دیوار پہ دستک

عمران خان کی دلجوئی کےلئے

عمران خان کی دلجوئی کےلئے

عمران خان صاحب ِ مطالعہ شخص ہیں مگرانہوں نے زیادہ تر کتابیں انگریزی زبان میں لکھی ہوئی پڑھی ہیں۔مجھے یقین ہے میں اس وقت عمران خان کو جس تحریر کی طرف متوجہ کرنا چاہ رہا ہوں وہ ان کی نظر سے پہلے نہیں گزری ہوگی ۔اور یہ توقع بھی ہے کہ یہ تحریر انصاف پران کے غیرفانی اعتماد کواور تروتازہ کردے گی ۔وہ ایک نئی امنگ ، ایک نئی جستجو ،ایک نئے ولولے اور نئے پاکستان کے ایک نئے خواب کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں گے یہ پیراگراف میں نے ابوالکلام آزاد کی کتاب ”قولِ فیصل “ سے لئے ہیں ۔جو ایک مقدمے کے احوال پر مبنی ہے۔ ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں

”عدالت گاہوں نے سب سے زیادہ آسان اور بے خطا ہتھیار کا کام دیا ہے۔ عدالت کا اختیار ایک طاقت ہے اور وہ انصاف اور نا انصافی، دونوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ منصف گورنمنٹ کے ہاتھ میں وہ عدل اور حق کا سب سے بہتر ذریعہ ہے لیکن جابر اور مستبد حکومتوں کے لیے اس سے بڑھ کر انتقام اور نا انصافی کا کوئی آلہ بھی نہیں۔

تاریخِ عالم کی سب سے بڑی نا انصافیاں میدانِ جنگ کے بعد عدالت کے ایوانوں ہی میں ہوئی ہیں۔ دنیا کے مقدس بانیانِ مذہب سے لیکر سائنس کے محققین اور مکتشفین تک، کوئی پاک اور حق پسند جماعت نہیں ہے جو مجرموں کی طرح عدالت کے سامنے کھڑی نہ کی گئی ہو۔ بلاشبہ زمانے کے کے انقلاب سے عہدِ قدیم کی بہت سی برائیاں مٹ گئیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ اب دنیا میں دوسری صدی عیسوی کی خوفناک رومی عدالتیں اور ازمنہ متوسط (مڈل ایجز) کی پراسرار "انکویزیشن” وجود نہیں رکھتیں، لیکن میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ جو جذبات ان عدالتوں میں کام کرتے تھے، ان سے بھی ہمارے زمانے کو نجات مل گئی ہے۔ وہ عمارتیں ضرور گرا دی گئیں جن کے اندر خوفناک اسرار بند تھے لیکن ان دلوں کو کون بدل سکتا ہے جو انسانی خود غرضی اور نا انصاف کے خوفناک رازوں کا دفینہ ہیں ؟

عدالت کی نا انصافیوں کی فہرست بڑی ہی طولانی ہے۔ تاریخ آج تک اس کے ماتم سے فارغ نہ ہو سکی۔ ہم اس میں حضرت مسیح جیسے پاک انسان کو دیکھتے ہیں جو اپنے عہد کی اجنبی عدالت کے سامنے چوروں کے ساتھ کھڑے کئے گئے۔ ہم کو اس میں سقراط نظر آتا ہے، جس کو صرف اس لیے زہر کا پیالہ پینا پڑا کہ وہ اپنے ملک کا سب سے زیادہ سچا انسان تھا۔ ہم کو اس میں فلورنس کے فدا کارِ حقیقت گلیلیو کا نام بھی ملتا ہے، جو اپنی معلومات و مشاہدات کو اس لیے جھٹلا نہ سکا کہ وقت کی عدالت کے نزدیک انکا اظہار جرم تھا۔ میں نے حضرت مسیح کو انسان کہا، کیونکہ میرے اعتقاد میں وہ ایک مقدس انسان تھے جو نیکی اور محبت کا آسمانی پیام لیکر آئے تھے، لیکن کروڑوں انسانوں کے اعتقاد میں تو وہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں ؟ تاہم یہ مجرموں کا کٹہرا کیسی عجیب مگر عظیم الشان جگہ ہے جہاں سب سے اچھے اور سب سے ب ±رے، دونوں طرح کے آدمی کھڑے کئے جاتے ہیں ؟ اتنی بڑی ہستی کے لیے بھی یہ ناموزوں جگہ نہیں !

دنیا میں نیکی کی طرح برائی بھی زندہ رہنا چاہتی ہے، وہ خود کتنی ہی قابلِ ملامت ہو لیکن زندگی کی خواہش کو قابلِ ملامت نہیں۔ ۔ برائی میں کم و کیفیت کے اعتبار سے تقسیم کی جا سکتی ہے لیکن حسنِ قبح کے اعتبار سے اس کی ایک ہی قسم ہے۔ یعنی اس اعتبار سے تقسیم ہو سکتی ہے کہ وہ کتنی اور کیسی ہے ؟ اس اعتبار سے نہیں ہو سکتی کہ وہ اچھی ہے یا بری ہے ؟ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ "زیادہ بری چوری” اور "کم بری چوری” لیکن یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ "اچھی چوری” اور "بری چوری”؟

منصور عباسی ایک دن کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ آواز آئی کہ کوئی شخص دعا مانگ رہا ہے۔ ” خدایا! میں تیرے آگے فریاد کرتا ہوں۔ ظلم غالب آ گیا ہے اور حق اور حقداروں کے درمیان روگ بن گیا ہے۔ ” منصور نے اس شخص کو بلا کر پوچھا۔ "وہ کون ہے جس کا ظلم روگ بن گیا ہے ؟” کہا: "تیرا وجود اور تیری حکومت!

میں جانتا ہوں کہ گورنمنٹ فرشتہ کی طرح معصوم ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے کیونکہ اس نے خطاو ¿ں کے اقرار سے ہمیشہ انکار کیا، لیکن مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس نے مسیح ہونے کا کبھی دعویٰ نہیں کیا۔ پھر میں کیوں امید کروں کہ وہ اپنے مخالفوں کو پیار کرے گی؟ وہ تو وہی کرے گی جو کر رہی ہے اور جو ہمیشہ استبداد نے آزادی کے مقابلہ میں کیا ہے۔ پس یہ ایک ایسا قدرتی معاملہ ہے جس میں دونوں فریق کے لیے شکوہ و شکایت کا کوئی موقع نہیں۔ دونوں کو اپنا اپنا کام کئے جانا چاہئے۔

میرا اعتقاد ہے کہ آزاد رہنا ہر فرد اور ہر قوم کا پیدائشی حق ہے۔ کوئی انسان یا انسانوں کی گھڑی ہوئی بیوروکریسی یہ حق نہیں رکھتی کہ خدا کے بندوں کو اپنا محکوم بنائے۔ محکومی اور غلامی کے لیے کیسے ہی خوش نما نام کیوں نہ رکھ لیے جائیں لیکن وہ غلامی ہی ہے اور خدا کی مرضی اور اس کے قانون کے خلاف ہے۔ پس میں موجودہ گورنمنٹ کو جائز حکومت تسلیم نہیں کرتا۔ روس کے عظیم الشان لیو ٹالسٹائی کے لفظوں میں کہوں گا "اگر قیدیوں کو اپنے ووٹ سے اپنا جیلر منتخب کر لینے کا اختیار مل جائے تو اس سے وہ آزاد نہیں ہو جائیں گے۔

آج جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا فیصلہ کل ہو گا۔ انصاف باقی رہے گا۔ نا انصافی مٹا دی جائے گی۔ ہم مستقبل کے فیصلہ پر ایمان رکھتے ہیں !۔البتہ یہ قدرتی بات ہے کہ بدلیوں کو دیکھ کر بارش کا انتظار کیا جائے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ موسم نے تبدیلی کی تمام نشانیاں قبول کر لی ہیں۔ افسوس ان آنکھوں پر جو نشانیوں سے انکار کریں !

میرا معاملہ پوری مشینری سے ہے۔ کسی ایک پرزے سے نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جب تک مشین نہیں بدلے گی، پرزے اپنا فعل نہیں بدل سکتے۔ میں اپنا بیان اٹلی کے ” قتیل صداقت گارڈینیر برونو” کے لفظوں پر ختم کرتا ہوں، جو میری ہی طرح عدالت کے سامنے کھڑا کیا گیا تھا :”زیادہ سے زیادہ سزا جو دی جا سکتی ہے، بلا تامل دے دو۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ سزا کا حکم لکھتے ہوئے جس قدر جنبش تمہارے دل میں پیدا ہو گی، اس کا عشر عشیر اضطراب بھی سزا سن کر میرے دل کو نہ ہو گا۔” مورخ ہمارے انتظار میں ہے اور مستقبل کب سے ہماری راہ تک رہا ہے۔ اور مستقبل کب سے ہماری راہ تک رہا ہے۔ ہمیں جلد جلد یہاں آنے دو اور تم بھی جلد جلد فیصلہ لکھتے رہو۔ ابھی کچھ دنوں تک یہ کام جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ ایک دوسری عدالت کا دروازہ کھل جائے۔ یہ خدا کے قانون کی عدالت ہے۔ وقت اس کا جج ہے۔ وہ فیصلہ لکھے گا اور اسی کا فیصلہ آخری فیصلہ ہو گا!“

منصور آفاق

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے