کپکپاتی ہوئی یاد
کپکپاتی ہوئی یاد
کچھ یادیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں اکثر اوقات آنکھیں آنسوؤں سے دھوتی رہتی ہے ، تاکہ کہیں کوئی گزرا ہوا لمحہ وقت کے گرد و غبار میں گم نہ ہو جائے۔۔میں اس وقت انہی کپکپاتی ہوئی یادوں کے دئیے جلا رہا ہوں ، باطنی روشنی کیلئے۔شاید اِسی عظیم یاد نے مجھے روحانی طور پر زندہ رکھا ہوا ہے۔یہی مجھے گیان اور نروان عطا کرتی رہتی ہے وگرنہ پچھلے سات آٹھ سال سے میں جس دنیا میں رہتا ہوں وہاں ماضی عجائب گھروں میں سجا یا ہے اور باطنی روشنی کے بلب شراب خانوں میں جلائے جاتے ہیں اجتماعی بادشاہت کے جزائر ﴿ برطانیہ ﴾ جن کی بہشت گناہ آباد میں ، میں مقیم ہوں وہاں اکثر اوقات گردش ِ سرمایہ سے اکتائے ہوئے دوست احباب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ جو تیرے باطن کی بانسری سے نور و نکہت کے نغمے نکلتے ہیں یہ کہاں سے آئے ہیں۔ بظاہر تو ترے ماضی اور حال میں کوئی ایسا سُر نہیں دکھائی دیتا جس میں روحانیت کا سرگم موجود ہو۔یہ سب کچھ کہاں سے ملا ہے تجھے۔۔۔۔تو مجھے مجبور کہنا پڑتا ہے کہ یہ لازوال گیت ، یہ الوھی نغمے میرے نہیں ہیں میں تو اپنے بھائی محمد اشفاق ؒ چغتائی کے لفظوں کی جگالی کرتا ہوں۔ گذشتہ دنوں مجھ سے ایک ایسے دوست نے سوال کیا جس کے صرف برطانیہ میں کئی ہزار مرید ہیں کہ تم جب بھی اپنے بھائی کا نام لیتے ہو تو اس کے ساتھ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہو کیا تمہارے بھائی کوئی برگزیدہ ہستی تھے۔۔ میں نے کہا ۔یہ تو میں نہیں جانتا مگر میں نے اپنی زندگی میں ان کا کوئی ایسا عمل نہیں دیکھا جو سنتِ نبوی کے خلاف ہو اور مجھے یقین ہے کہ انہیں جاننے والے بھی میری اس بات کی تصدیق کریں گے۔ اسی حوالے داتا گنج بخش کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ کوئی شخص ان کے پاس آ کر سال بھر رہا اور جب جانے لگا تو اس نے داتا صاحب سے کہا کہ میں بڑی امید لے کر آیا تھا مگر سال بھر میں نے آپ کی کوئی کرامت نہیں دیکھی اس لئے واپس جا رہا ہوں تو داتا صاحب نے پوچھا کہ یہ بتاؤ تم نے میرا کوئی ایسا عمل دیکھا ہے جو سنت نبوی کے مطابق نہ ہو اس نے کچھ سوچا اور کہا نہیں تو داتا صاحب نے فرمایا کہ اس سے بڑی اور کوئی کرامت نہیں ہو سکتی۔ مجھ سے اس دوست نے سوال کیا کہ وہ کس کے مرید تھے۔۔ میں نے کہا میں نہیں جانتا اس نے پوچھا ان کا سلسلۂ طریقت کونسا تھا میں نے کہا مجھے یہ بھی معلوم نہیں۔۔
اس پوچھا کہ کہیں سے تو انہوں نے روحانی فیض حاصل کیا ہو گا۔۔میں نے کہا میں صرف اتنا جانتا ہوں جتنا وہ بتا گئے ہیں اور پھر ان کے یہ اشعار انہیں سنا دئیے ابن عربی کی مجالس میں ملاقات ہوئی میرے منصور وہاں آتے ہیں سر مد میرے پیر رومی سے بھی کچھ دیر وہاں بات ہوئی بولتے مجھ سے رہے ہیں جدا ِ امجد میرے کہہ دیا میں نے بھی جو کہنا نہیں تھا مجھ کو کیا کروں حضرت اقبال ہیں مرشد میرے اس نے کہا یہ تو شاعری ہے ان کی زندگی کن لوگوں کے ساتھ گزری تھے۔۔ میں نے کہا ان کی زندگی کا ایک طویل عرصہ مولانا عبدالستار خان نیازی کے ساتھ گزارا تھا اور ان کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت مولانا نیازی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ محمد اشفاق چغتائی ایک سچے عاشق ِ رسول تھے۔جب مجھے وزارت ملی تھی تو انہوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا تھا کہ آپ سرمایہ داروں کی حکومت میں شامل ہو گئے ہیں۔۔ اشفاق ؒ بھائی عمر میں مجھ سے چار سال بڑے تھے۔۔
بچپن سے بہت ذہین تھے ، مذہب سے گہرا لگاؤ تھا اور مجھ سے ہمیشہ نالاں رہتے تھے۔۔ میری مذہبی بے راہ روی کی وجہ سے میں زندگی کے ہر معاملے میں ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتا تھا۔۔ سوائے مذہبی معاملات کے۔۔۔۔ سو شاعری بھی انہی کی پیروی میں شروع کی۔۔ انہوں نے شروع شروع میں مجھے باز آ جانے کی بہت تلقین کی مگر میں بھی بہت ضدی تھا مجبوراً میرا ساتھ دینے لگے۔۔۔۔ میں نے جو پہلی غزل لکھی تھی۔۔ اسکی اصلاح اشفاق ؒ بھائی نے کی تھی اور پھر وہی غزل جب میں نے مشاعرے میں سنائی تو میانوالی کے ایک بزرگ شاعر انوار ظہوری نے کہا ’’ یہ لونڈا اتنی اچھی غزل کس سے لکھوا کر لے آیا ہے ‘‘ میں نے اس وقت تو بزرگ سے کچھ نہیں کہا مگر غصے سے کھولتا ہوا جیسے ہی گھر پہنچا تو اشفاق بھائی کے سامنے اس بزرگ شاعر کی ایسی تیسی کر دی اشفاق بھائی نے میرا غصہ ٹھنڈا کرنے کیلئے مجھے مشورہ دیا کہ شاعر جب کسی کو گالی نکالتے ہیں تو وہ بھی شعر کی زبان میں ہوتی ہے اور پھر مجھے فردوسی کا واقعہ سنایا کہ محمود غزنوی نے اسے شاہنامہ فردوسی لکھنے کا کہا اور ساتھ یہ آفر بھی دی ہے کہ ہر شعر کے عوض اسے ایک اشرفی دے گا فردوسی نے کئی ہزار شعر کہہ دیے مگر محمود نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا جس پر فردوسی کو بہت تکلیف ہوئی اور اس نے محمود غزنوی کی ایک ہجو لکھی جس میں کہا کوؤں کے انڈے بازوں کے نیچے رکھ دئیے جائیں تو کو ے ہی پیدا ہوتے ہیں۔۔ وغیرہ وغیرہ میں نے فوراً اس بات کو گرہ میں باندھ لیا اور فردوسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انوار ظہوری کے خلاف ایک ہجو لکھ دی مگر اب اشفاق بھائی اسے درست کرنے پر تیار نہیں تھے۔۔ گھر میں مسئلہ پیدا ہو گیا۔۔ ہم دونوں میں انتہائی سخت جنگ ہوئی۔۔ معرکۂ پورس و سکندر میں پورس فتح یا ب ہو گیا۔۔
یعنی میں نے زبردستی اشفاق بھائی سے وہ ہجو درست کرالی لیکن جو گالیوں بھرے مصرعے اشفاقؒ بھائی نے اس میں سے نکال دئیے تھے۔۔ ان کا دکھ مجھے آج بھی ہے اس کی چند لائنیں جوا بھی تک یاد ہیں۔۔ اے عدد اے کم نظر اے تنگ دل اے فتنہ خو شرم آتی ہے مجھے ہوتا ہے جب تو روبرو تجھ کو کیوں اکسا رہی ہے تیری یہ زخمی انا چاند پر جو تھوکتا ہے خود بھی ہوتا ہے فنا تو انا کا زخم خوردہ ہے بڑا بیمار ہے تیری ساری شاعری ہر دور میں بے کار ہے شعر وہ کہتا ہے جو ہو درد دل سے آشنا جس کی پلکوں پر سجا ہو کوئی اشک دلربا اور بھی بہت سے شعر تھے آخر شعر یہ تھا۔۔ جس کی سب سسکاریاں یادوں کی ہو جائیں امیں اس سے بہتر تو مری جان کوئی کہہ سکتا نہیں اشفاقؒ بھائی شاعر اور نثر نگار ہونے کے علاوہ بہت اچھے مقرر بھی تھے مجھے یاد ہے کہ جب میں نے سکول میں پہلی تقریر کی تھی۔۔ تو وہ بھی اشفاق ؒ بھائی نے لکھ کر دی تھی۔۔ اس کا ایک جملہ اس وقت بھی میرے دماغ میں گونج رہا ہے ’’ تاریخ کے سینے پہ دستِ تحقیق رکھ کر دیکھئے آپ کو ہر دھڑکن سے چند گھوڑوں کے سموں کے شور میں سینکڑوں بے قرار روحوں کی چیخیں سنائی دیں گی۔۔ اور پھر جب میں سچ مچ کا شاعر ہو گیا تو اشفاق بھائی نے مجھے زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی طرف راغب کیا سودا، میر ، مصحفی ، ذوق درد اور آتش کے اچھے شعر زبانی یاد کر لینے کا مشورہ دیا۔۔ میں نے یہ مشورہ سن کر اشفاقؒ بھائی سے کہا تھا ’’ آپ نے غالب اور اقبال کا نام نہیں لیا ‘‘ تو ہنس کے کہنے لگے ’’ میں جانتا ہوں وہ تمہیں یا د ہیں ‘‘ خاص طور پر جب میں نے انگریزی زبان سیکھنے کیلئے سید نصیر شاہ کے پاس ٹیوشن پڑھنی شروع کی تو میں اشفاق بھائی کیلئے ایک مسئلہ بن گیا۔ سید نصیر شاہ انگریزی کے علاوہ عربی ، فارسی ، اردو پنجابی اور سنسکرت کے عالم تھے۔۔ اور الحاد ان کے رگ و پے میں دوڑتا تھا۔۔
کیمونزم کے بہت بڑے حامی تھے ﴿ اللہ تعالیٰ ان کی زندگی دراز کرے ﴾ وہ میرے اندر آزاد خیالی کی تحریک پیدا کرتے تھے مجھے مذہب کے حوالے سے ایسے سوال سمجھاتے تھے جن کا جواب کسی عالم عالم دین کے بس کا روگ نہیں ہوتا تھا اور میں وہ سوال آ کر اشفاق بھائی سے کرتا تھا وہ میرے سوالات کے جواب ڈھونڈنے کیلئے کئی کئی دن کتابیں پڑھتے رہتے تھے لیکن کسی مسئلہ کی گہرائی میں اتر کر اس کی حقیقت تک ضرور پہنچ جاتے تھے۔۔ سید نصیر شاہ شاعر بھی تھے سو شاعری میں شاہ صاحب کا پلہ بہت بھاری تھا اشفاقؒ بھائی بھی اس سلسلے میں ان سے رجوع فرما لیتے تھے میں نے ایک دن پوچھا ’’ اشفاقؒ بھائی آپ کے نزدیک تو نصیر شاہ صاحب کا فر ہیں شرابی ہیں مگر آپ ان کا اتنا احترام کیوں کرتے ہیں تو کہنے لگے میں ان کے نظریات کا نہیں ان کے علم کا احترام کرتا ہوں اور صرف میں ہی نہیں مولانا عبدالستار خانؒ نیازی بھی جب کبھی سید نصیر شاہ آئیں تو ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔۔ میں نے جب فسٹ ائیر میں داخلہ لیا تو وہ گورنمنٹ کالج میانوالی میں سٹوڈنٹ یونین کے صدر تھے انہوں میری دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے میرے مضامین فلسفہ اور اردو اعلیٰ رکھوا دئیے فلسفے کے پروفیسر دنوں میانوالی سے اپنا تبادلہ کرانا چاہ رہے تھے۔۔ ان کا خیال تھا کہ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی فلسفے کا مضمون کوئی طالب علم نہیں لے گا اور ان کا کسی اور کالج میں تبادلہ ہو جائے گا مگر مجھے دیکھ کر ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔۔ انہوں نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ بہت مشکل مضمون ہے میرے بس سے باہر کی بات ہے مگر مجھے تو سچ مچ فلسفے سے دلچسپی تھی سو میں نے ڈرنے سے انکار کر دیا۔۔
اور انہوں نے غصے میں آ کر کورس کی تینوں کتابیں مبادیات ِ نفسیات ، منطق استخراجیہ اور منطق استقرار یہ ایک ساتھ پڑھانی شروع کر دیں۔۔ منطق سے درس نظامی کی وجہ سے کچھ نہ کچھ میری واقفیت تھی مگر نفسیات میرے لئے بالکل نیا موضوع تھا اشفاق بھائی نے یہ تینوں کتابیں مجھے پڑھانی شروع کیں اور میں حیران رہ گیا کہ اشفاق بھائی کا یہ کبھی سبجیکٹ نہیں رہا تھا۔۔ مگر وہ جس انداز میں مجھے گھر میں پڑھا دیتے تھے میرے پروفیسر کو پریشانی لاحق ہو جاتی تھی اور پھر ایک وقت وہ آیا کہ جب میرے پروفیسر کو کہا گیا کہ آپ کا تبادلہ ممکن ہے تو انہوں نے کہا میں اپنے اکلوتے طلب علم کو راستے میں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا میری زندگی میں ایسا عجیب و غریب طالب علم کبھی نہیں آیا کہ جس میں جو بھی پڑھانے لگتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ پہلے ہی اسے معلوم ہے۔۔ انہیں کیا علم کہ یہ سب میرا نہیں اشفاق بھائی کا کمال تھا میں نے کالج کے دنوں اشفاق بھائی کے ساتھ مل کر ایک رسالہ بھی نکالا تھا جس کا نام ’’ پیغام سروش ‘‘ تھا اس رسالے کی کچھ کاپیاں ابھی تک میرے پاس محفوظ ہیں یقین کیجئے میں اس رسالے کو اب بھی دیکھتا ہوں تو وہ مجھے کسی بڑے علمی و ادبی میگزین سے کم نہیں لگتا۔۔ پھر اشفاق بھائی ایم اے اردو کرنے پنجاب یونیورسٹی لاہور چلے گئے وہاں طلبا کی ایک تنظیم ﴿ انجمن طلبائے اسلام ﴾ کے پنجاب کے ناظم اعلیٰ بنا دئیے گئے مگر طالب علمی کی سیاست میں بھی لکھنے پڑھانے کا رجحان کبھی کم نہیں ہوا۔۔ ایم اے اردو ایم اے اسلامیات کرنے کے بعد انہوں نے ایل ایل بی میں داخلہ لے لیا۔۔ ان دنوں وہاں ان کے پرانے دوست پروفیسر طاہر القادری پڑھایا کرتے تھے طاہر القادری سے ان کی اس زمانے کی دوستی تھی جب وہ گورنمنٹ کالج عیسیٰ خیل میں پڑھاتے تھے۔۔ وہ جب بھی جھنگ سے میانوالی آتے تھے تو ہمارے گھر میں قیام کیا کرتے تھے۔۔۔۔
انہی دنوں جب طاہر القادر ی لائ کالج میں پڑھاتے تھے تو ان کی دوستی نواز شریف کے والد میاں شریف سے ہو گئی اور انہوں نے ان کے گھرکے قریب اتفاق مسجد میں جمعہ پڑھانا شروع کیا کچھ دنوں کے بعد وہاں اتفاق اکیڈمی کی بنیاد رکھی گئی اشفاقؒ بھائی اس سارے عمل میں طاہر القادر ی کے ساتھ تھے اشفاقؒ بھائی اتفاق اکیڈمی کے پہلے ناظم اعلیٰ بنائے گئے تھے۔۔ انہوں نے وہ تمام بنیادیں رکھیں جن پر طاہر القادری نے بعد میں ’’ منہاج القران‘‘ کی عمارت استوار کی۔۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں جب میانوالی سے ان کے پاس لاہور جاتا تھا تو وہ ایک بڑے سے دفتر میں بیٹھے ہوتے تھے نواز شریف جوان دنوں پنجاب کے وزیر خزانہ تھے عصر کی نماز کے بعد روز ان کے پاس آ کر بیٹھتے تھے اور دیر تک اشفاقؒ بھائی کی گفتگو سنتے رہتے تھے۔۔ میاں شریف سے تو ان کی بہت دوستی تھی لیکن رفتہ رفتہ اشفاق بھائی پر شریف فیملی کی سرمایہ دارانہ ذہنیت کھلتی چلی گئی اور وہ ان کے مخالف ہوتے چلے گئے۔۔ اشفاق بھائی کو غصہ کچھ زیادہ آتا تھا ایک دن میاں شریف سے سرمایہ و محنت کے موضوع پر گفتگو ہوئی کہ ﴿ ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات ﴾ میاں شریف کا اس سلسلہ میں یہ نظریہ تھا کہ زکٰوۃ ادا کرنے کے بعد جتنی دولت تھی ہو وہ جائز ہے جب کہ اشفاقؒ بھائی قران کی زبان میں کہتے تھے ﴿ اپنی اوسط ضروریات سے زائد جو کچھ ہے دے دو ان کو جن کا حق ہے ﴾ اور انہیں ایسی آیتیں سناتے تھے۔۔ ﴿ اور جو لوگ مال و دولت جمع کر تے ہیں انہیں خوشخبری سنا دو ایک عظیم عذاب کی جس دن تپائی جائیں گی ان کی پیٹھیں کروٹیں اور پیشانیاں کہ پس چکھو مزا دولت کو سینت سینت کر رکھنے کا ﴾
اور پھر اسی بحث میں ایک دن بات دور تک چلی گئی۔۔ اشفاق نے اتفاق اکیڈمی چھوڑ دی اور پھر ادھر کبھی نہیں گئے۔۔ جن دنوں شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہوتے تھے۔۔ان دونوں میری ان سے ایک محفل میں ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں بتایا کہ میں اشفاق چغتائی کا بھائی ہوں اس پر انہوں نے مجھے بہت عزت دی اور کہا کسی بھی صورت میں اشفاقؒ بھائی کو لے کر میرے پاس آؤ، میں نے اشفاق ؒ بھائی کی بہت منتیں کی مگر انہوں نے اقبال کی زبان میں یہ کہہ کہ انکار کر دیا۔۔ دولت فقر مکر کر نہ سکی اس کو قبول جب کہا اس نے کہ ہے میری خدائی کی زکوٰۃ تصوف سے اشفاق بھائی کو صرف مطالعہ کی حد تک رغبت نہیں تھی۔۔ وہ دنیائے تصوف کی عملی شخصیت تھے محی الدین ابن عربی سے بہت متاثر تھے انہوں نے ایک بار محی الدین ابن عربی کی ایک کتاب شاید ’’ فتوحات مکیہ ‘‘ مجھے پڑھنے کیلئے دی۔۔ میں نے جب کتاب پڑھ کر انہیں واپس دی تو پوچھا ’’ کچھ حاصل ہوا ‘‘ تو میں نے کہا ’’ اور تو خیر کچھ سمجھ میں نہیں آیا البتہ ایک شعر اس کتاب کی وجہ سے ضرور ہوا ہے۔۔ مجھے پسند ہے عورت نماز اور خوشبو انہی کی چھپنا گیا ہے مرے حوالوں سے تو کہنے لگے ’’ جو جس نیت سے کچھ پڑھتا ہے اسے وہی کچھ حاصل ہوتا ہے اور تمہارے ذہن سے ابھی عورت ہی نہیں اتری ‘‘ ساتھ ہی علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھ دیا۔۔
ہند کے شاعر و صورت گرو افسانہ نویس ہائے بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار اور جب سید نصیر شاہ نے مجھے مکمل طور پر اپنے رنگ میں رنگ لیا یعنی میں بھی دہریت کی منزل پر پہنچ گیا تو اشفاقؒ بھائی نے ایک دن مجھے کہا ’’ تم پپلاں جاتے رہتے ہو اب کبھی جانا تو مجھے بھی ساتھ لے جانا میں نے وہاں کسی سے ملنا ہے ‘‘ ﴿ پپلاں میانوالی سے تیس میل دور ایک شہر ہے ﴾ اور پھر ایک جمعہ کے روز میں اشفاق بھائی کو ساتھ لے کر پپلاں گیا تو انہوں نے مجھے کہا کہ میں نے مولانا حضرت مظہر قیوم کی محفل میں صبح ساڑھے نو بجے پہنچ گیا تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد جب ہم وہاں سے اٹھے تو ساڑھے بارہ بج رہے تھے یہ کیا ہوا ایک شخص کی محفل میں تین گھنٹے گزرے اور مجھے یوں لگا کہ میں وہاں صرف آدھا گھنٹہ رہا ہوں میرے لئے بہت حیران کن تھا۔۔ یوں میری اس شخص میں دلچسپی بڑھ گئی اور پھر کئی ایسے مافوق الفطرت واقعات ہوئے کہ جو میری زندگی کا حاصل ہیں اور میں مسلمان ہو گیا۔۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ اشفاق بھائی اس محفل میں اس روز مجھے ہی لے گئے تھے۔۔ ان کا وہاں اور کوئی کام نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ وہی ایک شخص ہیں جو مجھ سے جیسے گم کردہ راہ کو راستے پر واپس لا سکتے ہیں بقول اشفاق بھائی۔۔
عجیب لوگ ہیں بس اک نگاہ سے دل کو مقام عرش علیٰ میں بدل کے دیکھتے ہیں اشفاق ؒ بھائی کے ایک دوست غازی غلام رسول سیالوی ہوتے تھے۔۔ وہ کسی زمانے میں میانوالی بہت آتے تھے۔۔ ان کا قیام بھی ہمارے گھر ہوا کر تا تھا فلسفہ وحدت الوجود کے بڑے پر جوش حامی تھے۔۔ ایک دن اشفاق بھائی نے مجھ سے کہا ’’ غازی صاحب سے کوئی سول کرو ‘‘ میں نے غازی صاحب سے بہت سے سوال کئے وہ ہر سوال کا جواب اتنی آسانی سے دیتے تھے کہ آدمی حیران رہ جاتا تھا کہیں بھی یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ انہوں نے منصور حلاج کی کتاب طاسین کے کئی باب پڑھ دئیے ہیں۔۔ اشفاق بھائی کی ذات میں تصوف کا عملی رجحان بڑھانے میں ان کا بہت ہاتھ تھا بحیثیت انسان بھی غازی صاحب بہت بڑے آدمی تھے مجھے کہا کرتے تھے کہ نماز پڑھا کرو ایک دن میں نے کہہ دیا کہ آج میں بھی نماز پڑھتا ہوں تو فوراً پانی کا لوٹا لے کر آ گئے اور خود مجھے وضو کرایا اور ان کی دوستی میں اشفاق بھائی کے دل و دماغ پر فلسفہ وحدت الوجود کے جو اثرات مرتب ہوئے زندگی بھر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور اشفاق ؒ بھائی ہمیشہ ایک پر جوش وجودی رہے اپنی تحریروں میں بھی۔۔
اور اپنے عمل میں بھی۔۔ ان کے دو شعر دیکھئے۔۔ بے شکل جلوہ گہ کا ٹھکانہ ملے مجھے اشفاق میرا آئینہ خانہ ملے مجھے تُو اپنی اصل سے اشفاق کیوں گریزاں ہے تجھے خدا سے محبت نہیں تعجب ہے عربی شاعری میں اشفاق بھائی کو ابولعلاء معری بہت پسند تھے معری کی کتاب ’’ الزومیات ‘‘ ان کی پسندیدہ کتاب تھی کہا کرتے تھے کہ اس کتاب میں معری نے بڑی جرات مندی کے ساتھ بہت سے الوہی سچ بولے ہیں انہیں معری کا وہ شعر بہت اچھا لگتا تھا جس میں معری کہتے ہیں کہ یہ زندگی ایک کوفت اور تھکن سے بھری ہوئی ہے مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو طویل عمری کے طلب گار ہوتے ہیں وہ اکثر اوقات عربی زبان کا یہی شعر گنگنا یا کرتے تھے عربی زبان کا ایک اور شاعر زہیر بھی انہیں پسند تھا میرے نوجوان شاعر دوست سلیم شہزاد کو صرف اس لئے پسند کرتے تھے کہ وہ عربی نہیں جانتا اور اسکا خیال عربی زبان کے عظیم شاعر زہیر سے جا ٹکرایا ہے زہیر کا کوئی شعر ہے جس میں وہ موت کو اندھی اور پاگل اونٹنی قرار دیتا ہے اور سلیم شہزاد نے بھی تقریباً اردو زبان میں یہی کچھ کہا ہے۔۔ دشت جاں میں تعاقب کر ے کیوں مرا موت وحشت زدہ اونٹنی کی طرح فارسی زبان کے شعراء میں سے اشفاق بھائی کو حافظ شیرازی سے بہت شغف تھا انہوں نے مجھے حافظ کی ایک غزل کا سرائیکی زبان میں ترجمہ کر کے دیا تھا جامی کی بھی کئی نعتوں کے انہوں نے اردو زبان میں منظوم تراجم کئے تھے جامی کے ایک نعتیہ شعر کا ترجمہ مجھے یاد آ رہا ہے۔۔ جس نے دیکھے لب لعلیں تو پکارا دل سے حق نے کیا خوب تراشا ہے عقیق یمنی خیام کی رباعیاں انہیں بہت پسند تھیں کہتے تھے کہ رباعی کا وزن ایسا ہے کہ اس سے لطف اٹھانا آسان نہیں ہوتا مگر عمر خیام کی رباعیوں میں ایسی لذت ہے کہ آدمی یک لخت ایک انجانے سرور سے بھر جاتا ہے۔۔ خود اشفاقؒ بھائی نے بھی بہت خوبصورت رباعیاں کہی ہیں۔۔ سعدی ، فردوسی اور رومی کے بہت قائل تھے رومی کے بارے میں کبھی کبھی سوچتے تھے۔۔ کہ مولائے روم نے مثنوی معنوی میں جب کہیں کوئی جنسی کہانی پیش کی ہے تو بات بہت لطف لے لے کر کیوں ہے۔۔ روش نژاد افسانہ نگار چیخوف اور گورکی کے بارے میں بڑی اچھی رائے رکھتے تھے کہا کرتے تھے مارکس ازم نے دنیا کو اور کچھ دیا ہے یا نہیں ادب عالیہ کے بہت بڑے بڑے شاہکار ضرور دئیے ہیں مارکس کے بارے میں وہ اپنے مرشد علامہ اقبال کے ہم خیال تھے کہ نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارو کتاب یہ بھی سمجھتے تھے کہ اگر سوشلزم میں خدا کو شامل کر لیا جائے تو وہ اسلام بن جاتا ہے۔۔
یونانی فلسفے کے ساتھ ساتھ یونانی دیو مالائی کرداروں سے بھی انہیں بہت شغف تھا وہ افلاطون کی فکر میں قدیم اعتقادات کے ماخذ تلاش کرتے ہوئے اکثر اوقات یونانی دیو مالائی کرداروں پر بحث کیا کرتے تھے۔۔ اشفاقؒ بھائی انتہائی سچے اور کھرے آدمی تھے۔۔ جن دنوں وہ پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو وہاں اسلامی جمعیت طلبہ کے لڑکوں کو ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پسند نہ آئی اور انہوں نے اشفاق بھائی پر قاتلانہ حملہ کیا اشفاق بھائی خاصے زخمی ہو گئے مگر اللہ تعالیٰ نے کرم کیا۔۔ میں اس وقت میانوالی میں ہوتا تھا میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اسلامی جمعیت طلبہ کے دو لڑکوں کو جواباً میانوالی میں بری طرح زد و کوب کیا جب اس بات کا اشفاق ؒ بھائی کو پتہ چلا تو وہ سخت ناراض ہوئے اور ہمیں مجبور کیا کہ ہم ان لڑکوں کے پاس جائیں اور ان سے معافی مانگیں جو ہمیں مانگنی پڑی۔۔ سچ یہ ہے کہ میں بچپن ہی سے ان سے بہت زیادہ متاثر تھا 85ء میں جب میں نے اپنی پہلی کتاب ’’ چہرہ نما‘‘ شائع کی تو اس میں ان کے متعلق بھی ایک مضمون شامل کیا میں نے اس میں لکھا تھا ۔ ’’ میرا عہد اپنے اردگرد بیسیوں زندگیاں بنتا رہتا ہے چہروں پر تہہ در تہہ خول چڑھانے والے لوگ اتنے صورت آشنا ہو چکے ہیں کہ اب ایک ایک غلاظت آلود پتھر خالص سونے کا ڈھلا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن یہ مصنوعی تقدس مآب چہرے اپنی قماش کے دوستوں سے اپنا باطن نہیں چھپا سکتے اور میں نے تو اشفاق بھائی کے ساتھ لڑکپن کو جوانی میں بدلا ہے ان کی پوری زندگی میرے ساتھ بے نقاب ہے اس دوہری اور دوغلی زندگی بسر کرنے والے ظاہر و باطن کے ہولناک تضاد کا شکار عہد میں پھر کوئی ایسی شخصیت جو اندر اور باہر سے ایک ہو تو وہ دور سے نظر آ جاتی ہے سو اس صورت حال میں مجبور ہوں کہ اپنے بھائی محمد اشفاق چغتائی کو ایک عظیم شخص قرار دوں بچپن سے اب تک اس کی رفاقت صداقتوں کی علمبردار رہی ہے۔۔ ہمیشہ اس سے مل کر ایک فرحت کا احساس ہوا ہے۔۔
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ آ پ نے دیکھے نہ ہوں شاید مگر ایسے بھی ہیں میں نے اس کی زندگی کے جس گوشے پر بھی نظر ڈالی ہے وہ مجھے محبوب تر نظر آیا ہے اس کی شخصیت کی بے پناہ جاذبیت اسے ہر محفل میں ممتاز رکھتی ہے۔۔ اس کی شہد آمیز گفتگو کانوں میں رس گھولتی ہے۔۔ لیکن اس کی آواز میں شراب ناب کا خمار نہیں خوابیدہ ذہنوں کو جگانے والی پکار ہے۔۔ اشفاق بھائی ایک اچھا شاعر اور خوبصورت ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سحر بیاں مقرر بھی ہے اس کی گھمبیر آواز چھا جانے کے فن سے پوری طرح آگاہ ہے مت پوچھیے اندازِ گل افشانی گفتار وہ جب بولتا ہے تو شعلہ سا لپک جاتا ہے اس کے باطن میں مراقبوں اور کشفوں کی کیفیات مکمل طور پر دھڑکتی ہیں مضبوط ارادوں اور سچے عملوں والے اس شخص کی آنکھیں ہر وقت مجھے اپنے وجود میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔۔ وہ زندگی سے بھر پور چہرہ زندگی کو کچھ سوچنے پر مجبور کر سکتا ہے۔۔ وقت اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ٹھہر سکتا ہے لمحے رک سکتے ہیں۔۔ وہ اپنے اندر جذبوں کے طوفان رکھتا ہے اس میں کچھ کر گزرنے کی طاقت ہے میں اس کی روح میں اترنا چاہتا ہوں۔۔ مگر جہاں وہ نجانے کب سے جاگ رہا ہے۔۔ جاگتی آنکھوں اور جاگتے خوابوں کی بستی میں رہنے والا وہاں جاگ رہا ہے جہاں کا زار حیات کو پہچاننے والے حیات کا زنداں توڑنے میں مصروف عمل ہیں جہاں سوچ کے مجاہدے زندگی بن کر بکھر رہے ہیں۔۔ وہ محبت کرنے والا آدمی ہے جب کبھی مجھ سے بغل گیر ہوتا ہے تو مجھے اپنے دل کی دھڑکن سنائی دینے لگتی ہے۔۔۔۔ وہ میرا بھائی ہے۔۔ میرا ساتھی ہے۔۔ میرا ہم سفر ہے۔۔ میرا دوست ہے۔
mansoor afaq