چل پڑامگر وہ وہاں نہیں تھی۔ کافی تلاش کے بعد اسے الماس علامہ اقبا ل کے مزار کے اندر مل گئی جہاں وہ رو رو کر دعا کر رہی تھی اتنے میں کچھ سپاہی آگئے انہوں نے سب لوگوں کو مزار سے نکال دیا کہ گورنر پنجاب کسی غیر ملکی مہمان کے ساتھ مزار اقبال پر پھول چڑھانے آرہے ہیںمزار پر پھول چڑھانے کی تقریب ہوئی اور جب گورنر پنجاب واپس جانے لگے تو الماس نے بھاگ کر ان کے پائوں پکڑ لئے۔ سپاہی الماس کی طرف لپکے مگر اس سے پہلے غیرملکی مہمان خاتون نے بڑی شستہ اردو زبان میں الماس کو نیچے سے اٹھاتے ہوئے کہا’’مجھے بتائیے آپ کو کیا پریشانی ہے میںانہیں کہوں گی کہ آپ کو انصاف ملنا چاہئے ‘‘تو الماس نے کہا ’’ میں ایک شاعر کی بیوی ہوں اور میرا شوہر سامنے قلعہ میں پولیس کے تشدد کا شکار ہے ۔۔اس کا جرم صرف سچ لکھناہے۔ پھراس غیر ملکی خاتون کی گہری دلچسپی کی وجہ سے الماس کا شوہر رہا کردیاگیاوہ خاتون جرمن نژاد مشتشرق این میری شمل تھیں۔اُس روز نومبر کی نو تاریخ تھی اور چھٹی تھی کل مگر نہیں ہے ۔اگلے ماہ پچیس دسمبربھی آئے گا کیا اس کی بھی چھٹی نہیں ہوگی